غلنئی: سمر لرننگ اینڈ گرومنگ فیسٹیول 2026 کے فیز فور، ایبٹ آباد میں ضلع مہمند کے ہونہار طلبہ نے مختلف تعلیمی، ادبی اور کھیلوں کے مقابلوں میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں اور ضلع کا نام روشن کر دیا۔ ضلع مہمند کی ٹیم نے رسہ کشی اور والی بال کے مقابلوں میں بہترین کھیل پیش کرتے ہوئے چیمپئن شپ اپنے نام کی، جبکہ انگلش تقریر، نعت خوانی اور سپیلنگ کمپیٹیشن میں بھی پہلی پوزیشن حاصل کرکے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
تعلیمی حلقوں کے مطابق یہ شاندار کامیابیاں طلبہ کی محنت، لگن، نظم و ضبط اور بہترین ٹیم ورک کا نتیجہ ہیں۔ اس کامیابی کا سہرا ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر میل، ضلع مہمند مدرار اللہ کی مؤثر قیادت، اے ڈی ای او سپورٹس اور سمر کیمپ کے فوکل پرسن محمد ابراہیم کی بھرپور رہنمائی، کیمپ انچارج اور ہیڈماسٹر گورنمنٹ ہائی سکول حمید خان قلعہ رحم دراز بخت علی کی بہترین حکمت عملی، جبکہ سکاوٹ لیڈر عباس خان کی انتھک محنت کو بھی دیا جا رہا ہے۔ مقامی عوام، والدین، اساتذہ اور مختلف سماجی و تعلیمی شخصیات نے اس شاندار کامیابی پر ضلع مہمند کے طلبہ اور محکمہ تعلیم کی پوری ٹیم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ مستقبل میں بھی ضلع مہمند کے نوجوان تعلیمی، ادبی اور کھیلوں کے میدان میں اسی جذبے کے ساتھ کامیابیاں حاصل کرتے رہیں گے اور صوبائی و قومی سطح پر ضلع کا نام مزید روشن کریں گے۔
واضح رہے کہ ضلع مہمند نے فیسٹیول میں رسہ کشی میں۔چیمپئن)، والی بال (چیمپئن)، انگلش تقریر (پہلی پوزیشن) ،نعت خوانی (پہلی پوزیشن)، سپیلنگ کمپیٹیشن میں بھی پہلی پوزیشن حاصل کی۔اور علاقے کا نام روشن اور سرفہرست کیا جوکہ یہ محکمہ تعلیم اور مہمند قوم کیلئے ایک منفرد اعزاز ہے۔
پشاور : قومی پیغام امن علماء و مشائخ کانفرنس کا انعقاد
پشاور قومی پیغام امن علماء و مشائخ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ گورنر خیبرپختونخوا کی قومی پیغامِ امن علماء و مشائخ کانفرنس میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ گورنر فیصل کریم کنڈی کا قومی پیغامِ امن کمیٹی کی جانب سے منعقدہ کانفرنس سے خطاب کیا۔ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل ملکی بقاء، سلامتی اور عظمت کے لیے بھرپور کردار ادا کر رہے ۔ ہمیں اپنی بہادر افواج پر فخر ہے، بھارت کو منہ توڑ جواب دے کر پاکستان کا سر فخر سے بلند کیا گیا۔ امریکی صدر بھی فیلڈ مارشل کے قیامِ امن کے کردار کے معترف ہیں۔ ایران، امریکہ جنگ کے دوران پاکستان نے سفارتی محاذ پر فعال کردار ادا کیا۔
گورنر خیبرپختونخوا کا کانفر نس سے خطاب کرتے ہوئے کہا قومی پیغامِ امن کمیٹی کے لیے گورنر ہاؤس کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں، یہ ہم سب کا مشترکہ مشن ہے۔ قیامِ امن کے مشن کی تکمیل کے لیے پوری قوم متحد ہے۔ قومی پیغامِ امن کمیٹی کی قیادت کو کامیاب کانفرنس کے انعقاد پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ پاکستان میں امن، رواداری اور اتحاد کا فروغ جبکہ دہشت گردی، انتہاپسندی اور فرقہ واریت کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ بین المسالک ہم آہنگی اور بین المذاہب رواداری کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ریاست دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کر سکتی ہے، لیکن دہشت گردی کی سوچ اور فکر کے خاتمے میں منبر و محراب، مسجد و خانقاہ کا کردار اہم ہے۔ ہم ملک کی اقلیتوں کے جذبۂ حب الوطنی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ متحد اور مضبوط قوم اختلاف برائے اختلاف کے بجائے اختلاف برائے اصلاح پر یقین رکھتی ہے۔ ہمیں اپنی نئی نسل کو مستقبل کے حوالے سے بہتر راستہ دکھانا ہوگا، اس میں علماء کا کردار انتہائی اہم ہے۔ علماء نئی نسل کی فکری رہنمائی کریں اور انہیں اسلام کے حقیقی اصولِ زندگی سے روشناس کرائیں۔ عالمی امن کے بعد جب دنیا کا کاروباری طبقہ پاکستان کا رخ کرے گا تو ہمیں سرمایہ کاروں کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ خیبرپختونخوا پورے ملک میں سب سے زیادہ وسائل سے مالا مال صوبہ ہے، یہاں پائیدار امن ناگزیر ہے۔ خیبرپختونخوا میں امن ہوگا تو صوبہ ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوگا۔ ہم نے افغانستان کے بھائیوں کو ہمیشہ سینے سے لگایا، تاہم افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی ناقابلِ قبول ہے۔ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال کیا جانا تشویشناک ہے۔ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں بدامنی پاکستان دشمن قوتوں کی سازش ہے تاکہ خطے کے وسائل سے پاکستان کو فائدہ نہ پہنچ سکے۔ صوبے میں امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر مل کر کام کرنے پر یقین رکھتا ہوں۔
یونیورسٹی آف صوابی میں تیسری بین الاقوامی فارمیسی کانفرنس و نمائش کا انعقاد
یونیورسٹی آف صوابی نے 26 تا 28 جولائی 2026 کو بارہ گلی سمر کیمپس، یونیورسٹی آف پشاور میں تیسری بین الاقوامی فارمیسی کانفرنس و نمائش کا کامیابی سے انعقاد کیا۔ کانفرنس کا موضوع “تعلیم، دواساز صنعت، ریگولیٹری اداروں اور کلینیکل پریکٹس کے درمیان روابط کا فروغ” تھا۔
اس کانفرنس کا بنیادی مقصد جامعات، تحقیقی اداروں، دواساز صنعت، ڈرگ ریگولیٹری اداروں اور صحت کے شعبے سے وابستہ تنظیموں کے درمیان مضبوط روابط قائم کرنا، اطلاقی تحقیق، تکنیکی جدت، تجارتی امکانات اور صحت کے شعبے میں پائیدار ترقی کو فروغ دینا تھا۔ اس کانفرنس نے محققین، اساتذہ، طبی ماہرین، فارماسسٹ اور صنعت سے وابستہ افراد کو باہمی تجربات، تحقیقی نتائج اور جدید خیالات کے تبادلے کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کیا۔
تین روزہ کانفرنس میں پاکستان اور بیرونِ ملک سے معروف ماہرینِ تعلیم، محققین، معالجین، کلینیکل ماہرین، پرنسپل انویسٹی گیٹرز، جامعات، دواساز صنعت، ہسپتالوں اور ریگولیٹری اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ کانفرنس میں بین الاقوامی اور قومی شہرت یافتہ ماہرین کے کلیدی خطبات، زبانی اور پوسٹر تحقیقی پیشکشیں، سائنسی مباحثے اور فارماسیوٹیکل نمائش کا انعقاد کیا گیا، جس میں جدید ادویات، آلات اور ٹیکنالوجیز کی نمائش کی گئی۔ اس موقع پر شرکاء کو پیشہ ورانہ روابط استوار کرنے اور علمی ترقی کے بہترین مواقع بھی میسر آئے۔
کانفرنس کے سرپرستِ اعلیٰ (Patron-in-Chief) پروفیسر ڈاکٹر میاں سید خان، وائس چانسلر، یونیورسٹی آف صوابی تھے، جبکہ شریک سرپرستِ اعلیٰ (Co-Patron-in-Chief) ڈاکٹر آباد خان، چیئرمین شعبۂ فارمیسی تھے۔ سرپرستوں (Patrons) میں پروفیسر ڈاکٹر سید محمد مکرم شاہ، ڈین فیکلٹی آف سائنسز، اور پروفیسر ڈاکٹر نسیم اللہ قریشی، ڈین فیکلٹی آف آرٹس اینڈ سوشل سائنسز شامل تھے۔
افتتاحی تقریب کے مہمانِ خصوصی ڈاکٹر اختر عباس خان تھے، جو ڈائریکٹر فارمیسی سروسز، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) اور سیکریٹری، فارمیسی کونسل آف پاکستان ہیں۔ جبکہ مہمانِ اعزاز پروفیسر ڈاکٹر جمشید علی خان، وائس چانسلر، بونیر یونیورسٹی تھے۔
کانفرنس میں دنیا بھر سے ممتاز بین الاقوامی کلیدی مقررین نے شرکت کی، جن میں پروفیسر ڈاکٹر محمد عمران نصیر (کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی، جدہ، سعودی عرب)، پروفیسر کونسیٹا ڈی ناتالے، ڈاکٹر محمد شبیر اور ڈاکٹر ڈینیلے تمّارو (یونیورسٹی آف نیپلز فیڈریکو دوم، اٹلی)، پروفیسر ڈاکٹر ایلکائے اردوان اورہان (فیکلٹی آف فارمیسی، غازی یونیورسٹی، انقرہ، ترکیہ)، پروفیسر ڈاکٹر نیاز علی (کالج آف میڈیسن، یونیورسٹی آف شارجہ)، ڈاکٹر عرفان اللہ اور ڈاکٹر یوان یوان لی (یونیورسٹی آف منی سوٹا، امریکہ) شامل تھے۔
