وصال محمدخان
ممبران اسمبلی کیلئے مراعات کاپیکیج،حکومت تنقیدکی زدمیں،مراعات جائز،اسمبلی اور حکومتی مؤقف
خیبرپختونخواکی حکومت آجکل ایم پی ایزکی مراعات اورصحافیوں کے حوالے سے نئی قانون سازی کے سبب ایک بارپھرموضوع بحث بن چکی ہے۔ہفتہء گزشتہ کے دوران اچانک یہ خبرسامنے آئی کہ صوبائی حکومت نے ارکان اسمبلی کیلئے مراعات کا ایکٹ منظورکروایاہے۔ جس کے تحت رکن اسمبلی اورانکے اہل خانہ کوتاحیات بلیوپاسپورٹ جاری ہوگا،ایم پی اے کوچارممنوعہ بوررائفلزکے لائسنس حاصل کرنے کاحق پہلے سے موجودتھااب مزید4اسی قسم کے لائسنس حاصل کئے جاسکیں گے،ایم پی اے کوجوڈیشل اختیارات بھی دئے گئے ہیں اورپولیس بھی تابع بنادی گئی ہے، جاری اسمبلی اجلاس کے دوران کسی عدالت کے پاس ایم پی اے کوبلانے کااختیارنہیں ہوگا، اجلاس کے دوران رکن کے خلاف فوجداری یادیوانی مقدمہ قائم نہیں ہوگا،ایم پی اے کوعدالت سے سزاہونے پربھی مراعات برقراررہیں گی، ممبراسمبلی کے پاس کسی بھی مقام پرکسی بھی سرکاری ملازم کوبلانے کااختیارہوگا،حکم کی تعمیل نہ کرنے پرسرکاری ملازم کیخلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائیگی، کسی بھی اجلاس میں گورنر،وزیراعلیٰ یاسپیکرکی عدم موجودگی میں صدارت ایم پی اے کریگا،سپیکرکی اجازت کے بغیرکسی بھی معاملے میں رکن اسمبلی کوگرفتارنہیں کیاجاسکے گا، ہرایم پی اے کوپورے ملک میں بی کلاس سیکیورٹی حاصل ہوگی جبکہ بوقت ضرورت اسے اے کیٹگری میں تبد یل کیاجاسکے گا،ایم پی اے ڈی پی اوکوکسی بھی فرد کے خلاف ایف آئی آر درج کروانے کے احکامات دے سکے گا،ایم پی اے خاتون یا مرد کے اہلخانہ کوتاحیات بلیوپاسپورٹ ملے گا،ایم پی اے کسی بھی فردکوطلب کر سکے گا،نہ آنیکی صورت میں اسکے خلاف ایف آئی آردرج ہوگی ، ایم پی اے کوپورے ملک میں ٹول ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہوگا،جسٹس آف پیس کے اختیارات حاصل ہونگے، سرکاری ریسٹ ہا ؤسز میں مفت قیام کی سہولت حاصل ہوگی،ایم پی اے سرکاری دفاتر،سپتالوں،سکولوں، جیلوں اورترقیاتی منصوبوں کامعائنہ کرسکے گا۔ پاور ایمو نٹیز اینڈپروولیجزایکٹ 2026ء کے نام سے یہ ایکٹ 30اپریل2026ء کواسمبلی سے اضافی ایجنڈے کے طورپرمنظورکروایاگیا۔گورنر نے اس پر6مئی کودستخط کردئے۔یعنی 6مئی سے اس قانون کوخفیہ رکھاگیااوراس پراسمبلی میں بحث کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی گئی۔ حکومتی ذرائع اوراسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے ایک ہی قسم کابیان سامنے آرہاہے۔ اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق”اراکین اسمبلی کے استحقا قات اور سہولیات سے متعلق بعض میڈیا رپورٹس حقائق کے برعکس ہیں،جس سے عوام میں غلط فہمیاں پیداہورہی ہیں،اس حوالے سے واضح کیاجاتا ہے کہ زیربحث آنیوالی تقریباً 99 فیصدمراعات،اختیارات اورسہولیات خیبر پختونخوااسمبلی اراکین کے استحقاقات ایکٹ 1988 میں پہلے سے موجودہیں،حالیہ ترامیم کے ذریعے موجودہ آئینی،قانونی اورانتظامی تقاضوں کے مطابق مزیدواضح،منظم اورمؤثربنایاگیاہے نئی یاغیر معمولی مراعات متعارف کروانے کاالزام غلط ہے“۔