5 years of Operation Swift Retort completed

آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کے 5 برس مکمل

پاکستان کی مسلح افواج، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اورسروسز چیفس کی جانب سے آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کے 5 برس مکمل ہونے پر پیغام جاری کیا گیا ہے۔ آئی ایس پی آر نے کہا کہ 27 فروری 2019ء کے تاریخی دن پاکستانی عوام کے عزم اور مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا گیا، پاکستان نے بھارتی سیاسی تحفظات اور انتخابی خدشات کے باعث بلا جواز جارحیت کا جواب دیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ سٹریٹجک دور اندیشی سے امن کی خاطر طیارے کے پائلٹ کی گرفتاری اور مخالف قوت پر غلبہ حاصل کیا گیا، علاقائی سالمیت اور عوام کے خلاف جارحیت کا ہر دفعہ بھرپور جواب دیا جائے گا۔ خیال رہے کہ 27 فروری کے دن کو پاکستان کے عوام سرپرائز ڈے کے نام سے یاد رکھتے ہیں کیونکہ اس دن مشہور آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ انجام پایا تھا، آج سے 5 سال قبل پاکستان میں دراندازی کی صورت میں بھارت کو منہ کی کھانی پڑی تھی۔

پاک فضائیہ کے شاہینوں نے بھارتی فضائیہ کے مگ ٹوئنٹی ون اور سخوئی تھرٹی طیارے مار گرائے گئے تھے، یہی نہیں پاک فوج نے پیرا شوٹ سے اترنے والے اور مقامی افراد کے ہاتھوں زخمی ہونے والے بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو پکڑ لیا اور پھر جذبہ خیر سگالی کے تحت اسے چائے پلا کر رخصت کر دیا تھا۔

New party position of 334 seats in National Assembly after allotment of reserved seats

