ایبٹ آباد: ورلڈ آٹزم ڈے کے موقع پر کنگسٹن اسکول کے بانی سردار محمد عرفان محمدی سیفی کو چیمبر آف کامرس ایبٹ آباد کے صدر فہیم الرحمن سہگل کی جانب سے ان کی خدمات اور تحقیق کے اعتراف میں شیلڈ پیش کی گئی۔
تقریب کے دوران محمد عرفان نے آٹزم پر اپنی 25 سالہ تحقیق پیش کی، جس میں انہوں نے آٹسٹک بچوں کی تربیت اور بہتری سے متعلق مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے والدین کی رہنمائی کے حوالے سے اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے کہا کہ مناسب توجہ اور مخصوص حکمت عملی کے ذریعے آٹسٹک بچوں میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی تحقیق کے نتیجے میں متعدد والدین نے اس بات کی تصدیق کی کہ ان کے بچوں میں مقررہ مدت کے دوران بہتری دیکھنے میں آئی، جس کے شواہد کے طور پر انہیں سرٹیفکیٹس بھی موصول ہوئے۔
محمد عرفان نے اپنی تحقیق میں آٹزم کو ایک مختلف زاویے سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہوئے ذہنی کیفیت، فریکوئنسی اور وائبریشن جیسے تصورات پر بھی بات کی۔ تاہم ماہرین کے مطابق آٹزم ایک نیورولوجیکل حالت ہے جس کی تشخیص اور علاج کے لیے سائنسی اور طبی طریقۂ کار کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔
تقریب میں شرکاء نے محمد عرفان کی خدمات کو سراہا اور آٹزم سے متعلق آگاہی، تحقیق اور والدین کی مؤثر رہنمائی کی اہمیت پر زور دیا۔ اس موقع پر شیلڈ کی تقریب کی تصاویر بھی جاری کی گئیں جن میں صدر چیمبر آف کامرس فہیم الرحمن سہگل سردار محمد عرفان کو اعزاز پیش کر رہے ہیں۔
مقررین کا کہنا تھا کہ آٹزم کے حوالے سے تحقیق اور معاشرتی آگاہی نہایت اہم ہے تاکہ متاثرہ بچوں اور ان کے اہل خانہ کو بہتر معاونت فراہم کی جا سکے۔

