یکم جولائی سے اب تک کے دوران 61 افراد جانبحق جبکہ 102 افراد زخمی ہوئے. پی ڈی ایم اے

پی ڈی ایم اے کی جانب سے گزشتہ ماہ یکم جولائی سے شروع ہو نے والی مون سون  بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث اب تک کی جانی اور مالی نقصانات کی رپورٹ جاری ۔حالیہ بارشوں کے باعث حادثات کے نتیجے میں یکم جولائی سے اب تک کے دوران 61 افراد جان بحق جبکہ 102 افراد زخمی ہوئے۔ پی ڈی ایم اے رپورٹ کے مطابق جاں بحق افراد میں 22 مرد 12 خواتین اور 27 بچے جبکہ زخمیوں میں 36 مرد  26 خواتین اور 40 بچے شامل ہیں۔بارش کے باعث مجموعی طور پر 704 گھروں کو نقصان پہنچا ۔جس میں 501 گھروں کو جزوی جبکہ 203 گھروں کو مکمل نقصان پہنچا۔تیز بارشوں کے باعث جانی و مالی حادثات صوبہ کے مختلف اضلاع چترال اپر و لوئر، مانسہرہ، اپر کوہستان ملاکنڈ، دیر لوئر، شمالی و جنوبی وزیرستان، ٹانک، کرک اور چارسدہ،  مردان ، صوابی، باجوڑ، ہنگو، مہمند، بونیر، شانگلہ میں رونما ہوئے۔تیز بارشوں، سیلابی صورتحال اور نقصانات کے پیش نظر محکمہ ریلیف کی جانب سے چترال اپر میں 30 اگست تک ایمرجنسی نافذ۔بارشوں کے باعث نقصانات کے پیش نظر پی ڈی ایم اے کی جانب سے متاثرہ اضلاع کی ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیوں کے لیے 11 کروڑ 50 لاکھ روپے جاری۔ضلعی انتظامیہ چترال لوئر و اپر کو 20،20  ملین ، صوابی ،نوشہرہ، کرک، کوہاٹ  بنوں اور خیبر اضلاع کو 10،10 ملین روپے جبکہ ضلعی انتظامیہ مانسہرہ کو 15 ملین روپے جاری کیے گیے۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے متاثرہ اضلاع چترال اپر و لوئر کو امدادی سامان بھی فراہم کیا گیا ہے۔امدادی سامان میں کمبل، خیمے، بسترے، چٹاییاں، میٹریسس، مچھر دانیاں، کچن  سیٹس اور دیگر روزمرہ زندگی کی اشیاء شامل ہیں۔ متاثرہ اضلاع کی ضلعی انتظامیہ کو متاثرین کو جلد مالی و امدادی معاونت فراہم کرنے کی بھی ہدایت۔ متعلقہ ادارے اور تمام ضلعی انتظامیہ کی جانب سے متاثرہ اضلاع میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں،  اور تمام ادارے آپس میں  مسلسل رابطے میں ہیں  جبکہ  ڈی جی پی ڈی ایم اے صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔پی ڈی ایم اے کا ایمرجنسی اپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے اور عوام/سیاح کسی بھی ناخوشگوار  کی اطلاع، موسمی صورتحال ، سٹرکوں کی بندش اور رہنمائی کے لیے 1700 پر رابطہ کریں ۔

Army Chief General Asim Munir will address Ulama Conference today کانفرنس

آرمی چیف جنرل عاصم منیر آج علما کانفرنس سے خطاب کریں گے

آرمی چیف جنرل عاصم منیر آج علما کانفرنس سے خطاب کریں گے۔ نیشنل علماء مشائخ کانفرنس میں پورے پاکستان سے تمام مکاتب فکر کے علماء کی کانفرنس میں شرکت کی۔ تقریب کے مہمان خصو صی وزیر اعظم پاکستان، تقریب کے گیسٹ آف آنر چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عا صم منیر تھے۔ نیشنل علماء کنونشن سے تاریخی خطاب کے دوران آرمی چیف نے کہا اللہ کے نزدیک سب سے بڑا جرم فساد فی الارض ہے۔ پاک فوج اللہ کے حکم کے مطابق فساد فی الارض کے خاتمے کے لئے جد وجہد کر رہی ہے۔جو شریعت اور آئین کو نہیں مانتے، ہم انہیں پاکستانی نہیں مانتے ۔پاکستان نے 40 سال سے زیادہ عرصے تک، لاکھوں افغانیوں کی مہمان نوازی کی ہے۔ہم انھیں سمجھا رہے ہیں کہ فتنۂ خوارج کی خاطر اپنے  ہمسایہ، برادر اسلامی ملک اور دیرینہ دوست سے مخالفت نہ کریں۔دہشت گردی کی جنگ میں ہمارے پختون بھائیوں اور خیبر پختونخوا کی عوام نے بہت قربانیاں دی ہیں اور ہم  اُنکی کاوشوں کو سراہتے ہُوئے ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر نے تقریب سے خطا ب کے دوران کہا کہ خوارج ایک بہت بڑا فتنہ ہیں۔