اسی سے ملتاجلتا مؤقف وزیراطلاعات شفیع جان اورترجمان شوکت یوسفزئی نے بھی اپنایاہے۔ بلاشبہ1988ء ایکٹ میں اراکین اسمبلی کوکچھ مراعات حاصل تھیں جویقیناًآفتاب شیرپاؤیاارباب جہانگیروالی اسمبلی نے منظور کروائی ہونگیں مگرتحریک انصاف کی سیاست کادارومداراسی پرہے کہ اسکے سواتمام جماعتیں اشرافیہ سے تعلق رکھتی ہیں یہ مراعات یافتہ طبقہ ہے انکے ناجائزمراعات نے ملک کابیڑاغرق کردیاہے۔مگرحالیہ قانون کے ذریعے دیگر جماعتوں سے دوگنی مراعات حاصل کی گئی ہیں ۔صوبائی حکومت اس کیلئے جوبھی توجیحات پیش کرے مگردرحقیقت اراکین اسمبلی کے مراعات میں بہت زیادہ اضافہ کیا گیاہے۔
صحافی اورصحافت بھی پابندی کی زنجیروں میں جکڑے گئے،سپیکراسمبلی سزائیں دے سکیں گے
اسکے علاوہ حکومت نے صحافیوں اورمیڈیاکی جانب سے اسمبلی کارروائی کی رپورٹنگ اورکوریج سے متعلق سخت پابندیوں اور سزاؤں پرمشتمل قانون بھی منظورکرلیاہے۔جس کے تحت سپیکرکووسیع اختیارات سونپ دئے گئے ہیں۔ سپیکرکسی بھی صحافی کواسمبلی کارروائی کی کوریج سے روکنے اوراس پرمخصوص مدت کیلئے پابندی عائدکرنے کااختیاررکھے گا،سپیکرایوان کی کسی بھی کارروائی کوشائع یانشرکرنے سے روک سکے گااورخلاف ورزی کرنیوالے صحافی کو6ماہ تک قیداور10لاکھ روپے تک جرمانے کی سزادی جاسکے گی، اسمبلی کارروائی کوتوڑمروڑ کر رپورٹ کرنے پرصحافی یا میڈیاادارے کو 3سال تک قیداورتین لاکھ روپے جرمانہ، سپیکرپرجانبداری کاالزام لگانیوالے یا سپیکرکے کردارپرتنقیدکرنیوالے کو 6ماہ تک قیداور10لاکھ روپے جرمانہ، قائمہ کمیٹی کی رپورٹ ایوان میں پیش ہونے سے قبل نشریا شائع کرنے پر3ماہ قیداور3لاکھ روپے جرمانہ، تحر یک التواپیش ہونے سے قبل شائع کرنیکی صورت میں ایک ماہ قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔ صحافیوں کوحقائق سامنے لانے سے روکنے کیلئے سپیکرکوعدالتی اختیارات دئے گئے ہیں۔ حکومت یااسمبلی سیکرٹریٹ کایہ الزام غلط ہے کہ میڈیامبالغہ آرائی سے کام لے رہاہے یا حکومت پرالزام تراشی کی جارہی ہے میڈیاصرف ان مراعات پرتبصرے یاتجزیہ کررہاہے جوقوانین منظوریاتجویزکی گئی ہیں میڈیاان میں اپنی طرف سے کسی چیزکااضافہ نہیں کررہا۔نئے قوانین سے جہاں ایم پی ایزپر مراعات اورنوازشات کی بارش کی گئی ہے وہاں صحافت کوبھی پابندیوں کی زنجیروں میں جکڑاگیاہے۔
وفاق نے گزشتہ پانچ سالوں میں صوبے کو34کھرب،88ارب57کروڑ،50لاکھ روپے دئے
