Dengue prevention; Meeting chaired by Commissioner Peshawar

ڈینگی کی روک تھام; کمشنر پشاور کی زیرِ صدارت اجلاس

کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود کی زیر صدارت ڈینگی وائرس کی روک تھام کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں پشاور، نوشہرہ، چارسدہ، ضلع خیبر اور ضلع مہمند کے ڈپٹی کمشنرز، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز، ماہرینِ حشرات الارض، بلدیاتی افسران، ہیلتھ اسٹاف اور متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس میں ڈینگی ایکشن پلان 2026 پر عملدرآمد، پانچوں اضلاع میں ڈینگی کی موجودہ صورتحال، بیماری کی نگرانی، انڈور و آؤٹ ڈور لاروا سرویلنس، اسپتالوں کی تیاری، ادویات و آلات کی دستیابی، اینٹی ڈینگی اسپرے، عوامی آگاہی مہم، بین الادارہ جاتی تعاون اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ بروقت اور مؤثر اقدامات کے باعث رواں سال پشاور ڈویژن میں ڈینگی کیسز میں نمایاں کمی آئی ہے، جبکہ رپورٹ ہونے والے متعدد کیسز کا تعلق دیگر اضلاع یا صوبوں سے سفر کی ہسٹری رکھنے والے افراد سے ہے۔ مجموعی صورتحال اطمینان بخش ہے اور ڈینگی سے کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود نے ڈینگی کیسز میں واضح کمی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ ڈینگی وائرس کی روک تھام کے لیے پیشگی اقدامات سال بھر تسلسل کے ساتھ جاری رکھے جائیں تاکہ خصوصاً ستمبر اور اکتوبر کے دوران بھی صورتحال مکمل طور پر قابو میں رہے۔ انہوں نے عوامی آگاہی مہم کو مزید مؤثر بنانے، سوشل، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سمیت تمام ذرائع بروئے کار لانے، لاروا کے خاتمے کی کارروائیوں میں تیزی لانے، مون سون بارشوں کے دوران بروقت نکاسی آب یقینی بنانے، متعلقہ اداروں کے درمیان باہمی رابطہ مزید مضبوط بنانے، ڈینگی کے پھیلاؤ کا سبب بننے والے عوامل کے خلاف دفعہ 144 کے تحت کارروائی، تمام ڈپٹی کمشنرز کی فیلڈ میں مؤثر نگرانی اور دستیاب وسائل کے بھرپور استعمال کی ہدایات جاری کرتے ہوئے تمام اقدامات کی ہفتہ وار رپورٹ طلب کر لی۔

