Wisal Article 10 July 26

خیبرپختونخواراؤنڈاَپ

وصال محمدخان

ممبران اسمبلی کیلئے مراعات کاپیکیج،حکومت تنقیدکی زدمیں،مراعات جائز،اسمبلی اور حکومتی مؤقف

خیبرپختونخواکی حکومت آجکل ایم پی ایزکی مراعات اورصحافیوں کے حوالے سے نئی قانون سازی کے سبب ایک بارپھرموضوع بحث بن چکی ہے۔ہفتہء گزشتہ کے دوران اچانک یہ خبرسامنے آئی کہ صوبائی حکومت نے ارکان اسمبلی کیلئے مراعات کا ایکٹ منظورکروایاہے۔ جس کے تحت رکن اسمبلی اورانکے اہل خانہ کوتاحیات بلیوپاسپورٹ جاری ہوگا،ایم پی اے کوچارممنوعہ بوررائفلزکے لائسنس حاصل کرنے کاحق پہلے سے موجودتھااب مزید4اسی قسم کے لائسنس حاصل کئے جاسکیں گے،ایم پی اے کوجوڈیشل اختیارات بھی دئے گئے ہیں اورپولیس بھی تابع بنادی گئی ہے، جاری اسمبلی اجلاس کے دوران کسی عدالت کے پاس ایم پی اے کوبلانے کااختیارنہیں ہوگا، اجلاس کے دوران رکن کے خلاف فوجداری یادیوانی مقدمہ قائم نہیں ہوگا،ایم پی اے کوعدالت سے سزاہونے پربھی مراعات برقراررہیں گی، ممبراسمبلی کے پاس کسی بھی مقام پرکسی بھی سرکاری ملازم کوبلانے کااختیارہوگا،حکم کی تعمیل نہ کرنے پرسرکاری ملازم کیخلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائیگی، کسی بھی اجلاس میں گورنر،وزیراعلیٰ یاسپیکرکی عدم موجودگی میں صدارت ایم پی اے کریگا،سپیکرکی اجازت کے بغیرکسی بھی معاملے میں رکن اسمبلی کوگرفتارنہیں کیاجاسکے گا، ہرایم پی اے کوپورے ملک میں بی کلاس سیکیورٹی حاصل ہوگی جبکہ بوقت ضرورت اسے اے کیٹگری میں تبد یل کیاجاسکے گا،ایم پی اے ڈی پی اوکوکسی بھی فرد کے خلاف ایف آئی آر درج کروانے کے احکامات دے سکے گا،ایم پی اے خاتون یا مرد کے اہلخانہ کوتاحیات بلیوپاسپورٹ ملے گا،ایم پی اے کسی بھی فردکوطلب کر سکے گا،نہ آنیکی صورت میں اسکے خلاف ایف آئی آردرج ہوگی ، ایم پی اے کوپورے ملک میں ٹول ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہوگا،جسٹس آف پیس کے اختیارات حاصل ہونگے، سرکاری ریسٹ ہا ؤسز میں مفت قیام کی سہولت حاصل ہوگی،ایم پی اے سرکاری دفاتر،سپتالوں،سکولوں، جیلوں اورترقیاتی منصوبوں کامعائنہ کرسکے گا۔ پاور ایمو نٹیز اینڈپروولیجزایکٹ 2026ء کے نام سے یہ ایکٹ 30اپریل2026ء کواسمبلی سے اضافی ایجنڈے کے طورپرمنظورکروایاگیا۔گورنر نے اس پر6مئی کودستخط کردئے۔یعنی 6مئی سے اس قانون کوخفیہ رکھاگیااوراس پراسمبلی میں بحث کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی گئی۔ حکومتی ذرائع اوراسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے ایک ہی قسم کابیان سامنے آرہاہے۔ اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق”اراکین اسمبلی کے استحقا قات اور سہولیات سے متعلق بعض میڈیا رپورٹس حقائق کے برعکس ہیں،جس سے عوام میں غلط فہمیاں پیداہورہی ہیں،اس حوالے سے واضح کیاجاتا ہے کہ زیربحث آنیوالی تقریباً 99 فیصدمراعات،اختیارات اورسہولیات خیبر پختونخوااسمبلی اراکین کے استحقاقات ایکٹ 1988 میں پہلے سے موجودہیں،حالیہ ترامیم کے ذریعے موجودہ آئینی،قانونی اورانتظامی تقاضوں کے مطابق مزیدواضح،منظم اورمؤثربنایاگیاہے نئی یاغیر معمولی مراعات متعارف کروانے کاالزام غلط ہے“۔اسی سے ملتاجلتا مؤقف وزیراطلاعات شفیع جان اورترجمان شوکت یوسفزئی نے بھی اپنایاہے۔ بلاشبہ1988ء ایکٹ میں اراکین اسمبلی کوکچھ مراعات حاصل تھیں جویقیناًآفتاب شیرپاؤیاارباب جہانگیروالی اسمبلی نے منظور کروائی ہونگیں مگرتحریک انصاف کی سیاست کادارومداراسی پرہے کہ اسکے سواتمام جماعتیں اشرافیہ سے تعلق رکھتی ہیں یہ مراعات یافتہ طبقہ ہے انکے ناجائزمراعات نے ملک کابیڑاغرق کردیاہے۔مگرحالیہ قانون کے ذریعے دیگر جماعتوں سے دوگنی مراعات حاصل کی گئی ہیں ۔صوبائی حکومت اس کیلئے جوبھی توجیحات پیش کرے مگردرحقیقت اراکین اسمبلی کے مراعات میں بہت زیادہ اضافہ کیا گیاہے۔

