پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے اقلیتی برادریوں کی عبادت گاہوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے اہم اقدام کرتے ہوئے صوبے بھر کی 117 عبادت گاہوں کو مجموعی طور پر 1,122 ترقیاتی اشیاء فراہم کر دی ہیں۔
سہولیات کی حوالگی کی تقریب میں صوبائی وزیر برائے اوقاف و مذہبی امور محمد عدنان قادری، سیکرٹری اوقاف عطاء الرحمان اور مختلف اقلیتی مذاہب کے مذہبی رہنماؤں نے شرکت کی۔
حکام کے مطابق منصوبے کے تحت 30 الیکٹرک واٹر کولرز، 25 ساؤنڈ سسٹمز، ایک ہزار اسٹیل کرسیاں، 37 بڑے سائز کے پتیلے، ایک جنریٹر اور دیگر ضروری سامان سمیت مجموعی طور پر 1,122 اشیاء عبادت گاہوں کے حوالے کی گئیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اوقاف محمد عدنان قادری نے کہا کہ یہ اقدام اقلیتی برادریوں کو عبادت کے لیے بہتر سہولیات فراہم کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے، جس سے مذہبی تقریبات کے انعقاد میں مزید آسانی ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ ضم شدہ اضلاع کی 18 اقلیتی عبادت گاہوں کے لیے بھی سہولیات کی منظوری دی جا چکی ہے، جبکہ اس سے قبل بھی 85 عبادت گاہوں کو بنیادی سہولیات فراہم کی جا چکی ہیں۔
انہوں نے مزید اعلان کیا کہ حکومت اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے قابل طلبہ کے لیے لیپ ٹاپ اسکیم بھی متعارف کرا رہی ہے۔
اس موقع پر سیکرٹری اوقاف عطاء الرحمان نے کہا کہ پاکستان میں اقلیتی برادریوں کو سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے خیبرپختونخوا حکومت نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔ ان کے مطابق عبادت گاہوں کو ان کی ضروریات کے مطابق سہولیات فراہم کی گئی ہیں تاکہ اقلیتی برادریوں کو بہتر مذہبی ماحول میسر آ سکے۔
تقریب کے اختتام پر صوبائی وزیر نے گوردواروں، چرچوں اور مندروں کے نمائندوں میں ترقیاتی سامان تقسیم کیا۔


