Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Monday, October 19, 2026

بیانیوں کاقحط

وصال محمدخان
خیبرپختونخوامیں گورنرراج لگنے اورپی ٹی آئی حکومت معذول ہونے پریہ بیانیہ بنانے کی کوشش ہورہی ہے کہ فوج اوروفاق نے خیبرپختونخوا کی معدنیات پرقبضے کیلئے ایمرجنسی اورگورنرراج نافذکئے۔درحقیقت پی ٹی آئی کے پاس کوئی معقول بیانیہ موجودنہیں یہ جماعت ہمیشہ سے ہی بے مقصدبیانیوں کے ذریعے اپنی سیاست چمکانے کی کوشش کرتی رہی ہے۔2013ء سے تاحال اس جماعت کووفاق میں پونے چار سال،پنجاب میں چارسال،گلگت بلتستان اورآزادکشمیرمیں ایک ایک ٹرم جبکہ خیبر پختونخوا میں 13سال تک حکومت کرنے کاموقع ملامگر اقتدارکے اس تمام دورانئے میں کسی صوبے میں ایساکوئی کام،منصوبہ،حکمت عملی موجودنہیں جسے سامنے رکھ کرسیاسی بیانیہ بنایاجائے یااس کا ذکرکرکے ووٹ مانگاجائے۔جب سے اس جماعت کوعروج نصیب ہواہے تب سے یہ دوسری سیاسی جماعتوں کی لیڈرشپ پرالزامات لگا کراسے اچھالتی ہے سوشل میڈیااورالیکٹرانک میڈیاپروپیگنڈاکرکے الزامات کوسچ ثابت کرنے اوردوسروں پرپاؤں رکھ کر اونچا ہونے کی کوشش کی جاتی ہے۔ابتدامیں سیاسی راہنماؤں کی کردارکشی کی جاتی رہی،ان پربے سر و پا،لغواوربے بنیادالزامات لگائے جاتے رہے اور یہ الزامات اس تواترسے لگائے گئے،انکی ترویج کی گئی اور بارباردہرائے جاتے رہے کہ سچ کاگمان ہونے لگے۔خیبرپختونخوامیں اے این پی پربے بنیادالزامات کی اس قدربوچھاڑکی گئی اوراس تسلسل سے دہرایاگیاکہ اس جما عت کاصوبے سے تقریباًصفایاہی ہوگیامگر 13 سالہ اقتدارمیں اے این پی کاکوئی ذمے دارنہ ہی تو پکڑا گیا،نہ کسی کیخلاف کوئی مقدمہ قائم ہوااورنہ ہی کسی وزیر،سفیریامشیرکوکوئی سزاہوئی۔ اگر اے این پی اس قدرکرپٹ تھی تو13سالہ اقتدارمیں اسکے دوچار راہنماؤ ں پر مقدمات قائم ہونے چاہئے تھے اورانہیں عدالتوں سے سزا ہونی چاہئے تھی مگرایساکچھ نہیں ہوا،اسی طرح شریف خاندان اورن لیگ کے دیگرقائدین کوقیدوبندکی صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں مگرکسی پرکوئی الزام نہ توثابت ہوااورنہ ہی کسی کوکوئی سزاہوسکی۔کچھ یہی صورتحال پیپلزپارٹی کوبھی درپیش رہی کہ اسکے لیڈرآصف علی زرداری،انکی ہمشیرہ فریال تالپوراوردیگرراہنماؤں کوجیلوں میں توڈالاگیا مگران پرلگایاگیاکوئی الزام درست ثابت نہ ہوسکا۔2022ء میں عمران حکومت کی عدم اعتماد کے ذریعے رخصتی پران الزامات کارخ فوج کی طرف کردیاگیااورہربرائی کاذمہ دارپاک فوج کوٹھہرایاگیامگرحسب سابق ہر الزام غلط اورمحض سوشل میڈیاٹرینڈثابت ہوا۔رواں ماہ وفاق نے صوبے میں ایمرجنسی اورگورنرراج نافذکئے جس پرابتدامیں تودہشتگردی کے حوالے سے ایساماحول بنانے کی کوشش کی گئی کہ فوجی آپریشنزفوج کاکوئی مشغلہ ہے اوراس کے نتیجے میں فوج اپنے ہی شہریوں کے گھربار اجاڑکر ان کاخون بہاناچاہتی ہے۔