Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Thursday, January 29, 2026

ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس پر تجزیہ کاروں کی آراء

عقیل یوسفزئی
نامور اور معتبر تجزیہ کاروں نے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کی پریس بریفنگ کے تناظر میں تحریک انصاف کے ردعمل اور کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ نیکسز کے بیانیہ پر تبصرے کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سال 2026 کے دوران کالعدم گروپوں کے علاوہ پی ٹی آئی اور اس کی صوبائی حکومت کے لیے بھی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا ۔
معتبر تجزیہ کار رضا رومی نے تفصیلی بحث کے دوران کہا کہ پاکستان کی طاقتور عسکری قیادت نے ڈی جی آئی ایس پی آر کے ذریعے پی ٹی آئی اور اس کی صوبائی حکومت کو نہ صرف تنبیہ کی ہے بلکہ باقاعدہ وارننگ دی ہے ۔ ان کے بقول یہ بات تشویش ناک ہے کہ سہیل آفریدی ، شفیع جان اور دیگر اپنے صوبے میں جاری دہشتگردی اور ٹی ٹی پی کی کھل کر مذمت بھی نہیں کرتے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی تمام تر تجربات اور ناکامیوں کے باوجود اب عرب سپرنگ ، بنگلہ دیش کے طرز پر مزاحمت کی پالیسی پر گامزن ہے اور اسی تناظر میں سہیل آفریدی اور دیگر جوانوں کو سامنے لایا گیا ہے ۔
معتبر صحافی رؤف کلاسرا کے بقول پی ٹی آئی اور ریاست کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور مذاکرات وغیرہ کی اطلاعات ، کوششیں پس منظر میں چلی گئی ہیں اور ڈی جی آئی ایس پی آر کے دوٹوک موقف نے بہت سی چیزوں کو واضح کردیا ہے کہ پی ٹی آئی کے لیے مزید سخت اقدامات متوقع ہیں ۔
عمران خان کے کزن اور کالم نگار حفیظ اللّٰہ نیازی نے پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اربوں روپے کی کمائی کا ذریعہ بن گیا ہے اور لگ یہ رہا ہے کہ اب یہ لوگ عمران کے کنٹرول کے قابو سے بھی باہر ہوگئے ہیں اور یہی سوشل میڈیا اس پارٹی کی مزید تباہی کا سبب بنا ہوا ہے ۔
اینکر پرسن نادیہ نقی نے اپنے تبصرے میں کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر پچھلی پریس کانفرنس سے بھی آگے چلتے دکھائی دیے جو اس جانب اشارہ ہے کہ ٹی ٹی پی وغیرہ کے علاوہ پی ٹی آئی اور اس کی صوبائی حکومت کے خلاف بھی مزید ” سختی ” متوقع ہے ۔
پشاور کے باجرات صحافی عارف یوسفزئی نے صوبائی حکومت کے طرزِ عمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت ریاست مخالف پروپیگنڈا کے علاؤہ بیڈ گورننس اور کرپشن کی بدترین صورتحال سے دوچار ہے اور غیر ضروری مزاحمت کی پالیسی پر عمل پیرا ہے ۔
سینئر تجزیہ کار ابصار عالم نے اپنے تبصرے میں اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی مقبول پارٹی کے دعووں کے برعکس تلخی اور کشیدگی کے بعد اب ” پشتون کارڈ” استعمال کرنے لگی ہے جو کہ پاکستان کے علاؤہ خود اس پارٹی کے لیے خطرناک بات ہے ۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس پر تجزیہ کاروں کی آراء

Shopping Basket