وصال محمدخان
خیبرپختونخواکے12اضلاع میں ایمرجنسی باقی صوبے میں گورنرراج نافذ،مشاورتی کونسل تشکیل
حکمران جماعت پرسکوت طاری،عوام لاتعلق،کنٹینرمردان میں کھڑارہ گیا،سہیل آفریدی گرفتار
ہفتہ 11اکتوبرسے خیبرپختونخواکی صوبائی حکومت کومعذول کرکے گورنرراج اور12اضلاع میں ایمرجنسی نافذکردی گئی ہے۔جس کی توثیق پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے بھی 56کے مقابلے میں 214ووٹوں سے کردی ہے۔ اس سے قبل معذول وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے4 اکتوبر سے لانگ مارچ کاآغازکیاتھاجوگورنرراج کے نفاذوالے دن مردان تک پہنچ سکاتھایہ مارچ لکی مروت سے شروع ہوکربراستہ کوہاٹ متنی پشاور،وہاں سے خیبر،خیبرسے واپس پشاوراورپھرچارسدہ جبکہ اسکے بعدمردان روانہ ہوا۔ جس دن گورنرراج نافذہوااس دن مارچ کے اگلے منزل کاکسی کوعلم نہیں تھاکہ آیایہ مارچ مردان سے صوابی جائیگایاپھرملاکنڈ، دیر،باجوڑ وغیرہ کا رخ کریگامگرگورنرراج کے نفاذسے مارچ کاسلسلہ مردان میں انجام کوپہنچااورسہیل آفریدی کیلئے تیارکیاگیا کنٹینر وہیں بے یارو مدد گار کھڑارہ گیاگورنرراج کے نفاذپروفاق اور مقتدر حلقوں کوپرتشدداحتجاج کی فکردامن گیرتھی مگرصوبائی حکومت اوروزیراعلیٰ کی معذولی پرپورے صوبے میں ماحول پرامن رہا،سوائے تیسرے روزجب خیبرکی تحصیل باڑہ میں معدودے چندشر پسندنکلے جنکی نہ صرف پولیس کیساتھ جھڑپیں ہوئیں بلکہ نادراآفس کوبھی نذرِآتش کیاگیامگر ا س معمولی نوعیت کے شورش پرجلدہی قابو پالیا گیا۔ گرفتار شرپسندوں میں 25افرادکاتعلق افغانستان سے بتایاجارہاہے۔اس سے قبل پی ٹی آئی مارچوں میں افغان مہاجرین کی شمولیت بھی سامنے آئی تھی۔معذول ہونیوالی حکومت اگر ایک جانب کالعدم ٹی ٹی پی کیلئے نرم گوشہ رکھتی تھی تودوسری جانب افغان مہاجرین کی وطن واپسی میں تعاون سے بھی گریزاں تھی۔ اکادکا واقعات سے قطع نظرمجموعی طورپر پورے صوبے کاماحول پرامن رہااورکہیں سے بھی حکومت کے خاتمے اورایمرجنسی کے نفاذپرکوئی آوازنہیں اٹھی۔جن اضلاع سے گزشتہ انتخابا ت میں پی ٹی آئی نے سویپ کیاتھاوہاں سے بھی ایمرجنسی اورگورنرراج کی مخالفت میں قابل ذکرآوازبلندنہ ہوسکی جس سے واضح ہواکہ معذول حکومت عوام میں کس قدرغیرمقبول تھی اور عوامی سطح پر اپنااعتمادکھوچکی تھی۔سنجیدہ حلقے اسی قسم کے ردعمل کی توقع کررہے تھے کیونکہ اس حکومت نے سوائے احتجاجوں، کرپشن،اقرباپروری اورزبان درازی کے کوئی کام نہیں کیا۔گورنرراج نفاذکے بعدپشاور،،مردان،سوات، چارسدہ اور صوابی میں پی ٹی آئی عہدیداروں، سرگرم کارکنوں اورایم پی ایزکی رہائشگاہوں اورڈیروں پرچھاپے مارنے کی اطلاعات ہیں۔ سوات میں ڈی آئی جی آفس کے سامنے احتجاج کرنیوالے24جبکہ صوابی میں گرفتار47کارکنان کو3ایم پی او کے تحت جیل بھیج دیاگیا۔ معتبررپورٹس کے مطابق پورے صوبے میں 16مقامات پراحتجاج ہواجبکہ کسی احتجاج میں 100سے زائدافرادشریک نہیں ہوئے۔ سہیل آفر ید ی کو 11 اکتوبرکی صبح وزیراعلیٰ ہاؤس پشاورسے جبکہ سپیکربابرسلیم سواتی، جنیداکبراورخالدخورشید کوسپیکرہاؤس سے حفاظتی تحویل میں لیاگیاانکے بارے میں حکام کی جانب سے تادم تحریرکچھ نہیں بتایاگیاکہ وہ کہاں اورکس حالت میں ہیں۔وزیراعظم کے کوار ڈینٹر برائے خیبرپختونخوااختیارولی نے ایک بیان میں کہاہے کہ سہیل آفریدی اپنی مرضی اور آرام سے ایک ریسٹ ہاؤس میں مقیم ہیں۔سہیل آفریدی کے بھائی محمدعامر اور بابر سلیم سواتی کے قریبی رشتے دارکی جانب سے پشاورہائیکورٹ میں درخواستیں دائرکرکے استدعا کی گئی ہے کہ انہیں بازیاب کرواکرعدالت میں پیش کیاجائے اورگرفتاری کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کروائی جائے۔وزیراعلیٰ کے بھائی کا مؤقف ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کوسی سی پی اوپشاورکی موجودگی میں مسلح نقاب پوش افرادہمراہ لے گئے انکی موجودگی، تحویل اور قانونی حیثیت کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کی جارہیں،صوبے کے منتخب چیف ایگزیکٹیوکی آزادی سلب کرنااورانہیں حراست میں رکھنا آئین قانون اورانسانی حقوق کی سنگین خلاف ورز ی ہے اوران حالات میں انکی جان اورسلامتی کوبھی شدیدخطرات لاحق ہیں، درخواست میں مزیدکہاگیاہے کہ وزیراعلیٰ کی مبینہ غیرقانونی حراست آئین کے آرٹیکلز4،9،10اور14سے متصادم ہے۔جبکہ سپیکر بابرسلیم سواتی کی درخواست میں مؤقف اپنایاگیاہے کہ صوبائی اسمبلی کے منتخب سپیکرکوپولیس افسران کی موجودگی میں مسلح نقاب پوش لے گئے انہیں بازیاب کروا کرپولیس سے رپورٹ طلب کی جائے۔ دونوں درخواستوں میں جلدسماعت کی استدعابھی کی گئی ہے جبکہ دوسری جانب ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں چالان ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیو ٹر کے دفترمیں جمع کروادیاگیاہے جہاں انسدادہشتگردی عدالت کے جج چھٹی پر تھے اسلئے سماعت28اکتوبرتک ملتوی کی گئی۔چالان میں سہیل آفریدی،سابق وزراتیمورسلیم جھگڑا،کامران بنگش،پی ٹی آئی پشاور کے صدرعرفان سلیم اور عامرچمکنی کونامزدکیاگیاہے ریڈیو پاکستا ن کے وکیل کاکہناتھاکہ تفتیش مکمل ہونے کے باوجودچھ ماہ تک چالان عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔یادرہے عدالت نے ریڈیو پاکستان کی درخواست پرملزمان کی شناخت کی تصدیق کیلئے نادرااسلام آباداورپنجاب فارنزک لیبارٹری سے رپورٹس حاصل کی تھیں جبکہ کرائم سین کی فوٹیج کافارنزک تجزیہ بھی کرایاگیا۔مذکورہ مقدمے میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کوسزاہونے کا امکان ظاہرکیاجارہاہے۔پی ٹی آئی چیئرمین گوہرخان نے گورنرراج اورایمرجنسی نفاذکے فیصلے کوپشاورہائیکورٹ میں چیلنج کردیاہے۔
