IG FC Bajaur Visit

آئی جی ایف سی نارتھ کا ڈسٹرکٹ پولیس آفس باجوڑ کا دورہ، سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ

باجوڑ: انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کور (نارتھ) راؤ عمران سرتاج نے ڈسٹرکٹ پولیس آفس باجوڑ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے پولیس افسران سے ملاقات کے دوران ضلع میں امن و امان کی صورتحال، سیکیورٹی انتظامات اور درپیش چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا۔

اس موقع پر کمانڈنٹ باجوڑ اسکاؤٹس بریگیڈیئر وقاص گھمن، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر باجوڑ خان زیب مہمند، ڈپٹی کمشنر عدنان فرید اور ایس پی انویسٹی گیشن اجمل خان بھی موجود تھے۔

آئی جی ایف سی نارتھ نے پولیس جوانوں سے ملاقات کرتے ہوئے ان کے جذبے، حوصلے اور پیشہ ورانہ کارکردگی کو سراہا۔ انہوں نے جوانوں کو ہدایت کی کہ شرپسند عناصر کے مذموم عزائم ناکام بنانے، امن و امان برقرار رکھنے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے مستعدی، پیشہ ورانہ صلاحیت اور باہمی تعاون کے ساتھ فرائض انجام دیے جائیں۔

ملاقات کے دوران ضلعی انتظامیہ، پولیس اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان مؤثر رابطے اور باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اظہار کیا گیا۔

Revenue Darbar Takhtbhai Mardan

مردان میں عوامی ریونیو دربار، متعدد مسائل کے حل کے لیے موقع پر احکامات جاری

مردان: عوامی مسائل کے بروقت حل اور سروس ڈیلیوری کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ مردان کے زیر اہتمام سروس ڈیلیوری سنٹر میں عوامی ریونیو دربار کا انعقاد کیا گیا۔

دربار کی صدارت اسسٹنٹ کمشنر تخت بھائی علینہ شکیل ناگرہ نے کی، جبکہ ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنرز سردار بہرام اور منیزہ خان، تحصیلدار رحمان الرشید، تحصیلدار ایس ڈی سی محمد شعیب، محکمہ مال کے گرداورز، ایس ڈی سی عملہ، علاقہ عمائدین، منتخب نمائندوں، کسانوں اور زمینداروں نے شرکت کی۔

اس موقع پر شرکاء نے بینک کاؤنٹر، جائیداد، حد بندی، میراث، انتقالات، فرد بدر، ناموں اور سرکاری ریکارڈ میں غلطیوں کی درستگی سمیت دیگر ریونیو امور سے متعلق مسائل اور شکایات پیش کیں۔

اسسٹنٹ کمشنر علینہ شکیل ناگرہ نے متعدد مسائل کے حل کے لیے موقع پر ہی احکامات جاری کیے، جبکہ دیگر معاملات متعلقہ محکموں کو فوری کارروائی، باہمی رابطے سے مسائل کے حل اور مقررہ مدت میں پیش رفت رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی۔

انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل کا بروقت حل ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ کھلی کچہریوں اور ریونیو درباروں کا مقصد شہریوں کو سرکاری اداروں تک براہِ راست رسائی فراہم کرنا، ان کی شکایات سننا اور ان کے مسائل کے فوری اور مؤثر حل کو یقینی بنانا ہے۔

اسسٹنٹ کمشنر نے محکمہ مال کے اہلکاروں پر زور دیا کہ عوامی شکایات کے ازالے میں کسی قسم کی غفلت نہ برتی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے درباروں سے عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان رابطے بہتر ہوتے ہیں، جبکہ بالمشافہ گفتگو کے ذریعے مسائل کے حل کے لیے قابلِ عمل تجاویز بھی سامنے آتی ہیں۔

Ceremony in honor of Khyber Pakhtunkhwa karate player Shamsul Arifeen, who won gold and silver medals in Sri Lanka

