کالعدم ٹی ٹی پی نے ماہ جنوری ( 2026 ) کے دوران پاکستان خصوصاً خیبرپختونخوا پر کرایے گئے حملوں کی تفصیلات جاری کی ہیں جبکہ بلوچستان میں دو تین دنوں کے دوران ہونے والے ایک درجن سے زائد حملوں کے دوران جہاں ایک طرف 140 سے زائد حملہ آوروں کو ہلاک کردیا گیا وہاں 30 سے زائد سیکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کو بھی شہید کیا گیا تاہم پی ٹی آئی اس تمام صورتحال کے باوجود ریاست مخالف پروپیگنڈا اور پالیسیوں پر عمل پیرا دکھائی دی ۔
کالعدم ٹی ٹی پی کے میڈیا سیل نے 31 تاریخ کو دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جنوری کے مہینے میں 245 حملے کیے ہیں ۔ ان حملوں کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں اور دیگر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے تاہم خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے اسی روز ( 31 جنوری) کو جمرود میں جرگہ کے نام پر منعقدہ جلسے سے اپنے خطاب میں تیراہ سمیت پورے خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی صورتحال کی خرابی کی ذمہ داری پھر سے ریاستی اداروں پر ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ چیف ایگزیکٹیو کے طور پر کسی کو آپریشن کرنے کی اجازت نہیں دیں گے ۔ انہوں نے اپنے خطاب میں خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں حملے کرانے والوں کی مذمّت کرنے کی تکلیف ہی گوارا نہیں کی حالانکہ جس وقت وہ جمرود میں خطاب کررہے تھے اس وقت ملکی اور عالمی میڈیا بلوچستان میں ہونے والے حملوں اور فورسز کی کارروائیوں کو بریکنگ نیوز کے طور پر چلارہا تھا اور اقوام متحدہ ، امریکہ ، چین ، سعودی عرب اور دیگر ممالک ، پلیٹ فارمز سے پاکستان کے ساتھ اظہار یکجھتی کے پیغامات میڈیا پر چل رہے تھے ۔
اپر سے پی ٹی آئی کے لیڈروں اور بیرون ملک مقیم یوٹیوبرز بلوچستان کے معاملے پر اس کے باوجود طنزیہ تبصرے کرتے دکھائی دیے کہ فورسز نے 12 علاقوں میں ریکارڈ کارروائیاں کرتے ہوئے ڈیڑھ سو حملہ آوروں کو ہلاک کردیا تھا ۔
بے تکی باتیں کرنے والی پی ٹی آئی کی رکن قومی اسمبلی شاندانہ گلزار نے وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کو اس نازک وقت پر تنقید کا نشانہ بنانے کے علاؤہ تمسخر کا نشانہ بنانے سے بھی گریز نہیں کیا جبکہ پارٹی نے 30 سے زائد سیکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کی شہادت کی رسمی مذمت بھی نہیں کی جس سے یہ بات پھر سے ثابت ہوگئی کہ پی ٹی آئی ریاست مخالف پروپیگنڈا اور پالیسی سے باز نہیں آرہی ۔
بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق بلوچستان میں تین دنوں کے دوران 17 سیکیورٹی اہلکاروں اور 30 شہریوں کو حملوں کے دوران شہید کیا گیا تاہم پی ٹی آئی اور اس کے صوبائی حکمران اس موقع پر بھی پولیٹیکل پوائنٹ اسکورنگ سے باز نہیں آئے ۔ شاندار گلزار نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کا تمسخر اڑانے سے چند روز قبل یہ ” انکشاف” بھی کیا تھا کہ تیراہ آپریشن اس لیے کیا جارہا ہے کہ امریکہ وہاں پر باگرام ائیر بیس جیسا سسٹم بنانا چاہ رہا ہے ۔ ان کے اس بات پر ان کا زبردست مذاق اڑایا گیا مگر وہ اپنی بے تکی باتوں اور بیانات سے باز نہیں آئی نہ ہی پارٹی کی قیادت نے ان کی ایسی باتوں کا کوئی نوٹس لیا ۔
عین اسی عرصے کے دوران بانی پی ٹی آئی کے ایک اسپتال میں کرایے گئے علاج کو ملک کا سب سے بڑا ایشو قرار دیتے ہوئے اسے پولیٹیکل پوائنٹ اسکورنگ کے لیے استعمال کیا گیا اور پاکستان کے میں سٹریم میڈیا نے بھی تقریباً ایک ہفتے تک اس ” نان ایشو” کو سب سے بڑا مسئلہ بناکر پیش کیا ۔
انہی دنوں ضلع خیبر خصوصاً وادی تیراہ کے ایشو پر باڑہ سیاسی اتحاد کے زیر اہتمام ایک جرگے کا انعقاد کیا گیا جس میں تمام پارٹیوں کے نمائندوں اور قبائلی عمائدین شریک ہوئے تاہم پی ٹی آئی نے اس جرگے کی شکایات اور تجاویز کا نوٹس لینے کی بجائے حقائق مسخ کرتے ہوئے اسے عسکری جرگہ کا نام دیا اور اس کے خلاف بھرپور پروپیگنڈا مہم چلائی حالانکہ اس دوران یہ اطلاعات گردش کرتی رہیں کہ متاثرین تیراہ کے لیے صوبائی حکومت کی جانب سے مختص کردہ 4 ارب روپے کے فنڈز میں بڑے پیمانے پر کرپشن کیا گیا ہے اور متاثرین کی بجائے پی ٹی آئی کے کارکنوں میں کروڑوں روپے تقسیم کیے گئے ہیں مگر صوبائی حکومت جوابدہی کی بجائے حسب معمول ریاست مخالف پروپیگنڈا میں مصروف عمل رہی۔