جن کے بارے میں  علامہ اقبال نے فرمایا تھا:

اللہ سے کرے دور تو تعلیم بھی فتنہ   املاک بھی اولاد بھی جاگیر بھی فتنہ   

ناحق کے لئے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ   شمشیر ہی کیا نعرۂ تکبیر بھی فتنہ

 ہم لوگوں کو کہتےہیں کہ اگر احتجاج کرنا ہے تو ضرور کریں لیکن  پر امن رہیں۔ انہوں نے مزید بتایا اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ دین میں جبر نہیں ہے۔جرائم اور اسمگلرز مافیا دہشت گردی کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔سوشل میڈٰیا  کے ذریعے انتشار پھیلایا جاتاہے ۔ناموس رسالت پر بات کر تے ہو ئے آرمی چیف نے کہاکسی کی ہمت  نہیں جو رسول پاک ﷺکی شان میں گستاخی کر سکے۔کسی نے  پاکستان میں انتشار کی کوشش کی تو رب کریم کی قسم ہم اُسکے آگے کھڑے ہوں  گے۔دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتی کیونکہ یہ ملک قائم رہنے کیلئے بنا ہے۔اس پاکستان پر لاکھوں عاصم منیر، لاکھوں سیاستدان اور لاکھوں علما قربان کیونکہ پاکستان ہم سے زیادہ اہم ہے۔ اگر ریاست کی اہمیت  جاننی ہے تو عراق، شام اور لیبیا سے پوچھو علماء و مشائخ سے التماس ہے کہ وہ شدت پسندی یا تفریق کی بجائے تحمل اور اتحاد کی ترغیب دیں۔علماء کو چاہیے کہ وہ اعتدال پسندی کو معاشرے میں واپس لائیں اور فساد فی الارض کی نفی کریں۔ مغربی تہذیب  اور رہن سہن ہمارا آئیڈیل نہیں ہے ہمیں اپنی تہذیب پر فخر ہونا چاہئے

 اقبال کا شعر پڑھ کر آرمی چیف نے کہا:

اپني ملت پر قياس اقوام مغرب سے نہ کر،           خاص ہے ترکيب ميں قوم رسول ہاشمی

ان کی جمعيت کا ہے ملک و نسب پر انحصار،           قوت مذہب سے مستحکم ہے جمعيت تری

جو یہ کہتے تھے کہ ہم نے دو قومی نظرئیے کو خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے، وہ آج کہاں ہیں؟ کشمیر تقسیم پاک وہند کا ایک نامکمل ایجنڈا ہے۔فلسطین اور غزہ پر ڈھاۓ جانے والے مظالم دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔فلسطین سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ  ہم نے اپنی حفاظت خود کرنی ہے اور پاکستان کو مضبوط بنانا ہے ۔

Peshawar: FIA operation, 6 Afghan citizens arrested

پشاور: ایف آئی اے کی کارروائی، 6 افغان شہری گرفتار

ایف آئی اے پشاور زون نے جعلی پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بنوانے میں ملوث 6 افغان شہریوں کو گرفتار کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق، ایف آئی اے نے طورخم بارڈر پر کارروائی کرتے ہوئے ایک افغان شہری، نجیب اللہ، کو گرفتار کیا۔ ملزم کے پاس جعلی پاکستانی شناختی کارڈ اور افغان تذکرہ برآمد ہوا۔ابتدائی تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ ملزم نجیب اللہ چمن بارڈر کے راستے پاکستان داخل ہوا تھا اور اس نے کوئٹہ میں مقیم قاری حافظ کے ذریعے پاکستانی پاسپورٹ اور شناختی کارڈ حاصل کئے۔ اس کی نشاندہی پر ایف آئی اے نے عثمانیہ ہاسٹل پشاور سے مزید پانچ افغان شہریوں کو بھی گرفتار کیا۔ جن کے قبضے سے جعلی پاکستانی شناختی کارڈز، پاسپورٹ اور افغان تذکرے برآمد ہوئے۔ ملزمان کی گرفتاری کے بعد ایف آئی اے نے ان کے ساتھ کام کرنے والے ایجنٹوں کی تلاش کیلئے چھاپے مارنے شروع کر دئیے  ہیں۔ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ ملزمان جعلی شناختی دستاویزات کا استعمال کرکے سعودی عرب جانے کا ارادہ رکھتے تھے۔ جس کے لئے انہوں نے کابل کے راستے سفر کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ایف آئی اے کے حکام نے بتایا ہے کہ نادرا اور پاسپورٹ آفس کے ملازمین کی ممکنہ ملوثیت کا تعین بھی تحقیقات کے دوران کیا جائے گا۔ ایف آئی اے نے اس بڑی کارروائی کے بعد اس بات کی یقین دہانی کروائی ہے کہ جعلی دستاویزات کی تیاری اور استعمال کرنے والے افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