سری لنکا میں گولڈ اور سلور میڈل جیتنے والے کھلاڑی شمس العارفین کے اعزاز میں تقریب

پشاور: سری لنکا میں منعقدہ ساؤتھ ایشیا فل کنٹیکٹ شن کیوکوشن کراٹے چیمپئن شپ میں گولڈ اور سلور میڈل جیتنے والے خیبرپختونخوا کے نوجوان کھلاڑی شمس العارفین کے اعزاز میں خصوصی تقریب منعقد ہوئی، جس میں ان کی بین الاقوامی سطح پر شاندار کارکردگی کو سراہا گیا۔

تقریب کے دوران ڈائریکٹر جنرل سپورٹس خیبرپختونخوا اشفاق احمد خان نے شمس العارفین کو خصوصی ٹرافی پیش کی اور انہیں دو بین الاقوامی تمغے جیتنے پر مبارکباد دی۔ اس موقع پر فل کنٹیکٹ کراٹے ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا کے صوبائی صدر صاحبزادہ الہادی اور صوبائی وائس چیئرمین ملک جی بھی موجود تھے۔

ڈی جی سپورٹس نے کہا کہ شمس العارفین نے بین الاقوامی مقابلے میں نمایاں کامیابی حاصل کرکے ملک اور صوبے کا نام روشن کیا ہے۔ انہوں نے نوجوان کھلاڑی کی محنت، صلاحیت اور عزم کو سراہتے ہوئے مستقبل میں مزید کامیابیوں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

واضح رہے کہ شمس العارفین نے مذکورہ چیمپئن شپ میں انفرادی کاتا کے مقابلے میں گولڈ جبکہ کمیٹے میں سلور میڈل حاصل کیا تھا۔

DG Sports

پی سی بی انٹر اسکول کرکٹ چیمپئن شپ, نوجوان کرکٹرز میں کٹس تقسیم

پشاور: پی سی بی انٹر اسکول کرکٹ چیمپئن شپ 2026 کے سلسلے میں پمز کرکٹ کلب کے زیر اہتمام پمز اسکول میں کٹس تقسیم کرنے کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں نوجوان کرکٹرز میں کھیلوں کا سامان تقسیم کیا گیا۔

تقریب کے مہمانِ خصوصی پمز ایجوکیشن سسٹم کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) اسماعیل خان تھے، جبکہ فرسٹ کلاس کرکٹر حمد الحسن، پشاور ریجن کرکٹ کے سیکرٹری سید حنیف شاہ اور پمز ایجوکیشن سسٹم کے منیجنگ ڈائریکٹر انور خان سمیت دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔

اس موقع پر منتظمین نے کہا کہ نوجوان کھلاڑیوں کو بہتر سہولیات اور سازگار کھیلوں کا ماحول فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ کٹس کی تقسیم کا مقصد اسکول کی سطح پر کرکٹ کو فروغ دینا اور باصلاحیت نوجوان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

تقریب کے دوران مہمانوں نے نوجوان کرکٹرز میں کٹس تقسیم کیں اور انہیں چیمپئن شپ میں بھرپور محنت، نظم و ضبط اور کھیل کے جذبے کے ساتھ شرکت کرنے کی تلقین کی۔

PHC on Delayed NFC Award

نئے این ایف سی ایوارڈ کے اجرا میں تاخیر پر پشاور ہائیکورٹ کا نوٹس، اٹارنی جنرل طلب

پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے 16 سال سے نئے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے اجرا نہ ہونے سے متعلق درخواست پر اٹارنی جنرل آف پاکستان کو طلب کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے وضاحت طلب کر لی ہے۔

سابق صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا کی جانب سے دائر رٹ پٹیشن پر سماعت جسٹس اعجاز انور اور جسٹس کامران حیات میانخیل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ سابق فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کے بعد صوبے کی آبادی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث صوبے کے قومی مالیاتی کمیشن میں حصے پر نظرثانی ناگزیر ہے۔ درخواست گزار کے مطابق قانون کے تحت ہر پانچ سال بعد نئے این ایف سی ایوارڈ کا اجرا ہونا چاہیے۔

