Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Friday, September 4, 2026

خیبرپختونخواراؤنڈاَپ

وصال محمدخان
خیبرپختونخواکے طول وعرض میں بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ،معمولات زندگی متاثر،عوام سراپااحتجاج
خیبرپختونخوامیں بجلی کی طویل اورغیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کاسلسلہ جاری ہے۔پشاور،نوشہرہ،مردان،چارسدہ اورصوابی جیسے شہروں میں لوڈشیڈ نگ کادورانیہ 18گھنٹے سے متجاوزہوچکاہے جس سے عوام میں بے چینی کی لہردوڑگئی ہے۔گرمی کے ستائے شہریو ں نے پشاورسمیت مختلف اضلاع میں احتجاجی مظاہرے کئے پشاور،مردان،نوشہرہ،بنوں،لکی مروت اوردیگرعلاقوں میں شہریوں نے سڑکیں بندکرکے اوردھرنے دیکر احتجاج کیا۔ نوشہرہ کے مصروف ترین شوبراچوک میں جی ٹی روڈپر خیمے لگاکر دھرنادیا گیا جس سے اہم شاہراہوں کی دونوں جانب ٹریفک جام ہوگئی اورگاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں لگ گئیں،مظاہرین نے وفاقی حکومت کے خلاف نعر ے بازی کی اورغیراعلانیہ لوڈشیڈنگ فوری ختم کرنے کامطالبہ کیا۔دھرنے میں مشیر زرا عت میاں عمرکاکاخیل اورممبرقومی اسمبلی شاہ احد نے بھی شرکت کی۔میاں عمرنے وفاقی حکومت کوشدیدتنقیدکانشانہ بناتے ہوئے کہاکہ وفاقی حکومت عوام کو ریلیف دینے کی بجائے مسائل میں اضافہ کررہی ہے طویل اورغیراعلانیہ بجلی بندش سے عوام کوعذاب میں مبتلاکیاگیاہے مظاہرین کاکہنا تھاکہ طویل بجلی بندش نے زندگی اجیرن بنارکھی ہے، کاروبارتباہ ہوگئے ہیں،بجلی بندش سے گھر،مساجد،سکول اورکاروباری مراکز متاثر ہو رہے ہیں،طلبہ کوپڑھائی اورآن لائن کلاسزمیں مشکلات درپیش ہیں،صنعت تباہ ہو چکی ہے جبکہ ٹیوب ویلزبند ہونے سے پانی بھی ناپید ہے۔ صوبے میں بجلی کی طویل،غیراعلانیہ اورناروالوڈشیڈنگ کے نتیجے میں سڑکوں اور شاہراہوں پراحتجاج روز کا معمول بن چکاہے وفاقی حکومت ان حالات کانوٹس لے بڑے شہروں میں شیڈولڈ لوڈشیڈنگ 8گھنٹے ہے مگر چار گھنٹے بجلی بھی میسرنہیں۔تنقیدوتشنیع کی توپوں کارخ وفاقی حکومت کی جانب ہے اسلئے وفاق پیسکواہلکاران وافسران کوجوابدہ بنائے۔ صورتحال کااس نہج تک پہنچنا کرپشن،نااہلی اورمس منیجمنٹ کانتیجہ ہے۔اس معاملے پرحکمران جماعت کے بعداب دیگر جماعتیں بھی سیاست چمکارہی ہیں۔گزشتہ ہفتے کے مظاہروں میں سول سوسائٹی سمیت تقریباًتمام سیاسی جماعتو ں کے کارکنوں اورمقامی عمائدین نے شرکت کی۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کااس معاملے پرکہناتھاکہ خیبر پختونخواکی ہائیڈل پاور،تیل، گیس، ایل پی جی اوردیگرقدرتی وسائل پورے پاکستان کی توانائی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں،کثیرمقدارمیں وسائل کی پیداوار اورپورے ملک کو فراہم کرنے کے باوجودشہری بجلی اورگیس کوترس رہے ہیں۔انہوں نے متعلقہ حکام کوہدایت کی کہ آئینی ومالی حقوق کے معاملات وفاقی حکومت کیساتھ باضابطہ طورپراٹھائے جائیں اور حل کیلئے ہرممکن قانونی وآئینی راستہ اپنایا جائے اگروفاق صوبے کے حقوق دینے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کرے تو عدالتوں سے رجوع کیا جائے۔انہوں نے صوبائی ٹرانسمیشن لائن کے منصوبے کوسرمایہ کار ی کانفرنس میں پیش کرنیکی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ یہ ایک منافع بخش منصوبہ ہے جس میں کئی ممالک سرمایہ کاری کرنے پرآمادہ ہیں۔ محکمہ توانائی اوربرقیات کی جانب سے بریفنگ میں انہیں بتایاگیاکہ خیبر پختونخواملک کی مجموعی ہائیڈل پیداوارکا70 فیصدسے زائدنیشنل گرڈ کوفراہم کررہاہے،18 ویں ترمیم کے بعدصوبائی ٹرانسمیشن لائن نہ ہونے کے سبب صوبہ اپنی پیداکردہ بجلی وفاق کو فروخت کرنے پرمجبور ہے۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ مجموعی پیداوارمیں اتنابڑاحصہ ڈالنے کے باوجودنہ صوبے کوبجلی ملتی ہے اورنہ ہی نیٹ ہائیڈل پرافٹ کاحصہ دیاجاتا ہے۔وفاق کے ذمے نیٹ ہائیڈل پرافٹ کے واجبات 2300 ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا5روزہ دورۂ سندھ،دورہ 27ستمبراسلام آبادمارچ کی تیاریوں حصہ ہے
حکمران جماعت کی جانب سے27ستمبر کواسلام آبادمارچ کی تیاریوں کاسلسلہ جاری ہے۔اسی سلسلے میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے خیبر، ہنگو،بونیراورشانگلہ کے دورے کئے جہاں کارکنوں سے خطاب میں ان کاکہناتھاکہ ’27ستمبرکواسلام آبادمارچ کیلئے کارکن بڑی تعداد میں نکلیں اگریہ موقع بھی ضائع کیاگیاتوہم بانی کورہاکروانے میں کبھی کامیاب نہیں ہونگے‘۔وزیراعلیٰ ہاؤس پشاورمیں پارٹی اجلاس کے بعد وزیر اطلاعات شفیع جان کا کہناتھاکہ”وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اورپارٹی قیادت کی دورۂ سندھ کے حوالے سے مشاورتی اجلاس میں دورے کے شیڈول اورآئندہ لائحہء عمل کوحتمی شکل دی گئی۔اجلاس میں سہیل آفرید ی،بیرسٹرگوہر،سلمان اکرم راجہ سمیت مرکزی اور صوبائی قائدین نے شرکت کی۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اوردیگرپارٹی قائدین سٹریٹ موومنٹ کے سلسلے میں 3سے 7ستمبرتک سندھ کا پانچ روزہ دورہ کر ینگے۔ سٹریٹ موومنٹ کاسلسلہ6ستمبرتک ہوگاجبکہ7ستمبرکووزیراعلیٰ اورپارٹی قائدین سندھ ہائی کورٹ بارایسوسی ایشن کے زیر اہتمام منعقدہ لائرزکنونشن سے خطاب کرینگے۔سندھ کے بعدپارٹی قیادت بلوچستان اورپنجاب کارخ کریگی اورملک گیرعوامی رابطہ مہم کو مزید وسعت دی جائیگی،بانی پی ٹی آئی کی ہدایات کے مطابق سہیل آفریدی نے خیبرپختونخوامیں کامیاب سٹریٹ موومنٹ چلائی، اب سندھ سمیت دیگرصوبوں کے دورے عوامی جدوجہدکومزیدمنظم اورفیصلہ کن بنانے میں اہم کردار ادا کرینگے“

اسلام آبادمارچ:پہلے روزکاخرچہ5کروڑ،اسکے بعدیومیہ ڈیڑھ کروڑ،صوبائی صدرجنیداکبر
ایک جانب اگروزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی احتجاجی مصروفیات سے حکومتی معاملات متاثرہورہے ہیں اوراپوزیشن کی جانب سے ان پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے تودوسری جانب پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات بھی چھپائے نہیں چھپ رہے۔علی امین گنڈاپورکے بارے میں ذرائع کا دعویٰ ہے کہ وہ 27ستمبرکے احتجاج میں ڈیڑھ اینٹ کی الگ مسجدبناکرشرکت کرینگے۔یعنی وہ ڈیرہ اسماعیل خان سے اپنے جلوس کی قیادت کرتے ہوئے اسلام آبادجائینگے اورسہیل آفریدی یادیگرراہنماؤں سے دوررہینگے۔ادھرمارچ پراٹھنے والے اخراجات بھی موضو ع بحث بنے ہوئے ہیں۔ اخراجات کیلئے رقم کاانتظام کرناپارٹی قیادت کیلئے بڑاچیلنج بن چکاہے۔صوبائی صدرجنیداکبرنے ایک بیان میں کہاکہ پہلے روزکے اخراجات 45کروڑروپے ہونگے جبکہ اسکے بعدیومیہ خرچہ1کروڑ45لاکھ روپے ہوگا۔ذرائع کے مطابق ہررکن اسمبلی سے 40،50لاکھ روپے طلب کئے گئے ہیں۔متعددارکان اسمبلی نے فنڈنگ کے طریقہ کارپراعتراض کیاہے،انکے مطابق پارٹی کورقم دینے کی بجائے ارکان اسمبلی اورپارٹی عہدیداروں کوذمہ داری دی جائے کہ وہ اپنے ساتھ لائے گئے افرادکے ٹرانسپورٹ اورقیام وطعام
کے اخراجات وہ خوداداکریں۔ماضی میں بھی اسی فارمولے پرعمل ہوا۔ترجمان شوکت یوسفزئی نے ارکان اسمبلی کے اعتراض یاناراضگی سے لاعلمی کااظہارکیاہے۔

پٹرولیم قیمتوں میں روزانہ ردوبدل،صوبے میں مہنگائی کاطوفان اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بلندسطح پر
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیادپرردوبدل نے پورے صوبے میں مہنگائی کے ایک طوفان کوجنم دیاہے۔اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔آٹے کا20کلوتھیلا32سوروپے،چھوٹاگوشت3ہزار، بڑاگوشت 15سو،پیاز,ٹماٹر250،شملہ مرچ3سو،ٹینڈے، بینگن،بھنڈی اورتوری وغیرہ 200روپے کلو،گھی 6سوجبکہ انگور 5سو،سیب 4سواورآڑو300روپے کلومل رہاہے۔ ایل پی جی کی سرکاری قیمت 254 روپے ہے جبکہ یہ 450روپے کلومیں فروخت ہورہی ہے۔شہریوں کے مطابق گیس کی غیراعلانیہ بندش سے ایل پی جی استعمال کرنے پر مجبورہیں مگراسکی قیمت بھی اب دوگنی سے بڑھ چکی ہے۔

وائس آف کے پی اور اسکی پالیسی کا لکھاری کی رائے سے متفق ہوناضروری نہیں ہے۔

خیبرپختونخواراؤنڈاَپ

Shopping Basket