عقیل یوسفزئی
وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے گزشتہ روز اپنی ٹیمز کے ہمراہ خیبرپختونخوا کے ان مختلف اضلاع کا دورہ کیا جہاں کلاؤڈ برسٹ اور سیلابی صورتحال نے تباہی مچادی ہے ۔ دونوں اہم ریاستی شخصیات نے جن علاقوں کا فضائی اور زمینی دورہ کیا ان میں بونیر ، شانگلہ ، صوابی اور سوات شامل ہیں ۔ اس موقع پر متعدد وفاقی وزراء کے علاؤہ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری ، پشاور کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل عمر بخاری اور صوبائی انتظامیہ کے متعدد اہم عہدے دار بھی موجود تھے ۔
کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل عمر بخاری اور چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ نے مہمانوں کو متاثرہ اضلاع میں ہونے والی جانی اور مالی نقصانات کے بارے میں بریفنگ دی اور ان اقدامات کی تفصیلات پیش کیں جو کہ متاثرین کی مدد اور انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے اٹھائے گئے ہیں یا اٹھائے جائیں گے ۔
وزیراعظم نے اس موقع پر وفاقی حکومت کی جانب سے بعض متاثرین میں امدادی چیک بھی تقسیم کئے جبکہ فیلڈ مارشل نے فوجی افسران اور دیگر سول اداروں کے اہلکاروں کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں متاثرین کی امداد اور انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے ترجیحی بنیادوں پر مشترکہ کوششوں کو عملی جامہ پہنایا جائے گا اور افواج پاکستان اس ضمن میں کلیدی کردار ادا کریں گی ۔ فیلڈ مارشل نے ایک منعقدہ تقریب میں پاک فوج ، پولیس اور ریسکیو کے افسران اور اہلکاروں سے فرداً فرداً ملتے ہوئے ان کی تعریف کی ۔
یہ بات قابل ستائش ہے کہ دونوں ریاستی شخصیات نے ان متاثرہ علاقوں کا خود دورہ کرکے نہ صرف یہ کہ بحالی کی کوششوں اور سرگرمیوں کا خود جائزہ لیا بلکہ صوبے کے عوام اور متاثرین کو یہ پیغام بھی دیا کہ وہ اس تکلیف میں اکیلے نہیں ہیں اور پوری ریاست ان کے ساتھ کھڑی ہے ۔ یہ اس لیے بھی اہمیت کا حامل دورہ تھا کہ خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت حسب سابق اس کارکردگی کا مظاہرہ کرتے دکھائی نہیں دیتی جس کی ضرورت ہے ۔ وزیر اعلیٰ مختلف علاقوں میں خود گئے مگر صوبائی کابینہ کے 90 فی صد ارکان اور نام نہاد عوامی نمائندے لاتعلقی پر مبنی رویے پر گامزن ہیں ۔
بعض اطلاعات کے مطابق ان متاثرہ علاقوں کے پی ٹی آئی کارکنان کے علاؤہ پارٹی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی صوبائی کابینہ کے متعلقہ وزراء اور مشیروں کی عدم موجودگی اور عدم دلچسپی پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے اور انہوں نے بعض کی سرزنش بھی کی ہے کہ وہ اپنے علاقوں سے اس مشکل وقت میں غیر حاضر کیوں ہیں ۔ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کے اتنے اہم دورے کے دوران خیبرپختونخوا حکومت کے کسی اہم سیاسی یا حکومتی کو مدعو نہ کرنا اس حکومت پر عدم اعتماد کا اظہار ہے اور اس جانب اشارہ بھی کہ ریاست کے اہم عہدے داران خیبرپختونخوا کو مزید پی ٹی آئی اور اس کی صوبائی حکومت کی ” رحم و کرم” پر چھوڑنے کا رسک لینے تیار نہیں ہیں ۔
( 21 اگست 2025 )