دورانِ سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ جب وفاق میں درخواست گزار کی جماعت کی حکومت تھی تو اس وقت خیبرپختونخوا کو نیا حصہ کیوں نہیں دیا گیا؟ اس پر درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ وفاق میں کسی بھی جماعت کی حکومت ہو، فاٹا کے انضمام کے بعد صوبے کو اس کا جائز مالیاتی حصہ نہیں دیا گیا۔

ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا شاہ فیصل اتمانخیل نے دلائل دیتے ہوئے بتایا کہ وفاقی حکومت نے عدالت میں ایک رپورٹ جمع کرائی ہے، جس کے مطابق قبائلی اضلاع کے لیے 27 ارب روپے جاری کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا کے انضمام کا بنیادی مقصد وہاں فنڈز کی یکساں تقسیم اور ترقیاتی عمل کو یقینی بنانا تھا۔

ایڈووکیٹ جنرل نے مزید بتایا کہ این ایف سی ایوارڈ کے علاوہ قبائلی اضلاع کے لیے 2023 سے 115 ارب روپے کے الگ فنڈز بھی واجب الادا ہیں، جبکہ اب یہ رقم مزید بڑھ چکی ہے۔

اسسٹنٹ اٹارنی جنرل بلال احمد درانی نے عدالت کو آگاہ کیا کہ قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ صرف وفاقی حکومت کا معاملہ نہیں بلکہ اس میں تمام صوبوں کے وزرائے خزانہ بھی شامل ہوتے ہیں۔

عدالت کو بتایا گیا کہ آخری قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ 2010 میں جاری کیا گیا تھا۔ عدالت نے معاملے کی مزید وضاحت کے لیے اٹارنی جنرل آف پاکستان کو طلب کرتے ہوئے سماعت 11 نومبر تک ملتوی کر دی۔

