عقیل یوسفزئی
گزشتہ دو دنوں کے دوران خیبرپختونخوا کے تین مختلف علاقوں باجوڑ ، بنوں اور شانگلہ میں پولیس اور ایف سی کو بدترین حملوں کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں تقریباً 16 افراد کو شہید کیا گیا جن میں ایک بچی بھی شامل ہے مگر صوبائی حکومت اس عرصے کے دوران بانی پی ٹی آئی کے ” آنکھ ” کے ایشو پر چار دنوں سے سڑکوں پر احتجاج کرنے میں مصروف عمل رہی جس کے نتیجے میں نہ صرف وہ ان حملوں سے لاتعلق رہی بلکہ پی ٹی آئی نے وزیر اعلیٰ کی قیادت میں پانچ چھ مقامات پر اپنے ہی صوبے کو شاہراہوں کے ذریعے دوسرے صوبوں اور علاقوں سے کاٹنے کا عجیب و غریب پریکٹس بھی اپنایا جس کے باعث ہائی کورٹ کو چیف سیکرٹری اور آئی جی پی کو طلب کرکے سڑکیں کھولنے کا حکم جاری کیا ۔
باجوڑ میں بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے ایف سی کے چیک پوسٹ پر خود کش حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں ایک بچی اور 10 سیکورٹی اہلکار شہید ہوگئے ۔ بنوں کے علاقے میریان میں بھی پولیس پر حملہ کیا گیا ۔ شانگلہ کے نواحی علاقے میں 4 پولیس اہلکاروں کو شہید کیا گیا تاہم فورسز نے کارروائیاں کرتے ہوئے مجموعی طور پر 18 سے زائد دہشت گردوں کو ہلاک کردیا جن میں ایک اہم کمانڈر بھی شامل ہے ۔
خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت نے اس ہنگامی صورتحال کو بھی ڈیل کرنے کی بجائے ریاست مخالف پروپیگنڈا کے ذریعے پولیٹیکل پوائنٹ اسکورنگ کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی حالانکہ ان حملوں کے بعد وزیر اعلیٰ کو چیف ایگزیکٹو کے طور پر پشاور آکر حکمت عملی اپنانی چاہیے تھی کہ مزید حملوں کے خطرے سے کیسا نمٹا جائے ۔
اس رویے کے بعد وہ تمام خوش فہمی اور امیدیں پھر سے دم توڑ چکی ہیں جو کہ گزشتہ ہفتے اپیکس کمیٹی کے اجلاس کے بعد وزیر اعلیٰ کے اس بیان کے بعد پیدا ہوگئی تھیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف وہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ایک پیج پر رہ کر اپنا کردار ادا کریں گے ۔ ایک بار پھر یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ پی ٹی آئی اور اس کی صوبائی حکومت کو خیبرپختونخوا کی سیکیورٹی صورتحال بہتر بنانے سے کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔


