Khyber Pakhtunkhwa Public Health Engineering introduces innovative mobile app

خیبرپختونخوا پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی جدید موبائل ایپ متعارف

محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ خیبرپختونخوا نے عوام کو بہتر اور شفاف خدمات کی فراہمی کے لیے جدید موبائل ایپ متعارف کرا دی، جس کا باضابطہ افتتاح صوبائی وزیر فضل شکور خان نے کیا۔ افتتاحی تقریب کے دوران صوبائی وزیر کو ایپ کے فیچرز اور عوام کو فراہم کی جانے والی سہولیات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے بتایا کہ موبائل ایپ کے ذریعے صارفین اپنے پانی کے بل، بقایاجات اور دیگر متعلقہ معلومات آن لائن حاصل کر سکیں گے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ عوام کی سہولت کے لیے ایپ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں تیار کی گئی ہے۔ صارفین واٹر سپلائی اور پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی مختلف اسکیموں سے متعلق اپنی شکایات آن لائن درج کرا سکیں گے، جبکہ شکایات پر ہونے والی پیش رفت کو بھی براہِ راست ایپ کے ذریعے ٹریک کیا جا سکے گا۔ اس موقع پر فضل شکور خان نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت ڈیجیٹل گورننس کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے عوام کو بروقت، معیاری اور شفاف خدمات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

انہوں نے کہا کہ نئی موبائل ایپ محکمہ کی کارکردگی، شفافیت اور جوابدہی کو مزید مضبوط بنائے گی۔ صوبائی وزیر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ عوامی شکایات کے فوری ازالے کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور ایپ میں مزید جدید سہولیات شامل کی جائیں تاکہ شہری زیادہ سے زیادہ مستفید ہو سکیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوام دوست اقدامات کے ذریعے محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جا رہا ہے۔

One-day awareness workshop on climate change held in Mardan

مردان میں موسمیاتی تبدیلی پر ایک روزہ آگاہی ورکشاپ کا انعقاد

فریش واٹر ایکشن نیٹ ورک ساؤتھ ایشیاء پاکستان کے خیبر پختونخوا چیپٹر کے تعاون سے اور آئی آر ایس پی کے زیر اہتمام مردان کے ایک مقامی ہال میں “واش (WASH) کے لیے کلائمنٹ فنانسنگ کو فروغ دیں، آب و ہوا، پانی اور صفائی کے موسمیاتی لچکدار بنیادی ڈھانچے میں فنڈنگ اور سرمایہ کاری میں اضافے کا وکیل بنیں” کے موضوع پر ایک روزہ آگاہی و تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ورکشاپ میں مرد و خواتین، طلبہ و طالبات، سماجی کارکنان اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

پروگرام کا مقصد موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے اثرات کے تناظر میں پانی، صفائی اور حفظانِ صحت (WASH) کے شعبے میں پائیدار منصوبہ بندی، موسمیاتی لچکدار انفراسٹرکچر کی تعمیر، اور کلائمنٹ فنانسنگ کے مواقع سے متعلق شرکاء میں آگاہی پیدا کرنا تھا۔ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے آئی آر ایس پی کے محمد اسماعیل، گلناز رقیب اور نوشین سردار نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث پانی اور صفائی کے نظام کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، لہٰذا ضروری ہے کہ حکومت، ترقیاتی ادارے، نجی شعبہ اور سول سوسائٹی مل کر اس شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دیں تاکہ محفوظ پانی، بہتر صفائی اور صحت مند ماحول کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔

مقررین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کلائمنٹ فنانسنگ کے مؤثر استعمال اور عوامی شمولیت کے ذریعے نہ صرف ماحول دوست ترقی کو فروغ دیا جا سکتا ہے بلکہ مستقبل میں قدرتی آفات اور موسمیاتی خطرات کے اثرات کو بھی کم کیا جا سکتا ہے۔ورکشاپ کے دوران شرکاء کو موسمیاتی تبدیلی، پانی کے وسائل کے مؤثر انتظام، صفائی کے نظام کی بہتری اور پائیدار ترقی سے متعلق مختلف موضوعات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، جبکہ سوال و جواب کے سیشن میں شرکاء نے بھرپور دلچسپی کا اظہار کیا۔پروگرام کے اختتام پر کامیابی سے تربیت مکمل کرنے والے شرکاء میں تعریفی اسناد (سرٹیفکیٹس) بھی تقسیم کیے گئے، جبکہ شرکاء نے ایسی آگاہی ورکشاپس کے تسلسل کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس کے انعقاد کو خوش آئند اقدام قرار دیا۔