Wisal Articel regarding KP Situation

ایمرجنسی یاگورنرراج؟

وصال محمدخان
خیبرپختونخواسمیت پورے ملک میں قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ صوبے میں ایمرجنسی نافذہوگی یاپھرگورنرراج کانفاذہوگا؟اگرسرسری طور پر جائزہ لیاجائے کہ یہ حالات کیونکرپیداہوئے تو خیبرپختونخواکی صوبائی حکومت کی کارکردگی سے وطن عزیزکابچہ بچہ واقف ہے موجود ہ وزیر اعلیٰ جب سے برسراقتدارآئے ہیں انہوں نے اپنابیشتروقت صوبے سے باہر سیاسی سرگرمیوں میں گزاراہے اس دوران انہوں نے پنجاب کے تین،سندھ کے دواوربلوچستان کاایک دورہ کیاہے۔ یہ دورے باقاعدہ سرکاری نہیں بلکہ ذاتی سیاسی دورے تھے اوران میں انہوں نے وہاں عوامی اجتماعات،جلسے،جلوسوں اورریلیوں سے خطاب بھی کیااوروہاں کی صوبائی حکومتوں کوکڑی تنقیدکانشانہ بھی بنایاجبکہ دوسری جا نب اگرصوبے کاجائزہ لیاجائے توایک رپورٹ کے مطابق انکے دورِوزارت اعلیٰ میں 3811حملے کئے گئے ہیں جن کی روزانہ اوسط 12 بنتی ہے ان واقعات میں بشمول235پولیس اہلکارو افسران اورعام شہری 5سوسے زائدافراد شہیدہوئے ہیں۔ یعنی ہرروز7افرادکی شہادت ہوئی ہے۔1584عام شہری،فوج،پولیس اورایف سی اہلکارزخمی ہوئے ہیں۔150 پولیس چوکیوں یاچیک پوسٹوں کونشانہ بنایاگیاہے۔ قابل افسوس امریہ ہے کہ 80فیصد واقعات کے رونماہوتے وقت وزیراعلیٰ صوبے میں موجودنہیں تھے۔ گزشتہ5اگست کو انہوں نے پشاور جلسے میں 27ستمبراسلام آبادمارچ کااعلان کیاجس کے بعد پہلے توخیبرپختونخواکے طول وعرض اوربعدازاں سندھ اورپنجاب کے دورے کئے جہاں کارکنوں کو27ستمبرلانگ مارچ میں شرکت کی تلقین کی اورکہا کہ اس بارناکامی کی صورت میں ہم کبھی کامیاب نہ ہوسکیں گے یعنی مجوزہ لانگ مارچ کوانہوں نے زندگی اورموت کامسئلہ قراردیا۔اس مارچ کیلئے انہوں نے 53روزتک صوبے سمیت پورے ملک میں ایک جذباتی ماحول پیداکرنیکی کوشش کی۔انکے ارادوں اورسابقہ ریکارڈ کومدنظررکھتے ہوئے وفاقی حکومت کے بھی کان کھڑے ہوگئے اور بلوائیو ں سے نمٹنے کیلئے جدیداورسائنسی انتظامات کئے گئے بلکہ ان سخت اقدامات کاڈھنڈورا بھی پیٹاگیاجس سے سہیل آفریدی اورانکی پارٹی دباؤ میں آگئے اورمقررہ دن سے دوروزقبل مارچ 5 اکتوبرتک ملتوی کرنے کااعلان کرتے ہوئے 27ستمبرکی تاریخ سے ہی مکرگئے اورپریس کانفرنس میں صحافی کوچیلنج دیاکہ میراوہ بیان سامنے لایاجائے جس میں،میں نے 27 ستمبر کی تاریخ دی ہوحالانکہ 5اگست کے بعدوہ 27 ستمبرکی گردان کرتے ہوئے نظرآئے۔مارچ توایک ہفتے کیلئے مؤخرکردیاگیا مگر ریاستی حلقو ں نے اس بارمارچ کاانتہائی برامنایااورسہیل آفریدی سمیت خیبرپختونخواحکومت کامستقل بندوبست کرنے کی سوچ سامنے آئی وفاقی وزرا کے بیانات سے صاف جھلک رہا ہے کہ گورنر راج یاایمرجنسی کے حوالے سے چلنے والی بحث بے بنیادنہیں بلکہ یہ وقوعہ رونما ہونے میں زیادہ دیربھی نہیں۔ خیبرپختونخواسے تعلق رکھنے والے بیشترصحافتی حلقے روزاول سے ہی صوبائی حکومت کی خدمت میں عرض کرتے چلے آر ہے ہیں کہ خدارااس حساس صوبے کے معاملات لاابالی پن اوراحمقانہ حرکتوں کی بجائے سنجیدگی کے متقاضی ہیں۔