Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Monday, August 3, 2026

مسلم لیگ ن اورپیپلزپارٹی کی چپقلش

وصال محمدخان
پاکستان پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ ن کے درمیان آزادکشمیرانتخابات کے پہلے مرحلے پرتنازعہ کھڑاہوچکاہے۔پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوکاکہناہے کہ آزادکشمیرالیکشن کے پہلے مرحلے میں انکے ساتھ دھاندلی ہوئی ہے۔اسی حوالے سے انہوں نے ن لیگ کیخلاف محاذسنبھال لیاہے اوربیان بازی کاایک نہ رکنے والاسلسلہ شروع کردیاگیاہے۔انکی جانب سے مسلم لیگ ن اوراسکی قیادت پرالزامات کی بارش کے بعد وزیراعلٰی پنجاب مریم نوازشریف نے بھی ایک ٹویٹ کے ذریعے جواب دیاہے جبکہ پنجاب کی وزیراطلاعات عظمیٰ بخاری اوروزیرا طلاعا ت سندھ شرجیل میمن بھی اس معاملے میں کودپڑے ہیں۔اب دونوں جانب سے لفظی گولہ باری کاایک دوام پذیرسلسلہ شروع ہوچکاہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کاکہناہے کہ یہ سلسلہ آزادکشمیرانتخابات کے آخری مرحلے تک جاری رہنے کاامکان ہے۔ بعض ذرائع کادعویٰ ہے کہ پیپلز پارٹی اورن لیگ کے درمیان گزشتہ دوبرسوں سے جواتحادقائم ہے یہ بیان بازی اسکے اختتام کاپیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے۔مگرسنجیدہ فکرتجزیہ کاروں کے مطابق یہ دونوں جماعتوں کاایک سوچاسمجھاکھیل ہے جس کے تحت تحریک انصاف کاپتاپاکستانی سیاست سے صاف کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔آج سے سال دوسال قبل ہرانتخاب کے وقت مسلم لیگ ن اورتحریک انصاف کے درمیان اسی قسم کی بیان بازی ہوتی تھی ن لیگ کی دورحکومت میں کوئی بھی انتخاب ہوتحریک انصاف اسے دھاندلی زدہ اورغیرمنصفانہ قراردیتی تھی جبکہ تحریک انصاف حکومت میں ن لیگ اسی قسم کے الزامات لگاتی تھی۔اس سے قبل جوبھی انتخاب ہوتاپنجاب کی حدتک مقابلہ ن لیگ اورتحریک انصاف کے درمیان ہوتاتھامگرگزشتہ انتخابات کے بعدپاکستانی سیاست میں یہ تبدیلی آئی ہے کہ اب ہرانتخاب کے وقت ن لیگ اورپیپلزپارٹی کے درمیان میدا ن میں بھی مقابلہ رہتاہے اورمیڈیاوسوشل میڈیاپربھی ان دونوں کے درمیان بیانات کامقابلہ عروج پرہوتاہے۔ گلگت بلتستان انتخابات میں پیپلزپارٹی نے ن لیگ پرمعمولی برتری حاصل کی تھی جسے بلاول اورآصفہ بھٹوکی زبردست انتخابی مہم سے جوڑکرکہاگیاکہ اگرن لیگ بھی اسی طرح مہم چلاتی تودوچارنشستیں مزیداسکے ہاتھ آسکتی تھیں گلگت میں ن لیگ کی حکومت کانہ بننااسکی قیادت کی جانب سے عدم دلچسپی کا نتیجہ قراردیاگیا۔اسی کودیکھتے ہوئے ن لیگ نے آزادکشمیرانتخابات کیلئے بھرپورمہم چلائی اس مہم کے تحت میاں نوازشریف نے خاصے عرصے بعدچپ کاروزہ توڑااوروہ آزادکشمیرمیں انتخابی مہم چلاتے ہوئے نظرآئے اسی طرح وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف بھی اس مہم میں سرگرم رہیں ان دونوں باپ بیٹی نے نہ صرف آزادکشمیرانتخابات کیلئے مہم،چلائی جلسوں سے خطاب کیا،امیدواروں کے نام فائنل کئے بلکہ مریم نوازشریف نے آزادکشمیرکیلئے کچھ مراعات وغیرہ کے اعلانات بھی کئے۔اسی سبب آزادکشمیرانتخابات کے پہلے مرحلے کے 13 میں سے9نشستون پرن لیگ کامیاب رہی۔