صحافی اورصحافت بھی پابندی کی زنجیروں میں جکڑے گئے،سپیکراسمبلی سزائیں دے سکیں گے

اسکے علاوہ حکومت نے صحافیوں اورمیڈیاکی جانب سے اسمبلی کارروائی کی رپورٹنگ اورکوریج سے متعلق سخت پابندیوں اور سزاؤں پرمشتمل قانون بھی منظورکرلیاہے۔جس کے تحت سپیکرکووسیع اختیارات سونپ دئے گئے ہیں۔ سپیکرکسی بھی صحافی کواسمبلی کارروائی کی کوریج سے روکنے اوراس پرمخصوص مدت کیلئے پابندی عائدکرنے کااختیاررکھے گا،سپیکرایوان کی کسی بھی کارروائی کوشائع یانشرکرنے سے روک سکے گااورخلاف ورزی کرنیوالے صحافی کو6ماہ تک قیداور10لاکھ روپے تک جرمانے کی سزادی جاسکے گی، اسمبلی کارروائی کوتوڑمروڑ کر رپورٹ کرنے پرصحافی یا میڈیاادارے کو 3سال تک قیداورتین لاکھ روپے جرمانہ، سپیکرپرجانبداری کاالزام لگانیوالے یا سپیکرکے کردارپرتنقیدکرنیوالے کو 6ماہ تک قیداور10لاکھ روپے جرمانہ، قائمہ کمیٹی کی رپورٹ ایوان میں پیش ہونے سے قبل نشریا شائع کرنے پر3ماہ قیداور3لاکھ روپے جرمانہ، تحر یک التواپیش ہونے سے قبل شائع کرنیکی صورت میں ایک ماہ قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔ صحافیوں کوحقائق سامنے لانے سے روکنے کیلئے سپیکرکوعدالتی اختیارات دئے گئے ہیں۔ حکومت یااسمبلی سیکرٹریٹ کایہ الزام غلط ہے کہ میڈیامبالغہ آرائی سے کام لے رہاہے یا حکومت پرالزام تراشی کی جارہی ہے میڈیاصرف ان مراعات پرتبصرے یاتجزیہ کررہاہے جوقوانین منظوریاتجویزکی گئی ہیں میڈیاان میں اپنی طرف سے کسی چیزکااضافہ نہیں کررہا۔نئے قوانین سے جہاں ایم پی ایزپر مراعات اورنوازشات کی بارش کی گئی ہے وہاں صحافت کوبھی پابندیوں کی زنجیروں میں جکڑاگیاہے۔

