The first anniversary of 'Operation Banyan Al-Marsous' in Mohmand

مہمند میں ’آپریشن بنیان المرصوص‘ کی پہلی سالگرہ

ضلع مہمند میں آپریشن بنیان المرصوص (معرکۂ حق) کی پہلی سالگرہ کے موقع پر مہمند پریس کلب میں قبائلی عمائدین نے پریس کانفرنس کا انعقاد کیا، جس میں پاک فوج اور دیگر سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ملک نادر منان، ملک حاجی احمد خویزئی، ملک عطاء اللہ ترگزئی، ملک ریحان شاہ، ملک فیاض خویزئی، ملک صاحب خان، ملک امیر نواز خان، ملک زیارت گل اور ملک انعام الحق سمیت دیگر مشران نے کہا کہ مہمند کے تمام قبائل ملکی دفاع میں سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

قبائلی عمائدین کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز نے درپیش چیلنجز کے باوجود پیشہ ورانہ مہارت اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کو مؤثر جواب دیا، جس پر پوری قوم کو فخر ہے۔ انہوں نے پاک فضائیہ اور مسلح افواج کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو عالمی سطح پر بھی تسلیم کیا جا رہا ہے۔ مشران نے کہا کہ پاکستان نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے قیام کے لیے مثبت کردار ادا کیا ہے، جس سے عالمی سطح پر ملک کا تشخص مزید مضبوط ہوا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ معلومات اور پروپیگنڈے سے گریز کریں اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل اپنائیں۔

افغانستان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان جنگ نہیں بلکہ امن کا خواہاں ہے اور مسائل کے حل کے لیے جرگہ سمیت تمام ممکنہ ذرائع بروئے کار لانے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے افغان حکومت سے مطالبہ کیا کہ اپنی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔ پریس کانفرنس کے اختتام پر قبائلی عمائدین اور شہریوں نے مہمند پریس کلب سے غلنئی بازار تک واک کا اہتمام کیا، جس میں شرکاء نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر آپریشن بنیان المرصوص کی سالگرہ سے متعلق نعرے درج تھے۔

Aqeel Yousafzai

پاکستان کے خلاف بھارت ، افغانستان اور خوارج کا اتحاد

عقیل یوسفزئی
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف ، بعض دیگر عہدیداروں اور نامور تجزیہ کاروں نے افغانستان کے بارے میں پھر سے سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے جہاں بھارت اور افغانستان پر دہشت گرد گروپوں کی ریاستی سرپرستی کے الزامات لگائے ہیں اور اس پریکٹس کو ناقابل برداشت قرار دیا ہے وہاں تجزیہ کاروں نے خیبرپختونخوا حکومت کی پالیسیوں پر بھی شدید تنقید کی ہے ۔
مختلف بیانات اور تجزیوں میں کہا گیا ہے کہ افغانستان نے بھارت کی ایماء پر سیز فائر کے دوران پاکستان کے مختلف علاقوں میں 35 سے 40 بار دراندازی اور حملے کئے جس کے نتیجے میں سویلین سمیت 50 سے پاکستانی شہید اور درجنوں زخمی ہوئے ۔
فوس جانب افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس کے باوجود پھر سے ایک انٹرویو میں پاکستان پر داعش خراسان کی سرپرستی کا الزام لگایا ہے کہ سال 2021 کے بعد داعش نے افغانستان کی بجائے پاکستان ہی میں سب سے زیادہ دہشت گرد کارروائیاں کی ہیں جن میں باجوڑ کا وہ واقعہ بھی شامل ہے جس میں 65 افراد کو جے یو آئی کے ایک کنونشن کے دوران داعش نے شہید کیا ۔
نامور صحافی اور اینکر پرسن سلیم صافی نے اس صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حقیقت پھر سے درست ثابت ہوگئی ہے کہ افغان اور پاکستانی طالبان ایک سکے کے دو رخ ہیں اور وہ لوگ غلطی پر تھے جنہوں نے افغان طالبان سے بہت سی توقعات وابستہ کی تھیں ۔
باخبر صحافی فخر درانی نے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اپنے تبصرے میں کہا ہے کہ پشاور کے نواحی علاقوں میں علامتی ہی سہی طالبان کی آمد اور ویڈیوز بنانے کے عمل نے نہ صرف سب کی تشویش میں اضافہ کردیا ہے بلکہ اس صورتحال نے صوبائی حکومت کی رٹ اور پالیسیوں پر بھی سوالات اٹھائے ہیں جن کا صوبائی حکومت کو نوٹس لینا ہوگا ۔