ن لیگ کی یہ کامیابی بلاول بھٹو اورپیپلزپارٹی سے ہضم نہیں ہورہی ان کاخیال ہے کہ ن لیگ کی مرکزی حکومت چونکہ انکے سہارے کھڑی ہے اسلئے وہ جوچاہیں ن لیگ کی قیادت سے منواسکتے ہیں۔مگرن لیگ کی قیادت نے آزاد کشمیر انتخابی مہم میں بھرپورحصہ لیکربلاول بھٹوکے خواب چکناچورکردئے اسلئے وہ اب پیچ وتاب کھاتے ہوئے ن لیگ کیخلاف الزمات کی بوچھاڑ جاری رکھے ہوئے ہیں۔یہ معاملہ اب قومی میڈیاپرتسلسل سے زیربحث ہے کہ اگرپیپلزپارٹی ن لیگ سے اتحادتوڑدے تووفاقی حکومت کی صحت پرکیااثرات مرتب ہونگے؟ وفاقی حکومت اگرچہ پیپلزپارٹی کے سہارے قائم ہے مگراسکے بدلے پیپلزپارٹی نے بھی اپنے جثے سے بڑھکرحصہ حاصل کیاہے۔اسی اتحادکے تحت آصف علی زرداری ملک کے سب سے بڑے آئینی عہدے پرمتمکن ہیں،یوسف رضا گیلانی سینیٹ کے چیئرمین،سرفرازبگٹی بلوچستان کے وزیراعلیٰ جبکہ پنجاب اورخیبرپختونخواکے گورنرزکاتعلق بھی پیپلزپارٹی سے ہے۔ قومی اسمبلی کے336ارکان میں سے اکثریت کیلئے 169 رکان کی حمایت درکارہوتی ہے۔ن لیگ کے پاس اپنے132،ایم کیوایم کے22،مسلم لیگ ق4، آئی پی پی 4،مسلم لیگ ضیا1،باپ پارٹی1 اورآزادارکان کی تعداد4ہے۔پی ٹی آئی فارورڈبلاک کے کچھ ارکان بھی حکومت کی حمایت میں سامنے آسکتے ہیں۔جبکہ پیپلزپارٹی ارکان کی تعداد74ہے۔اس وقت شہباز شریف کو243ارکان کی حمایت حاصل ہے۔ اگرپیپلزپارٹی کے74ارکان شہبازحکومت سے اپنی حمایت واپس لیں تب بھی ن لیگ کی سادہ اکثریت بدستورقائم رہے گی۔پنجاب حکومت اپنے دم پر قائم ہے اسے بھی پیپلز پارٹی کیساتھ اتحادٹوٹنے کی صورت میں کسی خطرے کاامکان نہیں۔زمانہء حال میں جوصورتحال بنتی ہوئی نظرآرہی ہے اس کے مطابق یہ اتحادٹوٹنے کی صورت میں نقصان پیپلزپارٹی کاہوگا۔اگرصدرزرداری اپنے عہدے پرفائزرہتے بھی ہیں توانکی صدارت وفاقی حکومت کی محتاج ہوگی جبکہ وزیراعظم شہبازشریف کی پوزیشن اکرچہ کمزورہوگی مگرانکی حکومت بدستورقائم رہیگی۔البتہ پی پی کے ہاتھ سے بلوچستان اورگلگت بلتستان کی حکومتیں نکل سکتی ہیں۔جبکہ خیبرپختونخوااور پنجاب کے گورنرزبھی ن لیگ لگا لے گی۔موجودہ نظام پیپلزپارٹی کی بجائے ن لیگ کے کاندھوں پرکھڑاہے۔پیپلزپارٹی شہبازیامریم حکومت کیلئے کوئی خطرہ پیداکرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ اتحاد ٹوٹنے کی صورت میں بلوچستان حکومت جے یوآئی اورن لیگ کے اتحادمیں بن سکتی ہے اس طرح اسے بلوچستان کی صوبائی حکومت سے ہاتھ دھونے پڑسکتے ہیں۔اگرپیپلزپارٹی زیادہ نخرے دکھائے گی توجے یوآئی اورن لیگ کے درمیان اتحادقائم ہوسکتا ہے جس سے بلوچستان کی حکومت جے یوآئی کومل سکتی ہے اوراس صورت میں صدرزرداری کے عہدے کوبھی خطرہ لاحق ہوسکتاہے۔جبکہ ن لیگ کی موجودہ پوزیشن پرزیادہ فرق پڑنے کاامکان نہیں۔اس شدیدچپقلش اورمحاذآرائی سے ملک 90کی دہائی والی دوپارٹی سسٹم کی جانب گامزن ہے،ممکن ہے پیپلزپارٹی وفاقی حکومت سے اپناتعاون ختم کرکے اپوزیشن بنچوں پربیٹھ جائے اس صورت میں محمودخان اچکزئی کی اپوزیشن لیڈری بھی خطرے میں پڑسکتی ہے اوراپوزیشن لیڈر بلاول بھٹوبن سکتے ہیں۔اس طرح2029ء کے انتخابات میں وہ شہباز حکومت اور ن لیگ کے خلاف بھرپورمہم چلانے میں آزادہونگے۔

وائس آف کے پی اور اسکی پالیسی کا لکھاری کی رائے سے متفق ہوناضروری نہیں ہے۔

مسلم لیگ ن اورپیپلزپارٹی کی چپقلش

Shopping Basket