عقیل یوسفزئی
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پی ٹی آئی اور اس کی صوبائی حکومت کو دہشت گردوں کی پشت پناہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کو 2021 کے بعد بدترین دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑا مگر صوبائی حکومت نہ صرف فوجی کارروائیوں کی مخالفت اور مزاحمت کرتی آرہی ہے بلکہ یہ حکومت اور پی ٹی آئی افغانستان کی نام نہاد حکومت کی وکالت کرتی رہی ہیں حالانکہ افغانستان کے طالبان پاکستان کے خلاف دہشت گرد گروپوں کی سرپرستی کرتے آرہے ہیں ۔
راولپنڈی میں میڈیا بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ طالبان حکومت اور کالعدم کے ساتھ ماضی میں مذاکرات اور مفاہمت کی پالیسی سابق وزیراعظم عمران خان کی پالیسی تھی کیونکہ اپنے دعوؤں کے برعکس وہ ایک بااختیار وزیر اعظم تھے جنہوں نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا اور ان کی صوبائی حکومت ریاست کے خلاف بیانیہ اور پالیسی پر گامزن ہے ۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سال 2025 کے دوران تقریباً 2500 سے زائد دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا جبکہ اس سال 1200سے ذاید فورسز کے اہلکاروں اور شہریوں کو شہید کیا گیا ۔ ان کے بقول 2025 کے دوران 16 خود کش حملے کیے گئے جبکہ خیبرپختونخوا کے برعکس بلوچستان کی صوبائی حکومت کی کاؤنٹر ٹیررازم پالیسی زیادہ موثر رہی ۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف موقف اپنانے پر اے این پی ، جے یو آئی ، پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ پر حملے کیے گئے مگر پی ٹی آئی اس قسم کے حملوں سے محفوظ رہی کیونکہ یہ پارٹی دہشت گردوں کی سہولت کاری کرتی رہی ہے ۔
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کسی بھی فوجی آپریشن کے لیے قانون اور آئین کے مطابق فوج صوبائی حکومت سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے اس لیے صوبائی حکومت کی مخالفت کے باوجود خیبرپختونخوا میں آپریشن جاری ہیں ۔
ان کی پریس کانفرنس پر تبصرہ کرتے ہوئے سینئر صحافی حسن خان نے کہا ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے نہ صرف افغان عبوری حکومت کو حکومت کی بجائے قبضہ گروپ اور دہشت گردوں کی سہولت کار قرار دیا بلکہ صوبائی حکومت اور پی ٹی آئی کے خلاف بھی عسکری قیادت کے خلاف سخت موقف بھی اختیار کیا جو اس جانب واضح اشارہ ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی کی طرح پی ٹی آئی کے خلاف بھی مزید سخت اقدامات متوقع ہے ۔
سینیر اینکر پرسن عاصمہ شیرازی کے بقول پریس بریفنگ دراصل پی ٹی آئی اور صوبائی حکومت کے خلاف چارج شیٹ تھی ۔ تجزیہ کار حسن ایوب خان کے بقول پی ٹی آئی کے لیے جگہ مزید کم ہوتی دے رہی ہے اور لگ یہ رہا ہے کہ کسی رعایت کا امکان نظر نہیں آتا ۔ ان کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر نے مذاکرات کی اطلاعات کو بھی عملاً مسترد کردیا ہے اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ آئندہ کچھ عرصے میں ریاست کی صف بندی مزید سخت اور مضبوط دکھائی دے گی ۔