اسی طرح ملک بھر سے ممتاز قومی کلیدی مقررین نے بھی شرکت کی، جن کا تعلق یونیورسٹی آف پشاور، قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد، کامسیٹس یونیورسٹی (ایبٹ آباد کیمپس)، قرطبہ یونیورسٹی، یونیورسٹی آف ملاکنڈ، کیپیٹل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، ایبٹ آباد یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، کوہاٹ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، پاک آسٹریا فاخ ہوخشولے، یونیورسٹی آف صوابی، باچا خان میڈیکل کمپلیکس، خیبر ٹیچنگ ہسپتال، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP)، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہیلتھ اینڈ فارمیسی سروسز، فارمیسی کونسل آف پاکستان، نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ (NIH)، صوبائی فارمیسی کونسل، دواساز صنعت اور فارمیسی کے سابق طلبہ سے تھا۔
اس کانفرنس میں ملک و بیرونِ ملک سے جامعات، ہسپتالوں، تحقیقی اداروں، دواساز صنعت، ریگولیٹری اداروں، اساتذہ، محققین، فارماسسٹ، معالجین اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جو اس کانفرنس کی قومی اور بین الاقوامی اہمیت کا واضح ثبوت ہے۔
اس کانفرنس کا بنیادی اسپانسر ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) پاکستان تھا۔ دیگر معاون اداروں میں IPRAM International، Brookes، Bosch، Legacy Pharma، Heel، LCI، Genome، Stanley، Ferozsons Laboratories، Unisa، Welmed، Bryon، Injection System اور Medicraft شامل تھے، جنہوں نے کانفرنس کے کامیاب انعقاد میں اہم کردار ادا کیا۔
اختتامی تقریب میں پروفیسر ڈاکٹر میاں سید خان، سرپرستِ اعلیٰ، اور ڈاکٹر آباد خان، شریک سرپرستِ اعلیٰ، نے تمام بین الاقوامی و قومی مقررین، مندوبین، اسپانسرز، منتظمین، اساتذہ، طلبہ اور شرکاء کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ یہ کانفرنس تعلیمی اداروں، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور طبی شعبے کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے، تحقیق اور اختراع کو فروغ دینے اور یونیورسٹی آف صوابی کے فارمیسی کے شعبے کو قومی و بین الاقوامی سطح پر مزید نمایاں کرنے میں اہم سنگِ میل ثابت ہوگی۔
تخت بھائی: غیر معیاری دودھ کے خلاف کریک ڈاؤن
ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر تخت بھائی سردار بھرام خان نے مسلسل عوامی شکایت پر تخت بازار۔نہر کنارہ۔ ریلوے پھاٹک ارپار اور جگہ جگہ ملاوٹ شدہ ناقص دودھ فروشوں کے خلاف زبردست اپریشن کردیا۔ ان کے ہمراہ لائیو سٹاک ڈیپارٹمنٹ کی ٹیم بھی تھی۔انھوں نے موقع پر کیمیکل والے مضر صحت دودھ ضائع کردئیے۔کئ دودھ فروشوں کو بھاری جرمانے کے علاوہ انکی دوکانیں سیل کردی۔اور کئ سے سیمپل لئے گئے۔
انھوں نے دودھ فروشوں کو متنبہ کیا۔ تخت بھائی کے شہری اور دیہاتی علاقوں کے عوام کو تصدیق شدہ معیاری دودھ کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائے۔اس کے ساتھ ساتھ پورا وزن اور سرکاری نرخوں پر دودھ۔ دہی اور دودھ سے بنی ہوئی اشیاء فروخت کریں۔انتظامیہ دن رات مانیٹرنگ کرکے صحت کے دشمن دودھ فروشوں کے خلاف سخت قانونی کاروائی کریگی۔انھوں نے عوام سے اپیل کی۔کہ کیمیکل والے اور ملاوٹ شدہ دودھ دودھ۔دہی کی نشاندہی کے بارے انتظامیہ کو بروقت اگاہ کریں ۔دودھ مضر صحت دودھ فروشوں کے خلاف کاروائی پر عام شہریوں اور سماجی حلقوں نے سراہتے ہوئے مہم جاری کرنے کی اپیل کردی
۔