پختونخواراؤنڈاَپ

وصال محمد خان
پوے ملک کی طرح خیبرپختونخوامیں بھی انتخابات کے بعدحکومت سازی کامرحلہ درپیش ہے۔ تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزادامیدوار دوتہائی اکثریت سے کامیاب ہوئے ہیں مگرتاحال کابینہ ارکان اور حکومت سازی کے حوالے سے کوئی واضح لائحہء عمل سامنے نہ آسکا۔بانی پی ٹی آئی نے ڈی آئی خان سے اپنے دورِحکومت کے وزیرامورکشمیروشمالی علاقہ جات علی امین گنڈاپورکووزارت اعلیٰ کیلئے نامزدکیاہے ۔پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ 90 آزاد ارکان صوبائی اسمبلی بالآخرسنی اتحادکونسل میں شامل ہوگئے۔ جواب قانونی طورپر سنی اتحاد کونسل کے ارکان تصورہونگے۔ جس سے تحریک انصاف تیسری مرتبہ صوبے میں حکومت بنانے کاریکارڈقائم کرنے سے محروم ہوگئی ہے اورجوحکومت معر ض وجودمیں آئے گی وہ قانونی طورپرپی ٹی آئی کی نہیں بلکہ سنی اتحادکونسل کی حکومت ہوگی۔ یہ ممبران اندرسے تحریک انصاف کے ہونگے جبکہ بظاہر قانونی طورپرسنی اتحادکونسل کے ارکان شمارہونگے ۔یہ ایک قسم کی ارینج میرج ہے جس میں دلہن ذہنی طورپر اپنے محبوب کے پاس رہے گی جبکہ جسمانی طورپرنئے گھرمیں ہوگی ۔دوتہائی سے زائدآزادارکان ،اسمبلی میں وجود نہ رکھنے والی جماعت میں با جماعت شامل ہوگئے ہیں جوصوبے کی پارلیمانی تاریخ کاانوکھاواقعہ ہے صوبے میں اس سیاسی جماعت کی حکومت ہوگی جس نے عام انتخابات میں ایک بھی نشست حاصل نہیں کی مگراب وہ نوے نشستوں کی مالک بن چکی ہے۔ اب اگریہ اسمبلی پانچ سال تک چلتی ہے توقانونی اورآئینی طورپراس عرصے میں اسمبلی کے اندر تحریک انصاف کاکوئی وجودنہیں ہوگامگر حکومت اسی کی ہوگی۔اس سے قبل پی ٹی آئی نے اپنے ارکان کی شمولیت کیلئے کئی جماعتوں کیساتھ مذاکرات کئے جن میں وحدت المسلمین، جماعت اسلامی اورپی ٹی آئی پی شامل ہیں جماعت اسلامی کیساتھ مذاکرات تواس سبب ناکام ہوئے کہ جماعت بذات خودمتحرک سیاست کرتی ہے اوراسکااپناآئین ومنشور ہے۔ پی ٹی آئی پارلیمنٹرینزکے ساتھ مذاکرات بھی ناکام ہوئے حالانکہ پرویز خٹک نہ صرف اپنی بنائی ہوئی جماعت کی قیادت سے دستبردارہوئے بلکہ بنیادی رکنیت کوبھی خیربادکہہ دیاجس سے دونوں پی ٹی آئیزکے درمیان معاملات طے پانے کی خبریں سامنے آئیں مگر نومنتخب ارکان کی اکثریت پرویزخٹک اورمحمودخان کی پارٹی میں شامل ہونے سے انکاری تھی۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اتحادسے تحریک انصاف فائدے میں رہتی ۔مگرنومنتخب ارکان اسمبلی خصوصاًنوشہرہ اورمردان سے تعلق رکھنے والوں نے پرویزخٹک اورمحمودخان کے گناہ معاف کرنے سے انکارکیا ان کامؤقف تھا کہ دونوں نے پارٹی کی پیٹھ میں چھراگھونپا ہے ۔دونوں جماعتوں کے درمیان موجودخلیج کے باعث اتحاد کی بیل منڈھے نہ چڑھ سکی ۔پی ٹی آئی کے نامزدوزیراعلیٰ، علی امین گنڈاپور نے انتظامی معاملات میں مداخلت شروع کردی ہے نوشہرہ کے بڑے ہسپتال قاضی حسین احمدمیڈ یکل کمپلیکس میں پرویزخٹک نے من مانی تقرریاں کررکھی تھیں۔ جن سے تحریک انصاف کے نومنتخب ارکان اسمبلی نالاں تھے۔ اسلئے نگران حکومت نے مذکورہ ہسپتال کے بورڈآف گورنرز کوتحلیل کرکے اسے براہ راست محکمہ صحت کی نگرانی میں دے دیاہے ۔مبینہ طورپریہ فیصلہ علی امین گنڈاپور نے کروایا۔ دیگراسمبلیوں کی طرح خیبرپختونخوااسمبلی کااجلاس بھی 29فروری تک منعقدہوناہے گورنرغلام علی 26فروری تک نجی مصروفیات کے سبب صوبے سے باہرہیں اسلئے یہ اجلاس اب 26فروری کے بعدکسی بھی وقت طلب کیاجاسکتاہے ۔