محکمہ اوقاف، حج، مذہبی و اقلیتی امور خیبر پختونخوا کے زیر اہتمام دہشت گردی سے متاثرہ اقلیتی برادری کے لیے مالی امداد کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں بیوہ خواتین، یتیم بچوں اور معذور افراد میں مجموعی طور پر لاکھوں روپے کے چیکس تقسیم کیے گئے۔
یہ اقدام محمد سہیل آفریدی کی خصوصی ہدایات اور صوبائی کابینہ کی منظوری سے عمل میں لایا گیا۔ تقریب کی مہمانِ خصوصی صوبائی وزیر مینا خان آفریدی تھے، جنہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ اقلیتی برادری کے تحفظ، بحالی اور بااختیاری کو حکومت کی اولین ترجیح حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ اقلیتی شہریوں کو معاشی خودمختاری فراہم کرنے کے لیے جدید ڈیجیٹل مہارتوں اور پیشہ ورانہ تربیت کے مواقع مہیا کیے جائیں گے، جبکہ وزیر اعلیٰ کی ہدایات کے مطابق اقلیتوں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے اقدامات تیز کر دیے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں مائنارٹی ڈائریکٹریٹ کے قیام پر بھی پیش رفت جاری ہے۔
تقریب میں وزیر زادہ سمیت اراکین اسمبلی، اعلیٰ سرکاری افسران اور اقلیتی برادری کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر محکمہ کی جانب سے جاری ترقیاتی منصوبوں، اسکالرشپس، ویلفیئر پیکیجز اور دیگر اقدامات پر تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔
بریفنگ کے مطابق اقلیتی برادری کے لیے متعدد فلاحی اور ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے، جن میں 61 ملین روپے کا اسکالرشپ منصوبہ برائے اقلیتی طلبہ، قومی آؤٹ ریچ پروگرام، 32 ملین روپے کا ویلفیئر پیکیج، مائنارٹیز اینڈومنٹ فنڈ میں 200 ملین سے بڑھا کر 400 ملین روپے تک اضافہ، عبادت گاہوں کے لیے آلات کی فراہمی، اقلیتی قبرستانوں کے لیے 50 ملین روپے سے زمین کی خریداری، اور 513 ملین روپے کی لاگت سے عبادت گاہوں و رہائشی کالونیوں کی بحالی شامل ہیں۔
مزید برآں سال 2025-26 کے سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) کے تحت نئی و جاری اسکیموں، اوقاف املاک کی بنیادی شماریات، بجٹ، کارکردگی اور درپیش مسائل پر بھی روشنی ڈالی گئی۔
تقریب سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت خیبرپختونخوا صوبے میں تمام شہریوں کو بلا تفریق مساوی حقوق اور ترقی کے یکساں مواقع فراہم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔



