عقیل یوسفزئی
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف ، بعض دیگر عہدیداروں اور نامور تجزیہ کاروں نے افغانستان کے بارے میں پھر سے سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے جہاں بھارت اور افغانستان پر دہشت گرد گروپوں کی ریاستی سرپرستی کے الزامات لگائے ہیں اور اس پریکٹس کو ناقابل برداشت قرار دیا ہے وہاں تجزیہ کاروں نے خیبرپختونخوا حکومت کی پالیسیوں پر بھی شدید تنقید کی ہے ۔
مختلف بیانات اور تجزیوں میں کہا گیا ہے کہ افغانستان نے بھارت کی ایماء پر سیز فائر کے دوران پاکستان کے مختلف علاقوں میں 35 سے 40 بار دراندازی اور حملے کئے جس کے نتیجے میں سویلین سمیت 50 سے پاکستانی شہید اور درجنوں زخمی ہوئے ۔
فوس جانب افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس کے باوجود پھر سے ایک انٹرویو میں پاکستان پر داعش خراسان کی سرپرستی کا الزام لگایا ہے کہ سال 2021 کے بعد داعش نے افغانستان کی بجائے پاکستان ہی میں سب سے زیادہ دہشت گرد کارروائیاں کی ہیں جن میں باجوڑ کا وہ واقعہ بھی شامل ہے جس میں 65 افراد کو جے یو آئی کے ایک کنونشن کے دوران داعش نے شہید کیا ۔
نامور صحافی اور اینکر پرسن سلیم صافی نے اس صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حقیقت پھر سے درست ثابت ہوگئی ہے کہ افغان اور پاکستانی طالبان ایک سکے کے دو رخ ہیں اور وہ لوگ غلطی پر تھے جنہوں نے افغان طالبان سے بہت سی توقعات وابستہ کی تھیں ۔
باخبر صحافی فخر درانی نے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اپنے تبصرے میں کہا ہے کہ پشاور کے نواحی علاقوں میں علامتی ہی سہی طالبان کی آمد اور ویڈیوز بنانے کے عمل نے نہ صرف سب کی تشویش میں اضافہ کردیا ہے بلکہ اس صورتحال نے صوبائی حکومت کی رٹ اور پالیسیوں پر بھی سوالات اٹھائے ہیں جن کا صوبائی حکومت کو نوٹس لینا ہوگا ۔