علی امین گنڈاپورکی نامزدگی سے صوبے میں یہ تشویش پائی جارہی ہے کہ وفاق اورصوبے کے تعلقات میں کشیدگی کاعنصرنمایاں ہوگا ۔خیبرپختونخواچونکہ پہلے ہی مالی بحران سے دوچارہے اوربسااوقات ملازمین کی تنخواہیں دینے کیلئے حکومت کے پاس رقم موجودنہیں ہوتی۔ تحریک انصاف کی گزشتہ حکومت نے بیشتروقت عمران خان کی مدح سرائی میں گزاردیااگراس وقت کی وفاقی اورصوبائی حکومتیں ذمہ داری کامظاہرہ کرتیں تووفاق سے صوبے کے واجبات واگزارکرائے جاسکتے تھے کیونکہ دونوں جگہ ایک ہی پارٹی کی حکومت تھی مگران دونوں حکومتوں کی ترجیحات میں یہ شامل نہیں تھا۔توقع کی جارہی تھی کہ حالیہ انتخابات کے نتیجے میں کوئی ایسی حکومت بنتی جووفاق کیساتھ بہترتعلقات قائم کرتی مگربدقسمتی سے ایسانہ ہوسکااورجوحکومتیں بننے جارہی ہیں ان کے درمیان تصادم کاخدشہ نظراندازنہیں جاسکتا۔ پی ٹی آئی چیئرمین گوہرخان اور وزارت عظمیٰ کے نامزد امیدوارعمرایوب نے پشاورمیں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاہے کہ جب حکومت ملے گی تووہ تحریک انصاف کے گرفتار کارکنوں اورراہنماؤں کی رہائی کے احکامات جاری کرینگے ۔ان راہنماؤں کے بیانات سے تحریک انصاف کی ترجیحات واضح ہورہی ہیں انکی ترجیح عوامی اورملکی مسائل کاحل نہیں اورنہ ہی انکے پاس اس حوالے سے کوئی پروگرام ہے بس اقتدارمیں آکر9مئی کے ملزمان کورہاکرواناانکی ترجیح ہے یعنی عدالتوں کاکام بھی خودسنبھا لنے کاارادہ ہے۔ جہاں تک نامزدوزیراعلیٰ، علی امین گنداپورکاتعلق ہے توانہوں نے ایک ترجیحی لسٹ جاری کی ہے جس کے مطابق حکومت تشکیل پانے کے بعدلنگرخانے اورصحت کارڈدوبارہ شروع کئے جائیں گے ،امن وامان کی صورتحال بہتربنائی جائیگی اوروفاق سے اپنے واجبات اگرنہ ملے توچھینے جائیں گے۔سپیکراسمبلی کیلئے پی ٹی آئی راہنماؤں کے درمیان رسہ کشی جاری ہے سپیکرمشتاق غنی دوسری مدت کیلئے عہدے پرفائزرہنا چاہتے ہیں جبکہ اسدقیصرنے عمران خان سے ملاقات کرکے سپیکرشپ اپنے بھائی عاقب اللہ کیلئے حاصل کرلی ہے ۔صوبے کوایک سال بعد اسمبلی ملی ہے جبکہ تیرہ ماہ بعدمنتخب حکومت ملنے جارہی ہے ۔وفاق میں نئی حکومت بننے کے بعدگورنرغلام علی کی رخصتی بھی یقینی ہے وفاق میں پاورشیئرنگ فارمولے کے تحت خیبرپختونخواکے گورنرکا تعلق پیپلزپارٹی سے ہوگا جس کیلئے موجودہ صوبائی صدر محمدعلی شاہ ،سابق صوبائی صدورظاہر شاہ اورہمایوں خان سمیت امجدآفریدی اورفیصل کریم کنڈی کے نام لئے جارہے ہیں ۔اے این پی نے انتخابات میں دھاندلی کے خلاف جس تحریک کااعلان کیاتھااس کے تحت تاحال صوابی اور چارسدہ میں احتجاجی جلسوں کاانعقادکیاگیا ہے جس سے خطاب کے دوران صوبائی صدرایمل ولی خان،امیرحیدرہو تی اوردیگرقائدین کا کہناتھا۔کہ انتخابی دھاندلی کے ذریعے ان کا مینڈیٹ چرایاگیاہے جس کی واپسی تک تحریک جاری رہے گی ۔ صوبائی اسمبلی سے جن جماعتو ں کاصفایاہوا ہے ان میں آفتاب شیرپاؤکی قومی وطن پار ٹی ،پاکستان تحریک انصاف اورجماعت اسلامی شامل ہیں ۔جبکہ اے این پی کوایک اورپی ٹی آئی پی کودو نشستیں ملی ہیں ۔جے یوآئی اورمسلم لیگ ن کی سات سات نشستیں ہیں قائدایوان کے باقاعدہ انتخاب پراپوزیشن لیڈر کیلئے دونوں کے درمیان جوتیوں میں دال بٹنے کاخدشہ ظاہرکیاجارہاہے ۔ اپوزیشن لیڈرکوچونکہ صوبائی وزیرکے مساوی مراعات حاصل ہوتی ہیں اسلئے جے یوآئی اکرم درانی کوجبکہ ن لیگ اپنے رکن کواپوزیشن لیڈربنوانے کی خواہاں ہے ۔اکرم درانی 2008ء سے2013ء اور2018سے 2023تک عہدے پرفائزرہ چکے ہیں۔ پیپلزپارٹی ،اے این پی اور پی ٹی آئی پی کے7 ارکان جس پلڑے میں اپنا وزن ڈالیں گے وہی اپوزیشن لیڈرہوگا۔