Wisal Muhammad Khan

مسلم لیگ ن اورپیپلزپارٹی کی چپقلش

وصال محمدخان
پاکستان پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ ن کے درمیان آزادکشمیرانتخابات کے پہلے مرحلے پرتنازعہ کھڑاہوچکاہے۔پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوکاکہناہے کہ آزادکشمیرالیکشن کے پہلے مرحلے میں انکے ساتھ دھاندلی ہوئی ہے۔اسی حوالے سے انہوں نے ن لیگ کیخلاف محاذسنبھال لیاہے اوربیان بازی کاایک نہ رکنے والاسلسلہ شروع کردیاگیاہے۔انکی جانب سے مسلم لیگ ن اوراسکی قیادت پرالزامات کی بارش کے بعد وزیراعلٰی پنجاب مریم نوازشریف نے بھی ایک ٹویٹ کے ذریعے جواب دیاہے جبکہ پنجاب کی وزیراطلاعات عظمیٰ بخاری اوروزیرا طلاعا ت سندھ شرجیل میمن بھی اس معاملے میں کودپڑے ہیں۔اب دونوں جانب سے لفظی گولہ باری کاایک دوام پذیرسلسلہ شروع ہوچکاہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کاکہناہے کہ یہ سلسلہ آزادکشمیرانتخابات کے آخری مرحلے تک جاری رہنے کاامکان ہے۔ بعض ذرائع کادعویٰ ہے کہ پیپلز پارٹی اورن لیگ کے درمیان گزشتہ دوبرسوں سے جواتحادقائم ہے یہ بیان بازی اسکے اختتام کاپیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے۔مگرسنجیدہ فکرتجزیہ کاروں کے مطابق یہ دونوں جماعتوں کاایک سوچاسمجھاکھیل ہے جس کے تحت تحریک انصاف کاپتاپاکستانی سیاست سے صاف کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔آج سے سال دوسال قبل ہرانتخاب کے وقت مسلم لیگ ن اورتحریک انصاف کے درمیان اسی قسم کی بیان بازی ہوتی تھی ن لیگ کی دورحکومت میں کوئی بھی انتخاب ہوتحریک انصاف اسے دھاندلی زدہ اورغیرمنصفانہ قراردیتی تھی جبکہ تحریک انصاف حکومت میں ن لیگ اسی قسم کے الزامات لگاتی تھی۔اس سے قبل جوبھی انتخاب ہوتاپنجاب کی حدتک مقابلہ ن لیگ اورتحریک انصاف کے درمیان ہوتاتھامگرگزشتہ انتخابات کے بعدپاکستانی سیاست میں یہ تبدیلی آئی ہے کہ اب ہرانتخاب کے وقت ن لیگ اورپیپلزپارٹی کے درمیان میدا ن میں بھی مقابلہ رہتاہے اورمیڈیاوسوشل میڈیاپربھی ان دونوں کے درمیان بیانات کامقابلہ عروج پرہوتاہے۔ گلگت بلتستان انتخابات میں پیپلزپارٹی نے ن لیگ پرمعمولی برتری حاصل کی تھی جسے بلاول اورآصفہ بھٹوکی زبردست انتخابی مہم سے جوڑکرکہاگیاکہ اگرن لیگ بھی اسی طرح مہم چلاتی تودوچارنشستیں مزیداسکے ہاتھ آسکتی تھیں گلگت میں ن لیگ کی حکومت کانہ بننااسکی قیادت کی جانب سے عدم دلچسپی کا نتیجہ قراردیاگیا۔اسی کودیکھتے ہوئے ن لیگ نے آزادکشمیرانتخابات کیلئے بھرپورمہم چلائی اس مہم کے تحت میاں نوازشریف نے خاصے عرصے بعدچپ کاروزہ توڑااوروہ آزادکشمیرمیں انتخابی مہم چلاتے ہوئے نظرآئے اسی طرح وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف بھی اس مہم میں سرگرم رہیں ان دونوں باپ بیٹی نے نہ صرف آزادکشمیرانتخابات کیلئے مہم،چلائی جلسوں سے خطاب کیا،امیدواروں کے نام فائنل کئے بلکہ مریم نوازشریف نے آزادکشمیرکیلئے کچھ مراعات وغیرہ کے اعلانات بھی کئے۔اسی سبب آزادکشمیرانتخابات کے پہلے مرحلے کے 13 میں سے9نشستون پرن لیگ کامیاب رہی۔