وفاق نے گزشتہ پانچ سالوں میں صوبے کو34کھرب،88ارب57کروڑ،50لاکھ روپے دئے

گزشتہ پانچ سال کے دوران وفاق کی جانب سے خیبرپختونخواکودہشتگردی کیخلاف جنگ اوراین ایف سی کی مدمیں 34کھرب 88ارب 67کروڑ50لاکھ روپے دئے گئے ہیں۔سب سے زیادہ رقم مالی سال 2024-25میں 10کھرب46ارب87کروڑ50لاکھ روپے ملی۔گزشتہ مالی سال وارآن ٹیررکی مدمیں صوبے کو1کھرب 12ارب22کروڑ 96لاکھ روپے دئے گئے۔دستاویزات کے مطابق گزشتہ مالی سال این ایف سی کی مدمیں وفاق سے صوبے کو9کھرب 34ارب 57کروڑ90لاکھ روپے ملے۔گزشتہ 5سال میں وفاقی فنڈزمیں خیبرپختونخواکاحصہ 36کھرب 47ارب 64کروڑ90لاکھ روپے بنتاہے۔رکن اسمبلی احمدکندی نے صوبے کودی گئی رقم کے اعدادوشمارمیں تضادکانکتہ اٹھایااورکہاکہ جواعدادوشماروائٹ پیپرمیں آئے ہیں ان میں 60ارب روپے کاتضادہے۔ بتایاجائے کہ وائٹ پیپرجھوٹاہے یابجٹ؟وزیرقانون آفتاب عالم نے کہاکہ سوال سے متعلق جوابات مکمل دئے گئے ہیں ملی ہوئی رقم ہماراحق ہے جبکہ ان میں تضادکی کئی وجوہات ہیں سوال پرمزیدسفارشات کیلئے اسے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپردکردیاگیا۔

چینی شہریوں اورغیرملکی ماہرین کی سیکیورٹی کیلئے خیبرپختونخواپولیس کابڑاقدم،نئی فورس قائم

خیبرپختونخواپولیس نے صوبے میں مقیم چینی شہریوں اوردیگرغیرملکی ماہرین کی فول پروف سیکیورٹی یقینی بنانے کیلئے ایک مربوط اور جدید سیکیورٹی نظام قائم کردیاہے۔پولیس حکام کے مطابق سپیشل سیکیورٹی یونٹ (ایس ایس یو)کاپہلاجدیدکمانڈاینڈکنٹرو ل روم قائم کردیا گیا ہے،جبکہ ایس ایس یوکاپہلاخصوصی دستہ باچاخان انٹرنیشنل ائیرپورٹ پشاورپرتعینات کردیاگیاہے۔ذرائع کے مطابق تعینات اہلکاروں کوچینی زبان کا خصوصی کورس بھی کروایاگیاہے تاکہ چینی شہریوں سے مؤثررابطہ اورمعاونت ممکن بنائی جاسکے۔

حکومت کاانوکھاکارنامہ،سوات چڑیاگھرکیلئے1ہزارروپے کابجٹ، خوراک کاماہانہ خرچہ17لاکھ روپے

صوبائی حکومت نے نئے مالی سال کے بجٹ میں سوات چڑیاگھرکیلئے صرف ایک ہزارروپے کابجٹ رکھاہے۔کانجوٹاؤن شپ سوات میں 93کنال اراضی پرقائم چڑیاگھرمیں سینکڑوں جانوراورپرندے موجودہیں جن کی خوراک کاماہانہ خرچ17لاکھ روپے ہے، 100سے زائدملازمین کی تنخواہیں بندہوگئی ہیں،سوات میں پیسکوکی ریکوری مہم کے سلسلے میں چڑیاگھرکامیٹراتارنے کے بھی امکانات ہیں جانوروں کوخوراک فراہم کرنیوالے ٹھیکیدارنے انتظامیہ کوآگاہ کیاہے کہ وہ صرف رواں ماہ خوراک فراہم کریگا۔پانی اورخوراک بندہو جا نے سے سینکڑں جانوروں کی ہلاکت کاخدشہ ہے جس سے بین الاقوامی طورپرپاکستان اورخیبرپختونخواکی بدنامی ہوگی۔

سوات میں سیاسی راہنماکے گھرپرحملہ اورفائرنگ،ایمل ولی کی مذمت،حکومتی رٹ پرسوال اٹھادئے