imran khan letter to IMF

آئی ایم ایف کوخط

وصال محمد خان
پی ٹی آئی نے عام انتخابات میں ناکامی کے بعدآئی ایم ایف کوخط لکھنے کافیصلہ کیاہے ۔یہ بات پارٹی کے سینیٹر اورچیئرمین شپ کے نئے امیدوارعلی ظفرنے میڈیاسے گفتگوکے دوران بتائی ۔ان کامزیدفرماناتھاکہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے سے خط میں مطالبہ کیاجائیگا۔کہ وہ پاکستان کیساتھ کسی معاہدے کوانتخابات کے آڈٹ سے مشروط کردے ۔جب سے ملک بھر میں عام انتخابات کاانعقادہواہے تب سے پی ٹی آئی نے دھاندلی الزامات کی گردان شروع کردی ہے یہ الزامات چونکہ بے سروپا،لغواوربے بنیادہیں مگرتحریک انصاف کاپراناوطیرہ رہاہے کہ وہ کسی بھی الزام ،بہتان اوردشنام طرازی کوسچ کے لبادے میں لپیٹنے کیلئے اس کابے پناہ پروپیگنڈاکرتی ہے اورایساشوروغل مچایاجاتاہے کہ جھوٹی بات سچ نظرآنے لگتی ہے۔ یہی صورتحال حالیہ انتخابات کے حوالے سے بھی درپیش ہے ۔تحریک انصاف کوایک صوبے سے فقیدا لمثا ل کامیابی ملی ہے مگرملک کے دیگرحصوں میں اسکی کارکردگی کاوہ معیاربرقرارنہ رہ سکاجس کی اسے توقع تھی ۔اوراس توقع کی بنیادخیبر پختونخوا ہے جہاں سے اسکے آزادامیدواروں نے نہ صرف صوبائی اسمبلی میں دوتہائی سے زائدنشستیں حاصل کیں بلکہ قومی اسمبلی کی44 میں سے37نشستیں بھی اسکے ہاتھ آئیں ۔مگراسے پنجاب سے وہ کامیابی نہ مل سکی جس کے بل بوتے وہ پنجاب یاوفاق میں حکومت سازی کر سکے جس پر دھاندلی کاواویلاشروع کردیاگیا ہے۔ جوتحریک انصاف کاآزمودہ وطیرہ ہے درحقیقت خیبرپختونخواکے سادہ لوح ووٹرزپی ٹی آئی پروپیگنڈے کاشکارہوگئے ورنہ اسکے پاس ٹرینڈزچلانے کے سواکوئی پروگرام یااہلیت موجودنہیں ۔قومی اسمبلی میں 90سے زائدنشستیں مل چکی ہیں مگردعویٰ180نشستوں کاہورہاہے جسے دیوانے کی بڑ قراردیاجاسکتاہے۔حسب سابق ٹی ٹاک شوزاورسوشل میڈیاپرمنہ سے جھاگ اڑاتی اورچیختی چھنگاڑتی تقریریں دوام پذیرہیں مگرکسی متعلقہ فورم پردھاندلی کے ثبوت پیش نہیں کئے جارہے ۔کمشنرراولپنڈی کی پریس کانفرنس کوبطورثبوت پیش کرنے کی کوشش ہوئی مگراس غبارے سے بھی جلدہی ہوانکل گئی ۔بین الاقوامی میڈیاکے ان لکھاریوں کی تحریروں کو بھی ثبوت قراردیاجارہاہے جنہیں بھاری رقم کے عوض من پسندتجزئے پیش کرنے کیلئے ہائیرکیاگیاہے ۔ملک میں ہنگامہ آرائی برپا کرنے کے باوجودان لغویات کوپزیرائی نہ مل سکی جس پرآئی ایم ایف کوخط لکھنے کابھونڈافیصلہ کیاگیا۔آئی ایم ایف اگرپاکستان کوقرض رقم دینے سے انکارکردے تواس کے بداثرات سے ملک کابچہ بچہ آگاہ ہے ۔پاکستان پہلے ہی تحریک انصاف کی احمقانہ طرزحکومت سے مالی مشکلات کاشکارہے اوراگرآئی ایم ایف سے قرضہ نہ ملتاتوخدانخواستہ ملک ایک سال قبل ہی دیوالیہ ہوچکاہوتا۔