ن لیگ کی یہ کامیابی بلاول بھٹو اورپیپلزپارٹی سے ہضم نہیں ہورہی ان کاخیال ہے کہ ن لیگ کی مرکزی حکومت چونکہ انکے سہارے کھڑی ہے اسلئے وہ جوچاہیں ن لیگ کی قیادت سے منواسکتے ہیں۔مگرن لیگ کی قیادت نے آزاد کشمیر انتخابی مہم میں بھرپورحصہ لیکربلاول بھٹوکے خواب چکناچورکردئے اسلئے وہ اب پیچ وتاب کھاتے ہوئے ن لیگ کیخلاف الزمات کی بوچھاڑ جاری رکھے ہوئے ہیں۔یہ معاملہ اب قومی میڈیاپرتسلسل سے زیربحث ہے کہ اگرپیپلزپارٹی ن لیگ سے اتحادتوڑدے تووفاقی حکومت کی صحت پرکیااثرات مرتب ہونگے؟ وفاقی حکومت اگرچہ پیپلزپارٹی کے سہارے قائم ہے مگراسکے بدلے پیپلزپارٹی نے بھی اپنے جثے سے بڑھکرحصہ حاصل کیاہے۔اسی اتحادکے تحت آصف علی زرداری ملک کے سب سے بڑے آئینی عہدے پرمتمکن ہیں،یوسف رضا گیلانی سینیٹ کے چیئرمین،سرفرازبگٹی بلوچستان کے وزیراعلیٰ جبکہ پنجاب اورخیبرپختونخواکے گورنرزکاتعلق بھی پیپلزپارٹی سے ہے۔ قومی اسمبلی کے336ارکان میں سے اکثریت کیلئے 169 رکان کی حمایت درکارہوتی ہے۔ن لیگ کے پاس اپنے132،ایم کیوایم کے22،مسلم لیگ ق4، آئی پی پی 4،مسلم لیگ ضیا1،باپ پارٹی1 اورآزادارکان کی تعداد4ہے۔پی ٹی آئی فارورڈبلاک کے کچھ ارکان بھی حکومت کی حمایت میں سامنے آسکتے ہیں۔جبکہ پیپلزپارٹی ارکان کی تعداد74ہے۔اس وقت شہباز شریف کو243ارکان کی حمایت حاصل ہے۔ اگرپیپلزپارٹی کے74ارکان شہبازحکومت سے اپنی حمایت واپس لیں تب بھی ن لیگ کی سادہ اکثریت بدستورقائم رہے گی۔پنجاب حکومت اپنے دم پر قائم ہے اسے بھی پیپلز پارٹی کیساتھ اتحادٹوٹنے کی صورت میں کسی خطرے کاامکان نہیں۔زمانہء حال میں جوصورتحال بنتی ہوئی نظرآرہی ہے اس کے مطابق یہ اتحادٹوٹنے کی صورت میں نقصان پیپلزپارٹی کاہوگا۔اگرصدرزرداری اپنے عہدے پرفائزرہتے بھی ہیں توانکی صدارت وفاقی حکومت کی محتاج ہوگی جبکہ وزیراعظم شہبازشریف کی پوزیشن اکرچہ کمزورہوگی مگرانکی حکومت بدستورقائم رہیگی۔البتہ پی پی کے ہاتھ سے بلوچستان اورگلگت بلتستان کی حکومتیں نکل سکتی ہیں۔جبکہ خیبرپختونخوااور پنجاب کے گورنرزبھی ن لیگ لگا لے گی۔موجودہ نظام پیپلزپارٹی کی بجائے ن لیگ کے کاندھوں پرکھڑاہے۔پیپلزپارٹی شہبازیامریم حکومت کیلئے کوئی خطرہ پیداکرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ اتحاد ٹوٹنے کی صورت میں بلوچستان حکومت جے یوآئی اورن لیگ کے اتحادمیں بن سکتی ہے اس طرح اسے بلوچستان کی صوبائی حکومت سے ہاتھ دھونے پڑسکتے ہیں۔اگرپیپلزپارٹی زیادہ نخرے دکھائے گی توجے یوآئی اورن لیگ کے درمیان اتحادقائم ہوسکتا ہے جس سے بلوچستان کی حکومت جے یوآئی کومل سکتی ہے اوراس صورت میں صدرزرداری کے عہدے کوبھی خطرہ لاحق ہوسکتاہے۔جبکہ ن لیگ کی موجودہ پوزیشن پرزیادہ فرق پڑنے کاامکان نہیں۔اس شدیدچپقلش اورمحاذآرائی سے ملک 90کی دہائی والی دوپارٹی سسٹم کی جانب گامزن ہے،ممکن ہے پیپلزپارٹی وفاقی حکومت سے اپناتعاون ختم کرکے اپوزیشن بنچوں پربیٹھ جائے اس صورت میں محمودخان اچکزئی کی اپوزیشن لیڈری بھی خطرے میں پڑسکتی ہے اوراپوزیشن لیڈر بلاول بھٹوبن سکتے ہیں۔اس طرح2029ء کے انتخابات میں وہ شہباز حکومت اور ن لیگ کے خلاف بھرپورمہم چلانے میں آزادہونگے۔

