Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Thursday, June 20, 2024

 کیا وقت سے پہلے عام انتخابات ممکن ہیں؟

 کیا وقت سے پہلے عام انتخابات ممکن ہیں؟

وصال محمدخان

صوبائی اسمبلی کی تحلیل کو7ہفتے گزرچکے ہیں مگرتاحال انتخابات کی تاریخ سامنے نہ آسکی آئینی طورپرچونکہ یہ گورنرکی فرائض منصبی میں شامل ہے کہ اسمبلی کی تحلیل پر وہ 90 روزکے اندرانتخابات کی تاریخ دیں گے اورالیکشن کمیشن اسکے انعقادکویقینی بنائے گا. مگریہاں 18جنوری سے اب تک الیکشن کمیشن اورگورنرکے درمیان خط وکتابت کے دوراؤنڈزہوچکے ہیں نگران حکومت کے معرض وجودمیں آتے ہی جب گورنرپر الیکشن کی تاریخ کے لئے دباؤبڑھنے لگا توانہوں نے الیکشن کمیشن کومراسلہ ارسال کیاجس کے جواب میں الیکشن کمیشن نے بھی مراسلہ بھیجا۔

خط وکتابت کایہ سلسلہ جاری تھاکہ سپریم کورٹ کی جانب سے گورنرکوانتخابات کی تاریخ دینے کاحکم دیاگیا۔جس کے بعدگورنراورالیکشن کمیشن کے درمیان خط وکتابت کے دوسرے راؤنڈکاآغازہواجس کے نتیجے میں بات ملاقات تک پہنچی ۔بہرحال گورنرکیساتھ سیکرٹری الیکشن کمیشن کی سربراہی میں وفدکی ملاقات کابھی کوئی خاطرخواہ نتیجہ برآمدنہ ہوسکااور آئندہ مزیدملاقاتوں پراتفاق کیاگیا۔ا

یک بات توواضح ہے کہ وفاقی حکومت اوراسکے اتحادی صوبائی اسمبلی کے انتخابات عام انتخابات کے ساتھ کرانے کے خواہشمندہیں مگرتحریک انصاف فوری انتخابات چاہتی ہے اس جماعت کامعا ملہ بھی عجب ہے اچھی بھلی چلتی حکومت اور اسمبلی توڑکر انتخابات کی تاریخ کیلئے دربدرماری ماری پھررہی ہے سیاسی حلقے تحریک انصاف کی بچگانہ روش کامذاق اڑارہے ہیں کہ دوتہائی اکثریت والی حکومت خودہی اپنے ہاتھوں ختم کرنے کی حماقت کے بعد الیکشن کی تاریخ کیلئے فریادکناں ہے بلکہ اپنی داڑھی دوسروں کے ہاتھ میں دیکر نوچے جانے پرآہ وبکامیں مصروف ہے۔

تحریک انصاف نے گورنراورالیکشن کمیشن کی ملاقات میں تاریخ سامنے نہ آنے پرایک مرتبہ پھرعدالت سے رجوع کرنے اورگورنرکوتوہین عدالت کامرتکب قرار دلوانے کااعلان کیاہے اب دیکھیں یہ عدالتی جنگ کیارخ اختیار کرتی ہے فِی الْحال ہائیکورٹ نے 16اور19مارچ کوہونے والے24حلقوں پر ضمنی انتخابات ملتوی کئے ہیں مگراراکین قومی اسمبلی کوبحال نہیں کیاگیا۔عدالت نے سپیکرقومی اسمبلی اورالیکشن کمیشن سے ایک ہفتے میں رپورٹ طلب کرلی ہے اس سے قبل سپیکرنے وکیل کے بیرون ملک ہونے پر پندرہ دن کی مہلت مانگی تھی جسے مستردکرتے ہوئے کہاگیاکہ سپیکرکوئی دوسراوکیل کرلیں اگرایک ہفتے کے اندرجواب جمع نہیں کروایاگیاتوعدالت سماعت کرکے فیصلہ سنادے گی۔