آئی ایم ایف سے قرض کوئی بھی ملک برضاورغبت نہیں لیتابلکہ باامرمجبوری سخت ترین شرائط پرآمادگی ظاہرکی جاتی ہے جس کاپی ٹی آئی کوبھی اچھی طرح تجربہ ہوچکاہے عمران حکومت نے بھی آئی ایم ایف کی کڑی شرائط قبول کی تھی حکومت جاتی دیکھ کران پرعملدرآمدسے گریزکیاگیاجس کے نتیجے میں آئی ایم ایف نے اگلی قسط روک لی ۔پی ڈی ایم حکومت نے کڑی شرائط مان کریہ قسط بحال کروالی اورملک کودیوالیہ پن سے بچالیامگراسکے نتیجے میں مہنگائی کاجوطوفان آیااس نے پی ڈی ایم جماعتوں کوسیاسی طورپرناقابل تلافی نقصان سے دوچارکیا اگرپی ٹی آئی کی لاابالی حکومت آئی ایم ایف سے کئے گئے معاہدے پرعملدرآمدسے پہلوتہی اختیارنہ کرتی تومہنگائی کایہ طوفان نہ آتا ۔آئی ایم ایف کیساتھ معاہدے سے انحراف نے پاکستانی معیشت کاتیاپانچہ کردیا ۔اسکے بعدعمران دورکے وزیرخزانہ شوکت ترین نے پنجاب اورخیبرپختونخواکے وزرائے خزانہ کو آئی ایم ایف کیساتھ تعاون نہ کرنے ہدایت کردی اب ایک مرتبہ پھرملک دشمنی کاثبوت دیتے ہوئے آئی ایم ایف کوخط لکھنے کے مکروہ عزائم کااظہار کیاگیاہے۔ آئی ایم ایف کی جانب سے نئی حکومت کیساتھ کام کرنے کاعزم ظاہرکیاگیاہے ۔مگرخدانخواستہ اگرآئی ایم ایف پاکستان کومز یدقرض دینے سے انکارکردے توپاکستان دیوالیہ ہوجائیگااوردیوالیہ پن کے بداثرات عوام کوہی بھگتنے پڑیں گے ۔25کروڑکی آبادی والا ملک اگردیوالیہ ہوجائے توکوئی بعیدنہیں کہ اسکے گلی کوچوں میں لاشوں کے ڈھیرلگ جائیں اوردفاعی طورپرکسی دشمن کوجواب دینے کے قابل نہ رہے ۔تحریک انصاف نے ایک مرتبہ پہلے بھی ملک کواس نہج پرپہنچانے کی کوشش کی تھی جوپاکستان کے تمام سیاسی جماعتوں نے ناکام بنا دی ۔اب وہ ایک مرتبہ پھراسی مکروہ فعل کی انجام دہی کیلئے کوشاں ہے جواس نام نہادسیاسی جماعت کی ملک دشمنی کامظہر ہے ۔ سیاسی لبادہ اوڑھے اس متشددگروہ کے خیال میں پاکستان پرحکمرانی کاحق صرف اسے حاصل ہے اوراگراس کایہ حق تسلیم نہیں کیاجاتاتوملک جائے بھاڑ میں تباہ ہوجائے اسکی بلاسے ۔ یہ روئیے کسی طورحب الوطنی پرمبنی نہیں بلکہ یہ ملک دشمن روئیے ہیں ریاستی اورحکومتی اداروں کواس نارواروش کی روک تھام کیلئے اقدامات لینے کی ضرورت ہے آئی ایم ایف کوخط لکھناتودرکنار اس بیانئے کی ترویج وتشہیرکرنے والوں کاکڑامحاسبہ ہونا چاہئے اسی ملک کاکھانے والے اوراسی پر حکمرانی کے خواب دیکھنے والے اقتدارکی لالچ میں ملک کی تباہی کے درپے ہوچکے ہیں ۔ اقتدارکی اندھی خواہش نے ان سے قومی اداروں پرحملے کروائے ،جعلی فارم 45بنوائے ،کمشنرراولپنڈی کوٹریپ کیاگیا ،سائفرکومرضی کارنگ دیکر سیاست چمکائی گئی ۔تمام حربے آزمانے پربھی دلی مرادبرنہ آئی توآئی ایم ایف کوخط لکھنے کاشوشہ چھوڑاگیا۔خداہمیں آئی ایم ایف کے چنگل سے نجات دلائے مگرفی الحال اسکے سواچارہ نہیں کیونکہ دوست ممالک بھی آئی ایم ایف اصلاحات پرعمل درآمدکامشورہ دے رہے ہیں۔

