عقیل یوسفزئی
یہ بات قابل افسوس ہے کہ اگر ایک جانب خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور باجوڑ آپریشن کے بعد مزید کئی علاقوں میں آپریشن کی اطلاعات زیر گردش ہیں تو دوسری جانب خیبرپختونخوا کے شمالی اضلاع میں سے کلاؤڈ برسٹ اور سیلابی صورتحال نے تباہی مچادی ہے ۔ گزشتہ روز بندوبستی علاقے صوابی میں بھی ایسی صورتحال پیدا ہوگئی جس کے نتیجے میں کم از کم 18 آفراد کو نگل لیا ۔ حکومتی حکام کے مطابق گزشتہ دو تین دنوں میں خیبرپختونخوا کے 8 اضلاع میں اس سلسلے کے باعث 350 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے ، درجنوں لاپتہ ہیں تو سیکنڑوں زخمی ہوئے ۔ مالی نقصان اور انفراسٹرکچر کی تباہی تو الگ موضوع ہے ۔ تمام ادارے اپنے اپنے طور پر متاثرین کی مدد اور بحالی کی کوششوں میں مصروف عمل ہیں جبکہ نجی شعبے کے مختلف امدادی گروپ بھی سرگرم عمل ہیں تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قدرتی آفات کے باعث بار بار اس طرح کی تباہی پیدا ہونے کے اسباب و عوامل کو کیوں نہیں ڈھونڈا جاتا اور ٹمبر مافیا ، تجاوزات مافیا اور ایسے دیگر مافیاز کے خلاف کارروائیاں کیوں نہیں کی جاتیں جن کے باعث نہ صرف بار بار سیلاب آتے ہیں بلکہ نقصانات کی شدت بھی بڑھ جاتی ہے ۔ تلخ حقائق تو یہ ہیں کہ ہمارے متعلقہ سول ادارے نہ صرف ایسے واقعات کے براہ راست زمہ دار ہیں بلکہ یہ ان مافیاز کے ساتھ ملے ہوئے ہیں ۔ سوات سانحہ کے بعد مختلف اضلاع میں تجاوزات کے خلاف کارروائیاں شروع کردی گئیں مگر ان مافیاز کے دباؤ کے باعث یہ سلسلہ روکنا پڑا ۔
حالیہ تباہی میں ٹمبر مافیا کے ان ” مراکز” نے بنیادی کردار ادا کیا جہاں بہت بڑی مقدار میں بھاری لکڑی ( سلیپر ) رکھی گئی تھی اور کلاؤڈ برسٹ کے نتیجے میں یہ یہ مراکز پانی میں بہہ گئے ۔
عالمی معیار کے مطابق پاکستان کی 25 فی صد رقبے پر جنگلات کا ہونا لازمی ہے مگر دستیاب ڈیٹا اور ماہرین کے مطابق پاکستان میں صرف 5 فی صد رقبے پر جنگلات موجود ہیں اور یہ شرح بھی ٹمبر مافیا کی بے دریغ کٹائی اور اسمگلنگ کے باعث ہر سال کم ہوتی جارہی ہے ۔ بعض معتبر ماہرین موسمیات کے مطابق 2009 کے دوران خیبرپختونخوا کے تقریباً 13 فی صد رقبے پر جنگلات تھے مگر سال 2021 کے دوران اس میں بے پناہ کمی واقع ہوئی کیونکہ ایک تو بے دریغ کٹائی ہوتی رہی اپر سے نئی شجر کاری نہیں کی گئی ۔
اسی طرح قبضہ مافیاز پر بھی ہاتھ ڈالنے سے گریز کی پالیسی اختیار کی گئی جس کے باعث پانی کے قدرتی بہاؤ کا سلسلہ یا تو رک جاتا ہے یا جگہ کم پڑ جاتی ہے جس کے نتیجے میں ہر سیلاب اس نوعیت کی تباہی لے آتا ہے ۔ وقت کا تقاضا ہے کہ مافیاز کے خلاف سخت کارروائیوں کا آغاز کیا جائے ، بلین ٹری سونامی کی تحقیقات کی جائیں اور صوبائی سطح پر شجر کاری کی ایک منظم مہم چلائی جائے ورنہ کلائمیٹ چینج کی تباہ کاریاں نے جو چیلنجر پیدا کیے ہیں ان پر قابو پانا ممکن نہیں رہے گا ۔