عوامی نیشنل پارٹی کے صدرایمل ولی خان نے ضلع سوات کے نائب صدرممتازعلی خان کی رہائشگاہ پرہونے والے مسلح حملے اورفائرنگ کی شدیدالفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ ممتازعلی خان پرمسلسل تیسراحملہ اورشرپسندعناصرکاایک گھرپرکئی گھنٹے تک فائرنگ ریاستی رٹ اورحکومتی کارکردگی پرسوالیہ نشان ہے حکومت کوجواب دیناہوگاکہ حملہ آورکہاں سے آئے اورکس محفوط راستے سے فرارہوئے؟۔

Waziristan Peace Festival: First final competition of the third phase in Wana

وزیرستان امن فیسٹیول: وانا میں تیسرے مرحلے کا پہلا فائنل مقابلہ

جنوبی وزیرستان (وانا) ایف سی (ساؤتھ) کی جانب سے وزیرستان امن فیسٹیول 2026 کے تیسرے اور آخری مرحلے کا پہلا فائنل مقابلہ وانا اسکاؤٹس اسٹیڈیم میں کھیلا گیا۔  کرکٹ کے فائنل میں شکئی وولوز اور جنڈولہ اسٹارز آمنے سامنے آئے، جہاں دونوں ٹیموں نے شاندار کھیل، بہترین اسپورٹس مین شپ اور جیت کے بھرپور جذبے کا مظاہرہ کیا۔ سنسنی خیز مقابلے کے اختتام پر شکئی وولوز نے جنڈولہ اسٹارز کو شکست دے کر وزیرستان امن فیسٹیول 2026 کے کرکٹ ایونٹ کا چیمپئن ہونے کا اعزاز اپنے نام کر لیا۔ میچ کے دوران شائقینِ کرکٹ کی بڑی تعداد نے بھرپور جوش و خروش کے ساتھ اپنی اپنی ٹیموں کی حوصلہ افزائی کی، جس سے وانا اسکاؤٹس اسٹیڈیم کا ماحول انتہائی پُرجوش، پُررونق اور کھیلوں کے جذبے سے سرشار رہا۔ وزیرستان امن فیسٹیول 2026 نوجوانوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے، صحت مند سرگرمیوں اور کھیلوں کے فروغ، امن، بھائی چارے، سماجی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے جذبے کو مضبوط بنانے کے لیے فرنٹیئر کور خیبر پختونخوا (ساؤتھ) کی ایک مؤثر اور قابلِ تحسین کاوش ہے۔

Khyber Pakhtunkhwa government’s initiative to provide basic facilities for minority places of worship

خیبرپختونخوا حکومت کا اقلیتی عبادت گاہوں کیلئے بنیادی سہولیات کی فراہمی کا اقدام 

خیبرپختونخوا حکومت کا اقلیتی عبادت گاہوں کیلئے بنیادی سہولیات کی فراہمی کا اقدام۔  وزیر برائے اوقاف و مذہبی امور محمد عدنان قادری نے تقریب حوالگی میں شرکت کی۔تقریب میں سیکرٹری اوقاف عطاء الرحمان سمیت اقلیتی مذہبی حکام شریک ہوئے. صوبے بھر کی 117 اقلیتی عبادت گاہوں کو بنیادی سہولیات فراہم کی گئیں۔ 117 عبادت گاہوں کیلئے 1,122 ترقیاتی اشیاء حوالہ کیے گئے۔ منصوبے میں 30 الیکٹرک واٹر کولرز، 25 ساؤنڈ سسٹمز، ایک ہزار سٹیل کرسیاں، 37 بڑے سائز کے پتیلے، ایک جنریٹر اور 30 دیگر اشیاء شامل ہیں۔ پاکستان کی سطح پر اقلیتی برادری کو خدمات فراہمی میں خیبرپختونخوا سب سے آگے ہے. سیکرٹری اوقاف عطاء الرحمان

وزیر مذہبی امور عدنان قادری کا تقریب سے خطاب میں بتایا اقلیتی عبادت گاہوں کے لیے ان کی ضروریات کے مطابق سہولیات فراہم کی گئیں. یہ اقدام اقلیتی برادریوں کو عبادت کیلئے بہتر سہولیات فراہم کرنے کی جانب اہم پیش رفت ہے. بنیادی سہولیات سے اقلیتی عبادت گاہوں میں مذہبی تقریبات کا انعقاد مزید آسان ہوگا۔ ضم شدہ اضلاع کی 18 اقلیتی عبادت گاہوں کیلئے بھی سہولیات کی منظوری ہو چکی ہے. اس سے پہلے بھی اقلیتی برادری کے 85 عبادت گاہوں کو سہولیات فراہم کر چکے ہیں۔ اقلیتی برادری کے قابل سٹوڈنٹس کو لیپ ٹاپ سکیم لا رہے ہیں. تقریب کے اختتام پر صوبائی وزیر نے گوردوراہ، چرچز اور مندر کے حکام کو سامان سہولیات حوالہ کئے.