Aqeel Yousafzai

سوات خودکش حملہ اور صوبائی حکومت کی ترجیحات

عقیل یوسفزئی
سوات کے علاقے کبل میں امن کے حق میں ہونے والے ایک ایونٹ کے انعقاد کے دوران پولیس اسٹیشن کے گیٹ پر گزشتہ شام خودکش حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں پولیس اہلکاروں سمیت 15 افراد شہید اور دو درجن زخمی ہوئے ۔ کالعدم ٹی ٹی پی نے رسمی طور پر حملے کی نہ صرف یہ کہ ذمہ داری قبول کی ہے بلکہ یہ دھمکی بھی دی ہے کہ پولیس اہلکاروں سمیت ان تمام ” معاونین” کو ایسے مزید حملوں کا نشانہ بنایا جائے گا جو کہ پاکستان کی فوج کی حمایت کرتے ہیں ۔ اس سے قبل ہنگو اور متعدد دیگر علاقوں میں پولیس اور فورسز پر حملے کیے گئے اور جولائی کے مہینے میں ریکارڈ تعداد میں لوگوں خصوصی طور پر پولیس کو نشانہ بنایا گیا ۔
کالعدم ٹی ٹی پی کی سوشل میڈیا ٹیم نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نے ماہ جولائی کے دوران 300 سے زائد حملے کیے ہیں مگر اس تمام تر صورتحال سے ہمیں صوبائی اور وفاقی حکومتوں کی دلچسپی اور تشویش کہیں پر بھی نظر نہیں آتیں اور عوام کو شدید نوعیت کے عدم تحفظ کا سامنا ہے ۔
جس روز سوات میں خود کش حملہ کیا گیا اس روز شمالی وزیرستان کے ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او کی ایک گاڑی پر بھی فائرنگ کی گئی ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس صوبے میں اس لیول کے سرکاری عہدے دار محفوظ نہیں ہو وہاں عام شہریوں کے تحفظ کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے؟
اسی روز پشاور شہر میں بھی پولیس کی ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں متعدد پولیس اہلکار زخمی ہوئے مگر صوبائی حکومت کے ذمہ داران 5 اگست کے جلسے کے انتظامات میں مصروف عمل رہے ۔ یہاں تک کہ بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان ان حالات کے ہوتے ہوئے اپنی خود ساختہ ” سٹریٹ موومنٹ” پر جنوبی اضلاع کا دورہ کرتی نظر آئیں ۔
وزیر اعظم ، صدر مملکت اور سیاسی قائدین نے سوات حملے کی شدید مذمت کی ہے جبکہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے واقعے کا ” نوٹس” لیتے ہوئے ” رپورٹ” طلب کی ہے ۔ مگر تلخ حقیقت تو یہ ہے حکمران محض مذمتی بیانات دیتے رہیں گے اور حملہ آور ایک اور حملہ کرنے کی پلاننگ کریں گے ۔
واقعات کی تعداد اور شرح میں اتنا اضافہ ہوا ہے کہ متعلقہ لوگوں کو پوری طرح تبصروں اور تجزیوں کا پوری طرح وقت اور موقع بھی نہیں ملتا ۔
ایسی ہی صورتحال کا بلوچستان کو بھی سامنا ہے مگر فورسز کی مسلسل کارروائیوں کے باوجود ان دو حساس صوبوں میں حالات نارمل نہیں ہورہے ۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ سیکورٹی کی بگڑتی صورتحال اور حملہ آور گروپوں کی نئی صف بندی کو مدنظر رکھتے ہوئے صوبائی اپیکس کمیٹی کا اجلاس فوری طور پر طلب کرکے تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز آپس میں مشاورت کرتے ہوئے کوئی مشترکہ لائحہ عمل اختیار کریں ورنہ عوام کا اپنے اداروں پر سے اعتماد اٹھ جائے گا ۔