پشاور:پشاور ہائی کورٹ میں سڑکوں کی بندش کے خلاف دائر درخواست پر ایک ہی دن میں دوبارہ سماعت ہوئی۔ یہ سماعت جسٹس اعجاز انور اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔
عدالت عالیہ کے حکم پر چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس خیبر پختونخوا عدالت میں پیش ہوئے جن سے جسٹس اعجاز انور نے استفسار کیا کہ کتنے دنوں سے سڑکیں بند ہیں، جس پر آئی جی پی نے بتایا کہ گزشتہ تین روز سے مختلف مقامات پر راستے بند ہیں۔
عدالت نے سوال اٹھایا کہ کیا سڑکوں کی بندش قانون کی خلاف ورزی نہیں؟ آئی جی پی نے جواب دیا کہ بعض مقامات موٹروے کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ پشاور سے باہر جانا مشکل ہو چکا ہے اور وکلاء بھی دیگر اضلاع سے نہیں پہنچ پا رہے۔
جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ صوبے میں پہلے ہی دہشت گردی کا مسئلہ ہے، ایسے میں عوام پر رحم کیا جائے۔ انہوں نے پوچھا کہ کن افراد کے خلاف کارروائی کی گئی ہے، جس پر آئی جی پی نے بتایا کہ 16 میں سے 10 پوائنٹس کھول دیے گئے ہیں۔
عدالت نے پولیس کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جہاں کارروائی نہیں کرنی ہوتی وہاں پولیس تماشائی بنی رہتی ہے اور جہاں چاہیں 3 ایم پی او کے تحت گرفتاریاں کر لیتی ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ حکمران جماعت اپنے ہی عوام کو تکلیف دے رہی ہے۔
جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ لوگ مر رہے ہیں، مگر حکام کو اس کی فکر نہیں۔ انہوں نے حکم دیا کہ آج سے ہی ہر صورت موٹروے اور دیگر سڑکیں بند ہونے سے روکی جائیں۔
آئی جی پی نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ آج ہی سڑکیں کھول دی جائیں گی۔ بعد ازاں عدالت نے درخواست پر سماعت ملتوی کر دی۔