اس صورتحال پر دیگر حلقوں کے علاوہ قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر اور تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود اچکزئی نے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نہ صرف یہ کہا کہ عمران خان کی بیماری سے متعلق غیر ضروری پروپیگنڈا کیا گیا بلکہ بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق انہوں نے پی ٹی آئی کی اہم قیادت کے ساتھ ہونے والی ایک ملاقات میں پارٹی کی پروپیگنڈا مشینری کو بھی کھل کر تنقید کا نشانہ بنایا اور یہاں تک کہا کہ اگر پارٹی کی سرگرمیاں صرف سوشل میڈیا تک محدود رہتی ہیں تو ان سمیت دیگر کے لیے بھی پی ٹی آئی کا دفاع کرنا مشکل ہو جایے گا ۔
اس تمام صورتحال پر اظہار تشویش کرتے ہوئے ملک کے اہم لیڈروں اور ممتاز تجزیہ کاروں نے سخت تنقید کی ۔ اے این پی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے کراچی میں اپنے ایک خطاب میں مطالبہ کیا کہ ان تمام کرداروں کو سزائیں دی جائیں جو کہ کالعدم ٹی ٹی پی کے ہزاروں دہشت گردوں کو واپس لانے سمیت سہولت کاری فراہم کرتے رہے ہیں ۔ وفاقی وزیر امیر مقام نے اپنے ردعمل میں کہا کہ خیبرپختونخوا کے سرکاری وسائل ریاست مخالف سرگرمیوں اور پروپیگنڈا کے لیے استعمال کیے جارہے ہیں اور صوبائی حکومت آمن کے قیام سے لاتعلق ہے ۔ سابق وزیر اعلیٰ آفتاب خان شیرپاؤ نے اپنے ردعمل میں کہا کہ صوبائی حکومت اور پی ٹی آئی کی پالیسیوں کی وجہ سے خیبرپختونخوا میدان جنگ میں تبدیل ہوکر رہ گیا ہے اور عوام کو سخت بے چینی کا سامنا ہے ۔
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ اگر صوبائی حکومت کو واقعی فوجی کارروائیوں میں آن بورڈ نہیں لیا جارہا تو وزیر اعلیٰ مستعفی ہو جائیں ۔ مولانا فضل الرحمان نے تو یہاں تک کہا کہ جس علاقے ( ڈی آئی خان) میں ان کا گھر ہے وہاں شام کے بعد طالبان وغیرہ کی حکمرانی ہوتی ہے ۔
اسی تناظر میں اپنے تبصرے میں ممتاز اینکر پرسن عاصمہ شیرازی نے کہا کہ یہ بات کافی تشویشناک ہے کہ خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت اور پی ٹی آئی 8 فروری کو خیبرپختونخوا کو سیل کرنے کی کوشش اور پلاننگ کررہی ہیں ۔ ان کے بقول تیراہ آپریشن کو متنازعہ بنانے کی کوشش کرتے ہوئے اس پر پولیٹیکل پوائنٹ اسکورنگ کی گئی ۔
سینئر صحافی طلعت حسین نے کہا کہ پی ٹی آئی اپنی دشمنی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور یہ ” اعزاز” کسی اور پارٹی کو حاصل نہیں ہے ۔
ممتاز اینکر پرسن بتول راجپوت نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے ایک جلسے میں خطاب کرتے ہوئے اپنے قتل کا ذکر کرتے ہوئے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اگر ایسی کوئی بات اور خدشہ ہے تو وزیر اعلیٰ کو وفاقی حکومت سے رابطہ کرنا چاہیے ۔ ان کے بقول اگر ایک جانب خیبرپختونخوا کو مسلسل حملوں کا سامنا ہے تو دوسری جانب بلوچستان میں بی ایل اے وغیرہ کی جانب سے ایسی جنگ کا سامنا ہے جس کے ہینڈلرز بیرون ملک بھیٹے پراکسیز کا حصہ بنے ہوئے ہیں ۔
تجزیہ کار حسن خان کے مطابق خیبرپختونخوا کو سنگین سیکیورٹی چیلنجز کے باوجود بیڈ گورننس اور کرپشن کے تناظر میں تجربہ گاہ میں تبدیل کردیا گیا ہے اور پی ٹی آئی صوبے کی اونرشپ لینے کو تیار نہیں ہے ۔
یہ تمام توڑ پھوڑ ایک ایسے وقت میں جاری رہی جب عالمی میڈیا پاکستان کے پڑوسی ملک ایران پر مجوزہ امریکی حملے کی رپورٹس جاری کرنے میں مصروف عمل رہا اور عالمی میڈیا افغانستان اور بھارت کی پاکستان مخالف گٹھ جوڑ کے بعد ایران میں کسی متوقع تبدیلی یا عدم استحکام کو پاکستان کے لیے ایک اور بڑے خطرے کی نشاندھی میں مصروف رہا ۔بلوچستان میں کرایے گئے منظم حملوں کو بھی ملکی اور غیر ملکی ماہرین اسی تناظر میں دیکھتے رہے مگر خود کو مقبول پارٹی قرار دینے والی پی ٹی آئی اس نازک صورتحال میں بھی نہ صرف ریاست مخالف سرگرمیوں میں مصروف عمل رہی بلکہ پشتون کارڈ استعمال کرنے کے خطرناک پریکٹس کے علاوہ جنگ زدہ خیبرپختونخوا کے سرکاری وسائل بھی سیاسی مقاصد کی حصول کے لیے استعمال کرتی رہی ۔