"Open Wi-Fi" project inaugurated in Khyber Pakhtunkhwa

خیبرپختونخوا میں “اوپن وائی فائی” منصوبے کا افتتاح

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے “خیبر پختونخوا اوپن وائی فائی” منصوبے کا باضابطہ افتتاح کر دیا۔ ابتدائی مرحلے میں پشاور میں سرکاری ہسپتالوں اور پبلک ٹرانسپورٹ مقامات پر مفت وائی فائی فراہم کی جائے گی۔ وزیراعلیٰ کا خیبرپختونخوا کی تمام سرکاری جامعات اور کالجوں میں بھی مفت وائی فائی فراہم کرنے کا اعلان کیا۔ پہلے مرحلے میں پشاور کے تمام اہم سرکاری مقامات پر مفت وائی فائی فراہم کی جائے گی۔ اگلے مرحلے میں ایبٹ آباد، مردان، سوات، کوہاٹ، بنوں اور ڈی آئی خان سمیت تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹرز تک منصوبہ توسیع دیا جائے گا۔ خیبرپختونخوا تقریباً 70 سے 80 فیصد ڈیجیٹل گورننس کی جانب پیش رفت کر چکا ہے۔ حکومت تمام سرکاری خدمات کو مرحلہ وار پیپر لیس بنا رہی ہے۔ عمران خان کے وژن کے مطابق ڈیجیٹل سہولیات ہر شہری تک پہنچائیں گے۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا کہنا تھا انٹرنیٹ نوجوانوں کے لیے روزگار اور کاروبار کے نئے مواقع پیدا کر رہا ہے۔ نوجوانوں کو روزگار اور معاشی مواقع فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔  آج پاکستان میں نوجوان ای کامرس کی طرف جا رہے ہیں اور یہ خوش آئند رجحان ہے۔ سوشل میڈیا کو محدود کرنے کے لیے انٹرنیٹ سست کرنا قابل مذمت ہے۔ بدقسمتی سے صرف پی ٹی آئی کو کاؤنٹر کرنے کے لیے انٹرنیٹ بند یا سست کر دیا جاتا ہے، جس سے نوجوانوں کا نقصان ہوتا ہے۔ مسلط حکومت خود تو نوجوانوں کے لیے کچھ نہیں کر رہی، کم از کم انہیں اپنے طور پر کچھ کرنے دے۔ ضم اضلاع میں انٹرنیٹ تو دور، موبائل سروس تک میسر نہیں۔ ایک ہی حل تھا کہ قبائلی عوام افغانستان کے ساتھ جارت کریں، وہ بھی بارڈر بند کر دیے گئے۔ ایسے اقدامات دہشت گردی کے خاتمے کے بجائے اسے ہوا دے رہے ہیں۔ ایک طرف عوام کے پاس کاروبار نہیں، کھانے کے پیسے نہیں، دوسری طرف جہاز اور جزیرے خریدے جا رہے ہیں۔ جب کسی کو معلوم ہو کہ عوام ووٹ دے یا نہ دے، چور دروازے سے حکومت بنا لیں گے تو وہ بدمعاشی پر اتر آتا ہے۔ ہماری حکومت عوام کے ووٹ سے قائم ہوئی ہے، عوامی خدمت ہماری اولین ترجیح ہے۔مالی سال 2026-27 خیبرپختونخوا میں امن، ترقی اور خوشحالی کا سال ثابت ہوگا۔

