عقیل یوسفزئی
پاکستان اور افغانستان کی کشیدگی ، ایران اسرائیل جنگ اور پاک بھارت تعلقات پر پاکستان اور افغانستان کے اہم تجزیہ کاروں اور لیڈروں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کی پوزیشن کو ماضی کے مقابلے میں بہت بہتر قرار دیا ہے ۔
نامور صحافی حامد میر کے مطابق بھارت نہ صرف افغانستان کو پاکستان کے خلاف استعمال کرتا آرہا ہے بلکہ اب وہ اسرائیل کی مدد سے پاکستان اور ایران کے تعلقات کو بگاڑنے کی ڈس انفارمیشن اور سازشوں میں بھی مصروف ہے تاہم پاکستان کی عالمی ، علاقائی اہمیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ۔
صحافی کامران یوسف کے مطابق افغانستان کی افغان رجیم نے نور ولی محسود سمیت متعدد دیگر کو کابل کے گرین زون میں پناہ دے رکھی ہے تاکہ انہیں ہیومن شیلڈ میسر ہو جس پر غیر ملکی سفارت کار بھی تشویش کا اظہار کرنے لگے ہیں تاہم پاکستان نے ہر صورت میں آپریشن غضب للحق کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔
علاقائی امور کی ماہر ڈاکٹر ہما بقائی نے ایک تبصرے میں کہا ہے کہ پاکستان جہاں ایک طرف ایران ، امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان جاری عمل میں اہم ترین کردار ادا کررہا ہے وہاں یہ بھارتی عزائم اور افغانستان سے جاری دہشتگردی کے خاتمے پر بھی خصوصی توجہ دیتا آرہا ہے ۔
پشاور کے سینئر صحافی محمود جان بابر کے مطابق پاکستان کی مخالفت اور طالبان کی حمایت میں وہ افغان بھی پیش پیش ہیں جو کہ افغانستان میں رہنا تو کیا آنا بھی گوارا نہیں کرتے ۔
نوجوان صحافی عرفان خان کے بقول افغانستان کی طرف سے مہاجرین کے لیے طورخم بارڈر کھولنے کی پاکستانی اقدام کو ناکام بنانے کی کوشش کی گئی دوسری طرف اس قسم کی خبریں بھی پلانٹ کی گئی کہ شاید افغانستان نے پاکستان کی کسی چیک پوسٹ پر قبضہ کیا ہے حالانکہ یہ فیک نیوز کی مہم جوئی کا حصہ تھا ۔
سینئر تجزیہ کار عارف یوسفزئی نے اپنے تبصرے میں کہا ہے کہ پاکستان نے جو سفارتی کامیابیاں حاصل کی ہیں اس کے باعث نہ صرف یہ کہ بھارت بوکھلاہٹ کا شکار ہو گیا ہے بلکہ پوری دنیا میں اس کا اہم کردار سامنے آیا ہے تاہم کوشش ہونی چاہیے کہ افغانستان کے ساتھ کشیدگی کو اس کے باوجود کم کیا جائے کہ وہاں کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہوتی آرہی ہے ۔
( 28 مارچ 2026 )


