یونیورسٹی آف صوابی نے 26 تا 28 جولائی 2026 کو بارہ گلی سمر کیمپس، یونیورسٹی آف پشاور میں تیسری بین الاقوامی فارمیسی کانفرنس و نمائش کا کامیابی سے انعقاد کیا۔ کانفرنس کا موضوع “تعلیم، دواساز صنعت، ریگولیٹری اداروں اور کلینیکل پریکٹس کے درمیان روابط کا فروغ” تھا۔
اس کانفرنس کا بنیادی مقصد جامعات، تحقیقی اداروں، دواساز صنعت، ڈرگ ریگولیٹری اداروں اور صحت کے شعبے سے وابستہ تنظیموں کے درمیان مضبوط روابط قائم کرنا، اطلاقی تحقیق، تکنیکی جدت، تجارتی امکانات اور صحت کے شعبے میں پائیدار ترقی کو فروغ دینا تھا۔ اس کانفرنس نے محققین، اساتذہ، طبی ماہرین، فارماسسٹ اور صنعت سے وابستہ افراد کو باہمی تجربات، تحقیقی نتائج اور جدید خیالات کے تبادلے کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کیا۔
تین روزہ کانفرنس میں پاکستان اور بیرونِ ملک سے معروف ماہرینِ تعلیم، محققین، معالجین، کلینیکل ماہرین، پرنسپل انویسٹی گیٹرز، جامعات، دواساز صنعت، ہسپتالوں اور ریگولیٹری اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ کانفرنس میں بین الاقوامی اور قومی شہرت یافتہ ماہرین کے کلیدی خطبات، زبانی اور پوسٹر تحقیقی پیشکشیں، سائنسی مباحثے اور فارماسیوٹیکل نمائش کا انعقاد کیا گیا، جس میں جدید ادویات، آلات اور ٹیکنالوجیز کی نمائش کی گئی۔ اس موقع پر شرکاء کو پیشہ ورانہ روابط استوار کرنے اور علمی ترقی کے بہترین مواقع بھی میسر آئے۔
کانفرنس کے سرپرستِ اعلیٰ (Patron-in-Chief) پروفیسر ڈاکٹر میاں سید خان، وائس چانسلر، یونیورسٹی آف صوابی تھے، جبکہ شریک سرپرستِ اعلیٰ (Co-Patron-in-Chief) ڈاکٹر آباد خان، چیئرمین شعبۂ فارمیسی تھے۔ سرپرستوں (Patrons) میں پروفیسر ڈاکٹر سید محمد مکرم شاہ، ڈین فیکلٹی آف سائنسز، اور پروفیسر ڈاکٹر نسیم اللہ قریشی، ڈین فیکلٹی آف آرٹس اینڈ سوشل سائنسز شامل تھے۔
افتتاحی تقریب کے مہمانِ خصوصی ڈاکٹر اختر عباس خان تھے، جو ڈائریکٹر فارمیسی سروسز، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) اور سیکریٹری، فارمیسی کونسل آف پاکستان ہیں۔ جبکہ مہمانِ اعزاز پروفیسر ڈاکٹر جمشید علی خان، وائس چانسلر، بونیر یونیورسٹی تھے۔
کانفرنس میں دنیا بھر سے ممتاز بین الاقوامی کلیدی مقررین نے شرکت کی، جن میں پروفیسر ڈاکٹر محمد عمران نصیر (کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی، جدہ، سعودی عرب)، پروفیسر کونسیٹا ڈی ناتالے، ڈاکٹر محمد شبیر اور ڈاکٹر ڈینیلے تمّارو (یونیورسٹی آف نیپلز فیڈریکو دوم، اٹلی)، پروفیسر ڈاکٹر ایلکائے اردوان اورہان (فیکلٹی آف فارمیسی، غازی یونیورسٹی، انقرہ، ترکیہ)، پروفیسر ڈاکٹر نیاز علی (کالج آف میڈیسن، یونیورسٹی آف شارجہ)، ڈاکٹر عرفان اللہ اور ڈاکٹر یوان یوان لی (یونیورسٹی آف منی سوٹا، امریکہ) شامل تھے۔
اسی طرح ملک بھر سے ممتاز قومی کلیدی مقررین نے بھی شرکت کی، جن کا تعلق یونیورسٹی آف پشاور، قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد، کامسیٹس یونیورسٹی (ایبٹ آباد کیمپس)، قرطبہ یونیورسٹی، یونیورسٹی آف ملاکنڈ، کیپیٹل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، ایبٹ آباد یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، کوہاٹ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، پاک آسٹریا فاخ ہوخشولے، یونیورسٹی آف صوابی، باچا خان میڈیکل کمپلیکس، خیبر ٹیچنگ ہسپتال، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP)، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہیلتھ اینڈ فارمیسی سروسز، فارمیسی کونسل آف پاکستان، نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ (NIH)، صوبائی فارمیسی کونسل، دواساز صنعت اور فارمیسی کے سابق طلبہ سے تھا۔
اس کانفرنس میں ملک و بیرونِ ملک سے جامعات، ہسپتالوں، تحقیقی اداروں، دواساز صنعت، ریگولیٹری اداروں، اساتذہ، محققین، فارماسسٹ، معالجین اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جو اس کانفرنس کی قومی اور بین الاقوامی اہمیت کا واضح ثبوت ہے۔
اس کانفرنس کا بنیادی اسپانسر ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) پاکستان تھا۔ دیگر معاون اداروں میں IPRAM International، Brookes، Bosch، Legacy Pharma، Heel، LCI، Genome، Stanley، Ferozsons Laboratories، Unisa، Welmed، Bryon، Injection System اور Medicraft شامل تھے، جنہوں نے کانفرنس کے کامیاب انعقاد میں اہم کردار ادا کیا۔
اختتامی تقریب میں پروفیسر ڈاکٹر میاں سید خان، سرپرستِ اعلیٰ، اور ڈاکٹر آباد خان، شریک سرپرستِ اعلیٰ، نے تمام بین الاقوامی و قومی مقررین، مندوبین، اسپانسرز، منتظمین، اساتذہ، طلبہ اور شرکاء کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ یہ کانفرنس تعلیمی اداروں، صنعت، ریگولیٹری اداروں اور طبی شعبے کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے، تحقیق اور اختراع کو فروغ دینے اور یونیورسٹی آف صوابی کے فارمیسی کے شعبے کو قومی و بین الاقوامی سطح پر مزید نمایاں کرنے میں اہم سنگِ میل ثابت ہوگی۔


