عقیل یوسفزئی
سوات کے علاقے کبل میں امن کے حق میں ہونے والے ایک ایونٹ کے انعقاد کے دوران پولیس اسٹیشن کے گیٹ پر گزشتہ شام خودکش حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں پولیس اہلکاروں سمیت 15 افراد شہید اور دو درجن زخمی ہوئے ۔ کالعدم ٹی ٹی پی نے رسمی طور پر حملے کی نہ صرف یہ کہ ذمہ داری قبول کی ہے بلکہ یہ دھمکی بھی دی ہے کہ پولیس اہلکاروں سمیت ان تمام ” معاونین” کو ایسے مزید حملوں کا نشانہ بنایا جائے گا جو کہ پاکستان کی فوج کی حمایت کرتے ہیں ۔ اس سے قبل ہنگو اور متعدد دیگر علاقوں میں پولیس اور فورسز پر حملے کیے گئے اور جولائی کے مہینے میں ریکارڈ تعداد میں لوگوں خصوصی طور پر پولیس کو نشانہ بنایا گیا ۔
کالعدم ٹی ٹی پی کی سوشل میڈیا ٹیم نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نے ماہ جولائی کے دوران 300 سے زائد حملے کیے ہیں مگر اس تمام تر صورتحال سے ہمیں صوبائی اور وفاقی حکومتوں کی دلچسپی اور تشویش کہیں پر بھی نظر نہیں آتیں اور عوام کو شدید نوعیت کے عدم تحفظ کا سامنا ہے ۔
جس روز سوات میں خود کش حملہ کیا گیا اس روز شمالی وزیرستان کے ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او کی ایک گاڑی پر بھی فائرنگ کی گئی ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس صوبے میں اس لیول کے سرکاری عہدے دار محفوظ نہیں ہو وہاں عام شہریوں کے تحفظ کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے؟
اسی روز پشاور شہر میں بھی پولیس کی ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں متعدد پولیس اہلکار زخمی ہوئے مگر صوبائی حکومت کے ذمہ داران 5 اگست کے جلسے کے انتظامات میں مصروف عمل رہے ۔ یہاں تک کہ بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان ان حالات کے ہوتے ہوئے اپنی خود ساختہ ” سٹریٹ موومنٹ” پر جنوبی اضلاع کا دورہ کرتی نظر آئیں ۔
وزیر اعظم ، صدر مملکت اور سیاسی قائدین نے سوات حملے کی شدید مذمت کی ہے جبکہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے واقعے کا ” نوٹس” لیتے ہوئے ” رپورٹ” طلب کی ہے ۔ مگر تلخ حقیقت تو یہ ہے حکمران محض مذمتی بیانات دیتے رہیں گے اور حملہ آور ایک اور حملہ کرنے کی پلاننگ کریں گے ۔
واقعات کی تعداد اور شرح میں اتنا اضافہ ہوا ہے کہ متعلقہ لوگوں کو پوری طرح تبصروں اور تجزیوں کا پوری طرح وقت اور موقع بھی نہیں ملتا ۔
ایسی ہی صورتحال کا بلوچستان کو بھی سامنا ہے مگر فورسز کی مسلسل کارروائیوں کے باوجود ان دو حساس صوبوں میں حالات نارمل نہیں ہورہے ۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ سیکورٹی کی بگڑتی صورتحال اور حملہ آور گروپوں کی نئی صف بندی کو مدنظر رکھتے ہوئے صوبائی اپیکس کمیٹی کا اجلاس فوری طور پر طلب کرکے تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز آپس میں مشاورت کرتے ہوئے کوئی مشترکہ لائحہ عمل اختیار کریں ورنہ عوام کا اپنے اداروں پر سے اعتماد اٹھ جائے گا ۔


