عقیل یوسفزئی
پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر ایک دوسرے پر باقاعدہ حملوں کی شکل میں تبدیل ہوگئی ہے تاہم اب کے بار افغان حکمران اور ان کا میڈیا بھارت کی تقلید کرتے ہوئے نہ صرف فیک نیوز پر زیادہ انحصار کرتے دکھائی دیتے ہیں بلکہ وہ لسانی کارڈ بھی استعمال کرنے لگے ہیں ، دوسری جانب افغان میڈیا نے اپنے حکمرانوں کی ” فیڈنگ” پر استنبول میں ٹریک 2 ڈپلومیسی کے ایک ایونٹ کو پاکستان اور افغانستان کے درمیان رسمی مذاکرات کا نام دیکر اس نوعیت کی ہر پراسیس کو متنازعہ اور مشکوک بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔
استنبول میں گزشتہ روز ایک ایونٹ کا انعقاد کیا گیا جس میں پاکستان اور افغانستان کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے اہم افراد کے علاؤہ ترکی اور قطر کے نمائندے بھی شریک ہوئے تاہم پاکستانی شرکاء کو اس وقت حیرت ہوئی جب انہیں پتہ چلا کہ افغان شرکاء میں اس ایونٹ کے ضابطہ کار کے برعکس دو افغان حکومتی عہدے دار بھی شامل ہیں جن کے نام غنچہ گل اور سلمان بتایے جاتے ہیں ۔
اس کے برعکس پاکستان کے شرکاء میں نامور صحافی حامد میر ، دفاعی تجزیہ کار عبدالقیوم ، سفارت کار آصف درانی اور مشاہد حسین سید شامل تھے ۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق عین اس ایونٹ کے دوران افغان میڈیا کی جانب سے اس نشست کو افغانستان اور پاکستان کے درمیان کسی رسمی مذاکراتی عمل کا نام دینے پر پاکستان کے شرکاء میں سے نامور اینکر پرسن حامد میر نے نہ صرف سخت تنقید کا نشانہ بنایا بلکہ انہوں نے ایک قطری نمایندے کے رویے پر سٹینڈ لیتے ہوئے ان کو فریق قرار دیا اور یہاں تک کہا کہ اگر مینڈیٹ اور ڈومین کے مطابق کارروائی نہیں چلائی جاتی تو وہ اس ایونٹ سے بائیکاٹ کردیں گے اور یہ کہ وہ 14 مئی کو کابل میں ہونے والی دوسری نشست میں شرکت بھی نہیں کریں گے ۔ ایک دو اور شرکاء نے بھی حامد میر کے موقف کی تائید کی جس کے بعد دیگر شرکاء کی درخواست پر اس ایونٹ کو آگے بڑھایا گیا ۔
ایونٹ میں موجود ایک افغان مہمان نے رابطے پر بتایا کہ پاکستانی شرکاء نے دوران بحث افغانیوں سے تقاضا کیا کہ وہ کراس بارڈر ٹیررازم ( دراندازی ) اور ڈیورنڈ لائن پر اپنی اور افغانستان کی پوزیشن واضح کریں جس پر دوسری جانب سے مختلف ویوز سامنے آئیں ۔ یوں اس ایونٹ کو افغان عہدے داروں اور میڈیا نے متنازعہ بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور اب یہ بات واضح نہیں ہورہی کہ شیڈول کے مطابق 14 مئی کو کابل کی نشست ہوگی یا نہیں ؟
دوسری جانب پاکستان کی سیکورٹی فورسز نے گزشتہ روز شمالی وزیرستان اور مہمند کے سرحدی علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے افغانستان سے دراندازی کرنے والے 13 خوارج کو ہلاک کردیا ہے جبکہ افغان اور عالمی میڈیا کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ننگرہار اور کنڑ میں متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے ۔
اسی تناظر میں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی گزشتہ روز اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر بہت ” جذباتی” انداز میں صوبے میں جاری بدامنی کی ذمہ داری کالعدم گروپوں اور افغان سرپرستوں کی بجائے اپنی ریاست ( پاکستان) پر ڈال کر اعلان کیا ہے کہ اس صورتحال کا جائزہ لینے اور اس پر مشاورت کے لیے ہفتے کے روز ایک اور جرگہ بلایا جائے گا ۔