Waziristan Sports News

وزیرستان امن فیسٹیول 2026: وانا اسکاؤٹس اسٹیڈیم میں سنسنی خیز فائنل

وانا: فرنٹیئر کور خیبر پختونخوا (ساؤتھ) کے زیر اہتمام وزیرستان امن فیسٹیول 2026 کے تیسرے اور آخری مرحلے کے پہلے فائنل مقابلے میں شکئی وولوز نے جنڈولہ اسٹارز کو شکست دے کر کرکٹ ایونٹ کا ٹائٹل اپنے نام کر لیا۔

فائنل میچ وانا اسکاؤٹس اسٹیڈیم میں کھیلا گیا، جہاں شکئی وولوز اور جنڈولہ اسٹارز کے درمیان دلچسپ اور سنسنی خیز مقابلہ دیکھنے کو ملا۔ دونوں ٹیموں نے بہترین کھیل، عمدہ اسپورٹس مین شپ اور جیت کے بھرپور جذبے کا مظاہرہ کیا، تاہم شکئی وولوز کامیاب قرار پائی۔

میچ کے دوران کرکٹ شائقین کی بڑی تعداد اسٹیڈیم میں موجود رہی، جنہوں نے دونوں ٹیموں کی بھرپور حوصلہ افزائی کی۔ تماشائیوں کے جوش و خروش سے اسٹیڈیم کا ماحول کھیلوں کے جذبے اور رونق سے بھرپور رہا۔

منتظمین کے مطابق وزیرستان امن فیسٹیول 2026 کا مقصد نوجوانوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا، کھیلوں اور صحت مند سرگرمیوں کو فروغ دینا، امن، بھائی چارے، سماجی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے جذبے کو مستحکم کرنا ہے۔ فرنٹیئر کور خیبر پختونخوا (ساؤتھ) کی جانب سے اس فیسٹیول کو نوجوانوں کی مثبت سرگرمیوں کے فروغ کی ایک اہم کاوش قرار دیا جا رہا ہے۔

Minorities News Local

خیبر پختونخوا کے 117 عبادت گاہوں میں سامان تقسیم

پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے اقلیتی برادریوں کی عبادت گاہوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے اہم اقدام کرتے ہوئے صوبے بھر کی 117 عبادت گاہوں کو مجموعی طور پر 1,122 ترقیاتی اشیاء فراہم کر دی ہیں۔

سہولیات کی حوالگی کی تقریب میں صوبائی وزیر برائے اوقاف و مذہبی امور محمد عدنان قادری، سیکرٹری اوقاف عطاء الرحمان اور مختلف اقلیتی مذاہب کے مذہبی رہنماؤں نے شرکت کی۔

حکام کے مطابق منصوبے کے تحت 30 الیکٹرک واٹر کولرز، 25 ساؤنڈ سسٹمز، ایک ہزار اسٹیل کرسیاں، 37 بڑے سائز کے پتیلے، ایک جنریٹر اور دیگر ضروری سامان سمیت مجموعی طور پر 1,122 اشیاء عبادت گاہوں کے حوالے کی گئیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اوقاف محمد عدنان قادری نے کہا کہ یہ اقدام اقلیتی برادریوں کو عبادت کے لیے بہتر سہولیات فراہم کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے، جس سے مذہبی تقریبات کے انعقاد میں مزید آسانی ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ ضم شدہ اضلاع کی 18 اقلیتی عبادت گاہوں کے لیے بھی سہولیات کی منظوری دی جا چکی ہے، جبکہ اس سے قبل بھی 85 عبادت گاہوں کو بنیادی سہولیات فراہم کی جا چکی ہیں۔

انہوں نے مزید اعلان کیا کہ حکومت اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے قابل طلبہ کے لیے لیپ ٹاپ اسکیم بھی متعارف کرا رہی ہے۔

اس موقع پر سیکرٹری اوقاف عطاء الرحمان نے کہا کہ پاکستان میں اقلیتی برادریوں کو سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے خیبرپختونخوا حکومت نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔ ان کے مطابق عبادت گاہوں کو ان کی ضروریات کے مطابق سہولیات فراہم کی گئی ہیں تاکہ اقلیتی برادریوں کو بہتر مذہبی ماحول میسر آ سکے۔

تقریب کے اختتام پر صوبائی وزیر نے گوردواروں، چرچوں اور مندروں کے نمائندوں میں ترقیاتی سامان تقسیم کیا۔