تحریک انصاف کے مستعفی اراکین قومی اسملی نے استعفوں کی منظوری کوہائیکورٹ میں چیلنج کیاہے انکے وکلا کاعدالت میں کہناتھاکہ سپیکرنے تصدیق کئے بغیراراکین کے استعفے منظورکئے۔ممکنہ طورپرپنجاب کی طرح یہاں بھی اراکین بحال ہوجائینگے۔ فی لحال انتخابات ملتوی ہونے سے تحریک انصاف کے امیدواروں نے سکھ کاسانس لیاہے کیونکہ وفاقی حکومت اور اتحادیوں نے ضمنی الیکشن میں حصہ نہ لینے کافیصلہ کیاتھا۔ تحریک انصاف کے سابقہ اراکین ہی میدان میں تھے جن کامقابلہ غیر معروف اورچھوٹی جماعتوں کیساتھ تھاپانچ ماہ کی رکنیت کیلئے کوئی بھی خودکو مشقت میں ڈالنے کاروادارنہیں تھا۔ تحریک انصاف اراکین اپنی توانائیاں بے جاصرف ہونے پرتذبذب کاشکارتھے اورانکی شدیدخواہش تھی کہ کسی طرح ضمنی انتخابات ملتوی ہوں۔ لاہورہائیکورٹ کی جانب سے استعفوں کی منظوری کالعدم قراردینے کے بعدیہاں بھی مستعفی اراکین نے ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔ گزشتہ سماعت پرعدالت نے تحریک انصاف اراکین کی خوب کان کھنچائی کی اورکہاکہ آپ لوگوں نے پارلیمان کوبچوں کاکھیل سمجھ لیاہے۔ ادھرپشاورہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کے احکامات کوکالعدم قراردیتے ہوئے بلدیاتی نمائندوں کوبھی بحال کردیاہے۔جسٹس روح الامین اورجسٹس سید ارشادعلی پر مشتمل دورکنی بنچ نے سماعت کی ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کوبتایاکہ آرٹیکل 218کے تحت الیکشن کمیشن کوشفاف انتخابات کے انعقاد کیلئے بلدیاتی ادارے معطل کرنے کااختیارحاصل ہے۔جس پرعدالت نے کہاکہ انتخابات توساراسال چلتے رہتے ہیں توبلدیاتی ادارے باربارمعطل ہوتے رہیں گے،جب بلدیاتی انتخابات ہوئے توقومی اور صوبائی اسمبلی کومعطل کیاگیاتھا؟شفاف انتخابات کے انعقادکویقینی بناناالیکشن کمیشن کاکام ہے جس کیلئے بلدیاتی اداروں کی معطلی ضرور ی نہیں۔

دوسری جانب صوبے میں ایک مرتبہ پھربڑے دہشت گردحملے کاتھریٹ الرٹ جاری کیاگیاہے کاؤنٹرٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری تھریٹ الرٹ میں انکشاف ہواہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے پشاورکے انتہائی حساس مقامات پربڑے حملے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے جس کے مطابق آئندہ دس پندرہ دن میں پولیس کے کسی اجتماعی تقریب،اجلاس،پولیس لائنز،ٹریفک ہیڈکوارٹرز، یاپولیس تنصیبات کونشانہ بنایاجاسکتاہے۔لہٰذاکسی بھی ناخواشگوارواقعے سے نمٹنے کیلئے سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کئے جائیں سیاسی مبصرین کاکہناہے کہ اگر مذکورہ تھریٹ الرٹ حقیقت پرمبنی ہے توان حالات میں انتخابات کاانعقاداورپولیس کیلئے فول پروف سیکیورٹی فراہم کرنا ممکن نہیں ہوگاپولیس جس نے الیکشن کے دوران سیکیورٹی کی ذمہ داری نبھانی ہے وہ خوددہشت گردحملوں کی زدمیں ہے پولیس کامقابلہ جدیدترین اسلحے سے لیس نادیدہ دشمن سے ہے سبکدوش ہونے والے آئی جی بھی پرامن انتخابات کے انعقاداور مطلوبہ تعدادمیں پولیس اہلکارفراہم کرنے سے معذوری ظاہرکرچکے تھے امن وامان کی مخدوش صورتحال کے پیش نظرصوبے میں کسی بھی انتخابات کاپرامن انعقاداگرنا ممکن نہیں توخاصا مشکل ضرورہے۔

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket