Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Tuesday, July 28, 2026

صوبائی حکومت کی ایک اور مہم جوئی؟

عقیل یوسفزئی
گزشتہ چند ہفتوں اور مہینوں سے خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں دہشتگردی کے واقعات میں ایک بار پھر اضافہ ہوگیا ہے اور فورسز کی جانب سے بھی کسی وقفے کے بغیر کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے تاہم پی ٹی آئی اور اس کی صوبائی حکومت حسب معمول سیکیورٹی کے حالات سے لاتعلق دکھائی دیتی ہے بلکہ پارٹی اور صوبائی حکومت نے اس جنگی حالت میں بھی 5 اگست کو پشاور میں اپنے بانی کی رہائی یا ملاقاتوں کے معاملے پر دباؤ بڑھانے کے لیے ایک بڑے جلسے کا اعلان کردیا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس اجتماع میں ایک ایسی ” روڈ میپ” کا اعلان کیا جائے گا جس سے بقول پارلیمانی لیڈر شاہد خٹک حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی دیواریں زمین بوس ہو جائیں گی ۔
دیواریں گرتی ہیں یا نہیں تاہم صوبائی حکمران اخلاقی اور سیاسی طور پر یہ بتانے کے پابند ہیں کہ کیا ان کے لیڈر کے لیے کسی ” احتجاج” کا ٹھیکہ صرف جنگ ذدہ خیبرپختونخوا نے لے رکھا ہے، باقی ملک میں خاموشی کیوں چھائی ہوئی ہے؟ دوسرا یہ کہ یہ حق آپ کو کس قانون یا اخلاقیات کے تحت حاصل ہے کہ آپ ایک جنگ ذدہ اور پسماندہ صوبے کے وسائل اور مشینری عوام کی فلاح وبہبود کی بجائے اپنے لیڈر کے لیے استعمال کریں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس مہم جوئی کے لیے ایک بار پھر پشاور ہی کا انتخاب کیوں؟
تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ اگر ایک جانب خیبرپختونخوا کے سسٹم کے اندر موجود بعض ” سابقین” اب بھی دہشت گردوں کی معاونت کررہے ہیں تو دوسری طرف یہ ” لوگ ” صوبائی حکومت کا سہارا لیکر جنگ زدہ صوبے کو ریاست کے خلاف استعمال کرنے کی ایک مستقل پالیسی پر بھی عمل پیرا ہیں اور یہ بات اب بہت سے متعلقہ مگر معتبر حلقے آن دی ریکارڈ کہنے لگے ہیں کہ خیبرپختونخوا کی حکومت کے اہم فیصلے بعض اہم ” سابقین” ہی کرتے آرہے ہیں اور یہ طاقتور لوگ ہر رات اہم بیوروکریٹس کو ذاتی رہائش گاہوں میں طلب کرکے ان سے احکامات جاری کرواتے آرہے ہیں ۔
پورا خیبرپختونخوا اسی ” نیٹ ورک کے ذریعے چلایا جارہا ہے اور فی الحال ان عناصر پر کوئی ہاتھ ڈالنے کا امکان نظر نہیں آتا ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ پی ٹی آئی سمیت ہر سیاسی جماعت اور طبقے کو اظہار رائے اور اختلاف رائے کے علاؤہ قانون اور آئین کے تحت احتجاج کا حق بھی حاصل ہے تاہم جب ایک صوبے کے حکمران خود ہی ریاستی نظام کے بارے میں آن دی ریکارڈ یہ کہنا شروع کریں اور نوجوانوں کو ورغلانے کی پالیسی اختیار کریں کہ اب کے بار ” حکومت اور ریاست کی دیواروں کو گراکر رہیں گے ” تو ایسے طرزِ عمل کو کسی بھی لیول پر درست قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ یہ عوام کو بغاوت اور خون خرابے پر اکسانے کی ایک ایسی کوشش کہلائی جاسکتی ہے جس کو ایک حساس وفاقی یونٹ یعنی ایک صوبے کی حکومت کی سرپرستی اور سرمایہ کاری حاصل ہے اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ کسی سیاسی ایونٹ کو مزاحمت کا ذریعہ بنانے سے گریز کیا جائے اور صوبے کو درپیش سیکیورٹی اور انتظامی مسائل کے حل پر توجہ دی جائے ۔

صوبائی حکومت کی ایک اور مہم جوئی؟

Shopping Basket