عقیل یوسفزئی
میڈیا کے معتبر عالمی اداروں ، متعدد امریکی حکام اور سفارتی حلقوں کی رپورٹس کے مطابق پاکستان مڈل ایسٹ میں ایران ، عرب ممالک اور امریکہ کے درمیان سیز فائر یا مصالحت کے لیے ایک فیصلہ کن کردار ادا کرنے لگا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق اس پریکٹس میں ترکی ، مصر اور اومان پاکستان کی معاونت کررہے ہیں ۔ امریکی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان گزشتہ روز مڈل ایسٹ ایشو پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ وزیر خارجہ اس ڈار کے مختلف ممالک کے عہدے داروں سے گفتگو ہوئی ۔
صدر ٹرمپ نے منگل کی شام کو وزیر اعظم شہباز شریف کی ایکس پر جاری اس بیان کو ری ٹویٹ کردیا جس میں وزیر اعظم نے مصالحت اور مذاکرات سے متعلق اپنی پیشکش کی تھی ۔ تاہم اس تمام تر آن دی ریکارڈ تاریخی پیشرفت کو ایک مخصوص ریاست مخالف پارٹی نے عین اسی طرح اپنے پروپیگنڈا کے لیے استعمال کیا جیسا کہ اس پارٹی نے شیعہ علماء کی فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ کی گئی ملاقات کے بعد استعمال کیا تھا ۔ حد تو یہ ہے کہ اس مخصوص پارٹی کے یوٹیوبرز نے عین وہی بیانیہ اختیار کیا جو کہ انڈین میڈیا کی جانب سے خود کو ” تسلی ” دینے کے لیے استعمال کیا جارہا تھا ۔ ” مشترکہ بیانیہ” کی اس احمقانہ مہم جوئی کو افغانستان سے متعلق ان کی مشترکہ پروپیگنڈا کا ” پارٹ 2 ” کہا جاسکتا ہے مگر پوری دنیا کی رپورٹس کو اس احمقانہ مہم جوئی کے ذریعے کاؤنٹر نہیں کیا جاسکتا۔
دوسری جانب جنگ زدہ خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے بلوچستان یاترا کے دوران بعض سیاسی شیعہ لیڈروں کے اس موقف کو پیش کرنے کا راستہ اختیار کیا جو کہ پاکستان اور ایران سے متعلق غلط بیانی پر مشتمل تھا اور اس مہم جوئی کو سینٹ میں پی ٹی آئی کے سربراہ کی مکمل سرپرستی حاصل تھی ۔ اس تمام تر صورتحال کے نتیجے میں اس تاثر کو ایک بار پھر تقویت ملی کہ پی ٹی آئی کے لیڈر اور اس کے بعض ہمنوا گروپ ریاست سے متعلق اپنی غلط بیانی کی پالیسی سے باز نہیں آنے والے حالانکہ اس دوران یہ خوش فہمی پر مشتمل یہ جھوٹی خبریں بھی چلائی گئیں کہ ریاست پارٹی کے بانی سے مذاکرات کا آغاز کرنے والی ہے ۔
( 25 مارچ 2026 )