یہ صوبہ مسائل کاگڑھ اسی لئے بن چکاہے کہ گزشتہ 13برس سے اسکے سلگتے ہوئے مسائل پرتوجہ دینے کی بجائے یہاں کی حکومت اوروسائل کو سیاسی پروموشن کیلئے استعمال کیاگیا۔اس جماعت کے اولین وزیراعلیٰ پرویزخٹک کوتجربہ کاراورزیرک سیاستدان سمجھاجاتاہے مگرانکے دورمیں بھی انہی اوچھی حرکتوں کاسلسلہ جاری رہا۔کچھ حلقے پرویزخٹک دور کوبہترقراردے رہے ہیں مگراس دورمیں صوبائی وسائل ڈی چوک دھرنوں کیلئے استعمال ہوتے رہے،ڈیزل اورپٹرول کے بھرے ڈرمز روزانہ یہاں سے جاتے رہے،جن کی ویڈیوزبھی سامنے آئیں،وزیراعلیٰ نہ صرف ڈھول کی تھاپ پررقص کرتے رہے بلکہ وہ بھی اسی طرح کامارچ لیکراسلام آبادپرحملہ آورہوئے اورسب سے بڑھکریہ کہ سینیٹ انتخابات میں پارٹی کے 22 ارکان باجماعت بک گئے جن میں سے بیشترنے بعدمیں الزام لگایاکہ انہوں نے سی ایم کے حکم پررقم وصول کی۔انکے بعدمحمودخان وزیراعلیٰ بنے جنہوں نے چاربرس کے دوران نہ ہی وفاق سے صوبائی واجبات کا مطالبہ کیا،صوبائی حقوق کیلئے زبان کوحرکت تک نہ دی اورنہ ہی ان چارسالوں میں این ایف سی اجلاس منعقدکرکے صوبے کاحصہ بڑھانے کامطالبہ کیاگیا۔محمودخان وزارت اعلیٰ ملنے پرسرشارتھے،پرویزخٹک ایک کمزوروزیراعلیٰ لانے پرخوش تھے جبکہ عمران خان بزدارپلس کی دریافت پرشاداں رہے۔عدم اعتمادکے آئینی طریقے سے عمران حکومت کی رخصتی پرمحمودخان نے بھی دو مرتبہ اسلام آباد لانگ مارچ کی کوشش کی اوربعدازاں غیرضروری طورپردس ماہ قبل اسمبلی توڑدی۔2024ء میں پارٹی کوایک بارپھر اکثر یت ملی توعلی امین گنڈاپورکووزیراعلیٰ نامزدکیاگیاجنہوں نے اس عہدۂ جلیلہ سے انصاف کیاکرناتھاوہ بھی اسلام آبادمارچوں کامشغلہ پالتے رہے مگرناکامی کے باعث انہیں جیل سے مستعفی ہونے کاحکم ملاتوقرعہ فال سہیل آفریدی کے نام نکلاجنہوں نے بچگانہ اقداما ت کے سابقہ تمام ریکارڈزتوڑڈالے۔نہ انہیں صوبے میں دہشتگردی کی پرواہ ہے، نہ افغان مہاجرین کی واپسی کے سلسلے میں ریاست سے تعاون کرتے ہیں اورنہ ہی وہ حکومتی معاملات پرتوجہ دینے کی زحمت اٹھاتے ہیں صبح سے شام تک بانی کورہاکروائینگے احتجاج کرینگے،احتجاج ہماراجمہوری حق ہے کی گردان جاری رکھتے ہیں شعلہ بیانی سے اب اسمبلی فلورپر خواتین بھی محفوظ نہیں جبکہ وفاقی وزرا کے نام بگاڑنااورشکل کامذاق اڑانا وطیرہ بنالیاگیاہے۔صوبے سے ملحقہ سرحدپرافغانستان کیساتھ ملک کو جنگی صورتحال درپیش ہے،صوبے میں دہشتگرددندناتے پھررہے ہیں عام شہری،پولیس اورفوجی اہلکارنشانہ بنائے جاتے ہیں مگر وزیراعلیٰ اس سے لاتعلقی اختیارکئے ہوئے ہیں۔ ان حالات میں صوبے کے اندر سے بھی جبکہ وفاق اورملک کے دیگرحصوں میں بھی یہی رائے عامہ ہموار ہورہی ہے کہ اگرخیبرپختونخواکی حکومت اپنی ذمے داریاں پوری کرنے سے قاصرہے تواسے رخصت کیاجائے۔ وفاق کی جانب سے بھی تواترکیساتھ حکومت کی رخصتی،گورنرراج یاایمرجنسی کی باتیں سامنے آرہی ہیں۔حکمران جماعت کواب ادراک ہورہاہے کہ اسکی طرزحکمرانی ریاستی سلامتی کیلئے نقصان دہ ہے اسلئے وزیراعلیٰ کی تبدیلی پرغور ہو رہاہے مگرجب تک عمران خان کو رہائی کیلئے دوسراآپشن دستیاب نہ ہونئے وزیراعلیٰ بھی اسی راہ کے راہی ہونگے۔موجودہ حالات میں خیبرپختونخواکاگورنرراج یاایمرجنسی سے محفوظ رہنامعجزہ ہی ہوگا۔