گزشتہ پانچ سال کے دوران وفاق کی جانب سے خیبرپختونخواکودہشتگردی کیخلاف جنگ اوراین ایف سی کی مدمیں 34کھرب 88ارب 67کروڑ50لاکھ روپے دئے گئے ہیں۔سب سے زیادہ رقم مالی سال 2024-25میں 10کھرب46ارب87کروڑ50لاکھ روپے ملی۔گزشتہ مالی سال وارآن ٹیررکی مدمیں صوبے کو1کھرب 12ارب22کروڑ 96لاکھ روپے دئے گئے۔دستاویزات کے مطابق گزشتہ مالی سال این ایف سی کی مدمیں وفاق سے صوبے کو9کھرب 34ارب 57کروڑ90لاکھ روپے ملے۔گزشتہ 5سال میں وفاقی فنڈزمیں خیبرپختونخواکاحصہ 36کھرب 47ارب 64کروڑ90لاکھ روپے بنتاہے۔رکن اسمبلی احمدکندی نے صوبے کودی گئی رقم کے اعدادوشمارمیں تضادکانکتہ اٹھایااورکہاکہ جواعدادوشماروائٹ پیپرمیں آئے ہیں ان میں 60ارب روپے کاتضادہے۔ بتایاجائے کہ وائٹ پیپرجھوٹاہے یابجٹ؟وزیرقانون آفتاب عالم نے کہاکہ سوال سے متعلق جوابات مکمل دئے گئے ہیں ملی ہوئی رقم ہماراحق ہے جبکہ ان میں تضادکی کئی وجوہات ہیں سوال پرمزیدسفارشات کیلئے اسے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپردکردیاگیا۔
چینی شہریوں اورغیرملکی ماہرین کی سیکیورٹی کیلئے خیبرپختونخواپولیس کابڑاقدم،نئی فورس قائم
خیبرپختونخواپولیس نے صوبے میں مقیم چینی شہریوں اوردیگرغیرملکی ماہرین کی فول پروف سیکیورٹی یقینی بنانے کیلئے ایک مربوط اور جدید سیکیورٹی نظام قائم کردیاہے۔پولیس حکام کے مطابق سپیشل سیکیورٹی یونٹ (ایس ایس یو)کاپہلاجدیدکمانڈاینڈکنٹرو ل روم قائم کردیا گیا ہے،جبکہ ایس ایس یوکاپہلاخصوصی دستہ باچاخان انٹرنیشنل ائیرپورٹ پشاورپرتعینات کردیاگیاہے۔ذرائع کے مطابق تعینات اہلکاروں کوچینی زبان کا خصوصی کورس بھی کروایاگیاہے تاکہ چینی شہریوں سے مؤثررابطہ اورمعاونت ممکن بنائی جاسکے۔
حکومت کاانوکھاکارنامہ،سوات چڑیاگھرکیلئے1ہزارروپے کابجٹ، خوراک کاماہانہ خرچہ17لاکھ روپے
صوبائی حکومت نے نئے مالی سال کے بجٹ میں سوات چڑیاگھرکیلئے صرف ایک ہزارروپے کابجٹ رکھاہے۔کانجوٹاؤن شپ سوات میں 93کنال اراضی پرقائم چڑیاگھرمیں سینکڑوں جانوراورپرندے موجودہیں جن کی خوراک کاماہانہ خرچ17لاکھ روپے ہے، 100سے زائدملازمین کی تنخواہیں بندہوگئی ہیں،سوات میں پیسکوکی ریکوری مہم کے سلسلے میں چڑیاگھرکامیٹراتارنے کے بھی امکانات ہیں جانوروں کوخوراک فراہم کرنیوالے ٹھیکیدارنے انتظامیہ کوآگاہ کیاہے کہ وہ صرف رواں ماہ خوراک فراہم کریگا۔پانی اورخوراک بندہو جا نے سے سینکڑں جانوروں کی ہلاکت کاخدشہ ہے جس سے بین الاقوامی طورپرپاکستان اورخیبرپختونخواکی بدنامی ہوگی۔
سوات میں سیاسی راہنماکے گھرپرحملہ اورفائرنگ،ایمل ولی کی مذمت،حکومتی رٹ پرسوال اٹھادئے
عوامی نیشنل پارٹی کے صدرایمل ولی خان نے ضلع سوات کے نائب صدرممتازعلی خان کی رہائشگاہ پرہونے والے مسلح حملے اورفائرنگ کی شدیدالفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ ممتازعلی خان پرمسلسل تیسراحملہ اورشرپسندعناصرکاایک گھرپرکئی گھنٹے تک فائرنگ ریاستی رٹ اورحکومتی کارکردگی پرسوالیہ نشان ہے حکومت کوجواب دیناہوگاکہ حملہ آورکہاں سے آئے اورکس محفوط راستے سے فرارہوئے؟۔