Aqeel Yousafzai editorial

بھارت کا ڈپریشن اور زمینی حقائق

بھارت کا ڈپریشن اور زمینی حقائق

عقیل یوسفزئی
بنگلہ دیش کی طرح بعض ملٹی نیشنل کمپنیوں ، پراکسیز اور کاسمیٹکس سرویز پر مشتمل ٹرائیکا بھارت کو بھی دنیا کا بہت مضبوط ملک قرار دینے کی مہم جوئی میں مصروف عمل رہی ہے اور اسی پس منظر میں پاکستان کے بہت سے حلقے حقائق بغیر اس ” مہم جوئی” سے کافی متاثر نظر آتے ہیں۔ بنگلہ دیش کی صورتحال نے بہت سے مقبول عام تجزیوں کو نہ صرف غلط ثابت کیا بلکہ اس ملک کے قیام کی بنیاد کو بھی ہلاکر رکھ دیا ہے۔ اگر مگر اور چونکہ چنانچہ کے رویے سے قطع نظر تلخ حقیقت یہ ہے کہ اس بغاوت نے جہاں ” ہائی بریڈ ” استحکام اور نام نہاد معاشی ترقی کے دعوؤں کو اڑاکر رکھ دیا ہے وہاں بھارت کے علاقائی تھانہ داری کی خوش فہمی کو بھی بے نقاب کردیا ہے۔ گزشتہ کئی روز کی مین سٹریم انڈین میڈیا کی نیوز اور ویوز کو دیکھنے کی ” زحمت” گوارا کی جائے تو قدم قدم پر محسوس ہوگا کہ بھارت بنگلہ دیش کی صورتحال سے کتنی بوکھلاہٹ کا شکار ہوگیا ہے اور خود کو بہت طاقتور ریاست سمجھنے والا یہ ملک بنگلہ دیش کی بارڈر سے متصل پانچ میں سے دو ریاستوں یا صوبوں آسام اور مغربی بنگال کی سیکورٹی سے متعلق خود کو کتنا غیر محفوظ سمجھتا ہے۔
پاکستان کو افغانستان کے تناظر میں مذاق اور تمسخر کا نشانہ بنانے والا بھارت شدید نوعیت کے خوف میں مبتلا ہوگیا ہے اور اس کی دوستی کا معیار یہ رہ گیا ہے کہ کس طرح اپنی دیرینہ دوست شیخ حسینہ واجد کو ملک سے باہر نکال دے۔
حیرت اس بات کی ہے کہ 9 مئی کی زمہ دار پارٹی اور بعض دیگر سیاسی قوتیں پوائنٹ اسکورنگ کی چکر میں اسمبلی فلور اور عوامی اجتماعات کے دوران غلط ملط اندازے لگاکر پاکستان میں بنگلہ دیش کی طرح کسی مزاحمت یا بغاوت کی ” دھمکیاں” دینے کی کوشش کررہی ہیں حالانکہ پاکستان 9 مئی کے واقعات کی شکل میں یہ مرحلہ کچھ اس انداز میں سر کرکے نمٹا چکا ہے کہ اب ” مشروط معافی” کی عملاً غیر مشروط پیشکشیں بھی ہونے لگی ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے چند روز قبل اپنی پریس بریفنگ میں 9 مئی اور ڈیجیٹل دہشتگردی سے متعلق ریاست کے بیانیہ اور ” عزم” کو پورے اعتماد اور شدت کے ساتھ دوٹوک الفاظ میں واضح کردیا ہے تاہم اس کا کیا کیا جائے کہ خوش فہمی اور غلط فہمی کا کوئی علاج نہیں ہے اور اس مرض میں مبتلا مریضوں کو متعدد ” جھٹکے ” لگنے کے باوجود ہوش نہیں آتا۔ عقل کا تقاضا یہ ہے کہ پروپیگنڈے کے علاوہ خوش فہمیوں کی مرض سے بھی نکلنے کی کوشش کرتے ہوئے ایک طے شدہ سیاسی اور ریاستی فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے اپنے سیاسی مقاصد کی حصول کا پرامن راستہ اختیار کیا جائے اور کوشش کی جائے کہ دوسروں پر انحصار کرنے کی بجائے حقائق کا ادراک کیا جائے۔