8 سابقہ قبائلی باجوڑ،مہمند،خیبر،کرم،اورکزئی،شمالی وزیرستان،جنوبی وزیرستان اپراورلوئر جبکہ 4جنوبی اضلاع ڈیرہ اسماعیل خان،ٹانک، لکی مروت اوربنوں میں ایمرجنسی نافذکرکے وہاں کیلئے علاقائی ترقیاتی کونسل قائم کی گئی ہے۔ان اضلاع کیلئے 24رکنی علاقائی ترقیاتی کونسل کی تشکیل کاعمل بھی جاری ہے جس میں ہرضلع سے 2 مقامی قبائلی عمائدین یاملک شامل کئے جائیں گے۔ کونسل کیلئے ارکان کاانتخاب روایتی جرگہ نظام مقامی قبائلی روایات اورباہمی مشاورت کے ذریعے کیاجارہاہے۔پہلے مرحلے میں شمالی وزیرستان، خیبر،ٹل اوربنوں میں جرگوں کے ذریعے انتخابی عمل کاآغازکیاگیاہے ملکان اورمشران نے نئے انتظامی نظام پراعتمادکااظہار کیاہے۔جبکہ دیگر اضلاع میں جہاں گورنرراج نافذہے وہاں گورنرفیصل کریم کنڈی کی سربراہی میں 11رکنی مشاورتی کونسل تشکیل دی گئی ہے جس میں ٹیکنوکریٹس اوراپنے شعبہ جات کے ماہرین کاتقررکیاگیاہے۔وزارت تعلیم کیلئے عامرعبداللہ جبکہ صحت کیلئے پاک فوج کی پہلی خاتون لیفٹیننٹ جنرل نگارجوہر کاانتخاب کیا گیاہے ان تقرریوں کوسراہاجارہاہے۔گزشتہ حکومت پر تعلیم اورصحت کے حوالے سے خاصی تنقیدہوتی رہی امیدہے ان محکموں پربھرپورتوجہ دی جائیگی۔ گورنرمشاورتی کونسل میں شامل اکثریتی ارکان مسلم لیگ ن کے تجویزکردہ ہیں جن میں سے بیشتر یاتوخاندانی طورپر ن لیگ سے وابستہ ہیں یاپھرسابقہ اورموجودہ افسران وزیراعظم میاں شہبازشریف کیساتھ کام کرچکے ہیں اورانکے منظورِ نظرہیں۔گورنرراج اورایمرجنسی نفاذکے فوری بعدمشاورتی کونسل اورایمرجنسی والے علاقوں کیلئے کونسل کی تشکیل سرعت سے انجام پائی جس سے واضح ہورہاہے کہ وفاق پہلے سے ہی تیاری کرچکاتھا۔ سہیل آفریدی تحویل کے وقت وزیراعلیٰ ہاؤ س میں اکیلے تھے خاصے انتظارکیبعد جب وہ دروازہ کھولنے پر آمادہ نہ ہوئے توپولیس کومجبوراًدروازہ توڑناپڑا۔ذرائع کے مطابق معذول وزیراعلیٰ کونہ ہتھکڑی پہنائی گئی اورنہ ہی انہیں قیدیوں والے وین میں لیجایاگیابلکہ وہ خودعام گاڑی میں بیٹھ کرپولیس کے ہمراہ روانہ ہوئے۔انکی کابینہ میں 16وزرا، 6مشیران، 8معاونین خصوصی اور 23پارلیمانی سیکرٹریزشامل تھے ان سب نے گورنرراج کے بعدروپوشی اختیارکرلی ہے۔مبینہ طورپرسوات سے ڈاکٹر امجدجبکہ چارسدہ سے فضل شکوردوسابق وازراپہلے سے غائب ہیں جن کے بارے میں پی ٹی آئی ذرائع اغواکادعویٰ کررہے ہیں جبکہ پارٹی ذرائع کے مطابق 8 ارکان صوبائی جبکہ 3قومی اسمبلی ممبران لاپتہ ہیں جومارچ کے دوران ہی لاپتہ ہوگئے تھے۔
پنجاب حکومت کی جانب سے ترسیل پرپابندی ہٹائے جانے کے بعدصوبے میں آٹے کی قیمتیں کم ہورہی ہیں۔پی ٹی آئی مارچ کے دوران 20کلوآٹے کی قیمت 3800روپے کی بلندترین سطح تک پہنچ چکی تھی جواب کم ہوکر3ہزار تک آچکی ہے۔پنجاب سے روزانہ آٹے کی 80ہزاربوریاں پرمٹس کے ذریعے آرہی ہیں آٹاڈیلرزنے پنجاب حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ پرمٹس کی بجائے بلاروک ٹوک نقل وحمل کی اجازت دی جائے اس اقدام سے 20کلوتھیلے کی قیمت کم ہوکر 2ہزارروپے ہوسکتی ہے۔
پشاورکے شہری علاقے دیرکالونی میں سکول کی خستہ حال چھت گرنے سے2خواتین ٹیچرزسمیت33بچے جاں بحق جبکہ53 زخمی ہوئے۔ افسوس ناک سانحہ جمعرات کوصبح 8بجے کے قریب پیش آیا۔پولیس نے سکول مالک کوگرفتارکرلیاہے۔واقعے کی تحقیقات اورذمہ داروں کے تعین کیلئے دورکنی کمیٹی قائم کی گئی ہے۔