مگراس حوالے سے جب ثبوت سامنے آئے کہ درحقیقت پی ٹی آئی دہشتگردوں کی سیاسی ونگ کاکردار ادا کررہی ہے اوراسکا ایک راہنماافغانستان میں بیٹھ کر صوبے میں دہشتگردی کوفروغ دے رہاہے،اس نام نہادراہنماکی لوکیشن تک معلوم ہو گئی اورانکی افغانستان میں پاکستان دشمنوں کیساتھ موجودگی کے ناقابل تردیدثبوت سامنے آئے تواس جماعت نے ایک نیاشوشہ چھوڑاکہ گورنرراج اورایمرجنسی صوبے کی معدنیات ہتھیانے کیلئے لگائے گئے ہیں چونکہ پی ٹی آئی صوبے کے معدنی وسائل کی حفاطت کرناچاہتی تھی اوراسے کسی کودینے پرتیارنہیں تھی اسلئے گورنرراج لگاکر ان معدنیات پرقبضہ کیاگیا۔اس بے سروپا الزام کے غبارے سے اس وقت ہو انکلی جب یہ حقائق سامنے آئے کہ قیام پاکستان سے 2013 ء تک صوبے میں 482معدنیات کے لائسنس جاری ہوئے جبکہ پی ٹی آئی کے 13سالہ دورمیں مزید4435لائسنس جاری کئے گئے 2020ء میں جب پی ٹی آئی وفاق اورصوبے میں حکمران تھی اس سال 1762لائسنس جاری کئے گئے۔یہاں یہ امرباعث حیرت ہے کہ2024ء کے بعدصوبے میں تھوک کے حساب سے معدنیات کے لائسنس جاری ہوئے جن کی تعداد3962ہے اوران لائسنسزکے اجرامیں میرٹ کی دھجیاں بکھیرکراڈیالہ جیل میں قیدراہنمانمبر1اور افغانستان میں بیٹھے راہنمانمبر2کی سفارش پرمنظورنظرافراداوررشتے داروں کونوازاگیا۔4435لائسنس پی ٹی آئی ادوارمیں جاری ہوئے جبکہ الزام فوج اوروفاق پرلگائے جارہے ہیں کہ وہ صوبے کی معدنیات لوٹناچاہتے ہیں۔قابل افسوس امریہ ہے کہ ان الزامات کی تکرار اور گردان سے متاثرہوکراے این پی اورجے یوآئی کے راہنمابھی یہی الزامات دہرانے لگے ہیں۔مولانافضل الرحمان اورایمل ولی خان کو یہ توفیق نہیں ہوتی کہ وہ حکومت سے مطالبہ کریں کہ لائسنسوں کے اجراء میں ہونیوالی بے قاعدگیوں کانوٹس لیکر شفاف تحقیقات کروائی جائے اورصوبے کے وسائل پرلوٹ سیل لگانیوالوں کامحاسبہ کیاجائے اسکی بجائے صوبے کی یہ دونوں بڑی جماعتیں بھی پی ٹی آئی بیانئے کی اسیربن چکی ہیں جس کاایک مطلب تویہی لیاجارہاہے کہ ان دونوں جماعتوں کے پاس سیاسی بیانیوں کاقحط پڑچکاہے،محکمہ معدنیات خیبر پختونخواکے اعدادوشماربھی انہیں معلوم نہیں اوریہ بھی نہیں جانتے کہ پی ٹی آئی نے کس طرح صوبے کے وسائل پرلوٹ سیل لگا کرانہیں اونے پونے داموں فروخت کیااوراس کافائدہ گنتی کے چندافرادنے اٹھایا۔معقول بیانیہ اپنانے اورصوبے کے وسائل کی لوٹ مار کیخلاف آوازاٹھانے اورذمہ داروں کے احتساب کامطالبہ کرنے کی بجائے دونوں جماعتیں بھی پی ٹی آئی کے بیانئے میں رنگ گئیں۔ اس کے دو نقصانات ہوئے ایک تویہ کہ جس نے صوبے کے معدنی وسائل لوٹے ہیں وہ برالذمہ ہوئے اوران پرہاتھ ڈالنے کی توقع معدوم ہوئی جبکہ دوسرایہ کہ صوبے کی حقیقی وراثت کی دعویدارجماعتوں کے پاس اپناکوئی بیانیہ موجودنہیں۔لوٹ مارکرنے والے مزے سے ہیں اوروفاق یا فوج جواس لوٹ مارکی روک تھام اورصوبے کے وسائل عوامی مفاد کیلئے بروئے کار لاناچاہتے ہیں، انہیں ہی موردالزام ٹھہرایاجارہاہے۔ ضرورت اس امرکی ہے کہ جے یوآئی اوراے این پی صوبے کی مخدوش حالات کا ہمدردانہ جائزہ لیں اورعوام کوبتائیں کہ ہمیں حکومت ملنے کی صورت میں مسائل کیسے حل کئے جائیں گے۔ دنیامیں بیانیوں کاقحط نہیں پڑاسوشل میڈیا بیانیوں کااسیربننے کی بجائے سلگتے مسائل کے حل پر مبنی بیانئے تشکیل دئے جائیں۔

وائس آف کے پی اور اسکی پالیسی کا لکھاری کی رائے سے متفق ہوناضروری نہیں ہے۔

بیانیوں کاقحط

Shopping Basket