Reasons, Factors for Reduction in Terrorist Acts

دہشت گرد کارروائیوں میں کمی کے اسباب، عوامل

عقیل یوسفزئی
یہ بات کافی حد تک خلاف توقع لگ رہی ہے کہ 8 فروری کے عام انتخابات کے بعد خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دو ڈھائی برسوں سے چلی آنیوالی بدترین دہشت گردی میں غیر معمولی کمی واقع ہوئی ہے اور اس پر عام لوگوں کے علاوہ دہشت گردی پر کام کرنے والے ماہرین اور تجزیہ کار بھی حیرت کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ الیکشن کے انعقاد سے ایک آدھ دن قبل بلوچستان کے 3 اضلاع میں تین بڑے حملے کئے گئے جن کے دوران دو پارٹیوں اور امیدواروں کے دفاتر کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں تقریباً 50 لوگ شہید اور شدید زخمی ہوگئے۔ اس سے چند روز قبل بلوچستان کے علاقے مچھ میں بڑے پیمانے کا ایک حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں 6 سیکورٹی اہلکار اور 2 شہری شہید ہوئے۔ فورسز کی جوابی کارروائیوں میں تقریباً 30 بلوچ شدت پسند ہلاک کردیے گئے۔ اسی طرح انہی دنوں خیبرپختونخوا کے علاقے ڈی آئی خان میں پولیس پر بھی شدید نوعیت کا حملہ کیا گیا جس کے باعث متعدد پولیس اہلکار شہید ہوئے تاہم اس تمام عرصے کے دوران دونوں شورس زدہ صوبوں میں فورسز کی جانب سے انٹلیجنس بیسڈ آپریشن جاری رہے اور جنوری ، فروری کے مہینوں میں صرف وزیر ستان ، ٹانک ، بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان میں فورسز نے تقریباً 26 انٹلیجنس بیسڈ آپریشن کیے۔
دہشتگری پر کام کرنے والے ماہرین کے مطابق ماضی قریب کے لاتعداد حملوں کے برعکس سال 2024 کے ابتدائی دو مہینوں کے دوران حملوں کی تعداد میں غیر معمولی کمی واقع ہونے کے متعدد اسباب ہوسکتےہیں تاہم سب سے بڑی وجہ یہ بتائی جاسکتی ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان انتخابات کے بعد قایم ہونے والی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مجوزہ پالیسی یا طرزِ عمل کا مشاہدہ اور انتظار کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا رہی۔ ان کے بقول خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی ایک بار پھر صوبائی حکومت کے قیام کے باعث ان کو ماضی کی طرح بعض رعایتیں مل سکتی ہیں اور حملہ آور گروپ اس مجوزہ حکومت کے قیام کے بعد کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان اس وقفے سے فایدہ اٹھانے کی پالیسی کے تحت اپنی تنظیمی اور جنگی حکمت عملی کی از سر نو ترتیب کی کوشش میں مصروف عمل ہیں۔ جبکہ بعض کے مطابق حملوں میں کمی سیکورٹی فورسز کی مسلسل کارروائیوں کے باعث ممکن ہوئی ہے۔
باخبر نوجوان صحافی عرفان خان کے مطابق حملوں میں کمی واقع ہونے کے متعدد اسباب ہیں۔ ان کے بقول کالعدم تحریک طالبان پاکستان کو تنظیمی طور پر شدید نوعیت کے اختلافات کا سامنا ہے اور سب سے بڑے گروپ کے سربراہ کی قیادت اور پالیسیوں پر سخت اعتراضات کیے جارہے ہیں۔ ان کے بقول اختلافات کے علاوہ فورسز کی مسلسل کارروائیوں اور مربوط طریقہ کار نے بھی حملہ آور گروپوں کی طاقت اور صلاحیت کو سخت نقصان پہنچایا ہے اور یہ کارروائیاں کسی وقفے کے بغیر جاری ہیں۔ ان کے مطابق اس پیشرفت یا صورتحال کے باوجود یہ یقین کے ساتھ یہ توقع نہیں رکھی جاسکتی کہ مستقبل میں بھی یہ صورت حال جاری رہے گی کیونکہ بعض حلقوں کے مطابق تحریک طالبان پاکستان اور بعض دیگر گروپ انتخابات کے بعد ” ویٹ اینڈ سی ” کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں اور ان کو یہ امکان بھی نظر آرہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی جو حکومت قائم ہونے جارہی ہے اس کے دوران انہیں ماضی کی طرح بعض رعایتیں مل جائیں حالانکہ اب حالات میں پالیسی کے تناظر میں بہت تبدیلی واقع ہوئی ہے اور موجودہ ملٹری لیڈرشپ دہشت گردی کے معاملے پر زیرو ٹاولرنس کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔

Conducting a training program for Afghan refugee children

افغان مہاجرین بچوں کیلئے تربیتی پروگرام کا انعقاد

ایبٹ آباد چائیلڈ پروٹیکشن یونٹ ایبٹ آباد کے زیر اہیمام Unicef کے تعاون سے 21 تا 23 فروری کو والدین و بچوں کی ابتدائی تربیت پر 3 روزہ تربیتی پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ تربیتی پروگرام (پنیان، پڈھانہ اور بسو میرا) میں منعقد ہوئی۔ جس میں کنسلٹنٹ Unicef ڈاکٹر حبیب  اور مسٹر گل واحد نے مردوں کو تربیت دی۔ جبکہ مسز ساجدہ ملک اور ساجدہ خان نے ریسورس پرسنز کی حیثیت سے عورتوں کو تربیت دی۔ علاوہ ازیں سی آئی آر ڈی ہریپور نے چائیلڈ پروٹیکشن ایبٹ آباد کو تربیتی پروگرام کو بہتر طریقے سے سر انجام دینے میں معاونت فراہم کی۔ تربیتی پروگرام افغان کمیونٹی میں بچوں کی نشونما، ذ ہنی نشونما، بچوں کو پالنے کے حوالے سے آ گاہی دی۔ اس تربیتی پروگرام سے والدین بچوں کو پالنے میں بہتری آئے گی اور افغان مہاجر کمیونٹی میں بچوں کے دکھ کو کم کرنے میں مد د ملے گی۔

Big reward for Javed Afridi's captain Babar Azam

جاوید آفریدی کا کپتان بابر اعظم کے لیے بڑا انعام

پشاور زلمی کے چیرمین جاوید آفریدی کا کپتان بابر اعظم کے لیے بڑا انعام, اسلام آباد کے خلاف شاندار سینچری بنانے پر بابر اعظم کے لیے گاڑی کا اعلان کیا۔ پشاور زلمی کے چیرمین جاوید آفریدی نے بابر اعظم کے لیے شاندار ایم جی ایسنس گاڑی انعام دیدی۔

پی ایس ایل نائن ایڈیشن. پشاور زلمی نے ایک بہت ہی سنسنی خیز مقابلے کے بعد اسلام آباد ہوناٹیڈ کو ہرادیا. کھیل اس وقت س دلچسپ مراحل میں داخل ہوا جب اسلام آباد کی ٹیم میچ جیت کے بہت قریب پہنچ چکی تھی کہ پشاور زلمی کے باؤلر نے ایک آور میں چار کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی. پشاور زلمی کےعارف یعقوب کی شاندار بولنگ کے بدولت اسلام آباد یونائیٹڈ کو 8 رنز سے شکست دے دی۔