عقیل یوسفزئی
خطے کی سفارتی تاریخ کے متنازعہ ترین کردار زلمے خلیل نے بے وقت کی راگنی چھیڑتے ہوئے ” انکشاف” کیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کوئی رسمی سرحد نہیں ہے اور یہ کہ اس ضمن میں کوئی معاہدہ یا دستاویز نہیں ہیں ۔ دوسری جانب اسی طرزِ عمل کی پاکستانی ” برانڈ ” پی ٹی آئی کی رکن قومی اسمبلی شاندانہ گلزار نے ” کمال ” کی تجویز دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ خیبرپختونخوا سے فورسز اور فوج نکل جائیں تو امن قائم ہو جائے گا۔
سیاسی ، صحافتی اور عوامی حلقوں نے ان دونوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایک جانب زلمے خلیل ذاد نے تاریخی حقائق مسخ کرنے کی کوشش کی ہے تو دوسری جانب شاندانہ گلزار نے ایک ” مہا ” تجویز دیکر ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ پی ٹی آئی اور اس کی قیادت نظریاتی طور پر دہشت گردوں کی حامی ہیں اور اسی کا نتیجہ ہے کہ خیبرپختونخوا میں فورسز کی کارروائیوں اور قربانیوں کے باوجود امن قائم نہیں ہوپارہا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق زلمے خلیل ذاد سمیت بیرون ملک مقیم ایسے دیگر عناصر کو افغان عوام کے حقیقی مسایل کا کوئی ادراک نہیں ہے اور وہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی کو مزید ہوا دینے کے لیے اس نان ایشوز کی بنیاد پر اس قسم کے شوشے چھوڑتے ہیں ۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایک جانب پاکستان اور افغانستان کی سرحد کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے اور متعدد رسمی معاہدے ریکارڈ کا حصہ ہیں تو دوسری جانب زلمے خلیل اور شاندانہ گلزار جیسے عناصر اپنی ایسی حرکتوں اور بیانات کے ذریعے افغان رجیم اور دہشت گرد گروپوں کی پرتشدد کارروائیوں اور نظریات کو سپورٹ کرنے کی پالیسی پر گامزن ہیں ۔


