وصال محمدخان
شہدائے پولیس ہمارافخرہیں،شہداکے لواحقین کوخصوصی کارڈزجاری کئے جائیں گے،گورنر
گورنرفیصل کریم کنڈی کی نگرانی میں خیبرپختونخواکی نئی حکومت اورایمرجنسی والے 12اضلاع میں ایریا ریپریزنٹیٹواینڈڈویلپمنٹ کونسل نے اپنی ذمہ داریاں سنبھال کر حکومتی امورکی انجام دہی میں ہمہ تن مصروف ہوچکی ہیں۔گورنرکیلئے جو12رکنی مشاورتی کونسل بنائی گئی ہے۔ اسکے ارکان میڈیامیں بیانات اورپریس کانفرنسزکرنے کی بجائے متعلقہ محکموں کے معاملات سلجھانے میں مصروف ہیں۔سہیل آفریدی کی سربراہی میں معذول حکومت کے وزرادن میں دوچارپریس کانفرنسزکرتے تھے مگرنئے سیٹ اَپ کے کرتادھرتاخودکواس عمل سے دوررکھے ہوئے ہیں۔ مشیراطلاعات ثمربلورمیڈیاکے معاملات دیکھتی ہیں اورحکومتی اقدامات سے میڈیاکووہی آگاہ کررہی ہیں۔گزشتہ ہفتے انہوں نے الیکٹرانک میڈیاکے بیوروچیفس سے خصوصی ملاقات کے دوران صوبے کے مختلف اضلاع میں جاری حکومتی اقدامات اورعوام کوریلیف فراہمی کی کوششو ں پرروشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ”عوام کی مشکلات میں کمی لانے،مسائل حل کرنے اورجان ومال کے تحفظ کویقینی بنانے کیلئے مؤثراقدامات حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں،امن وامان کی صورتحال بہتربنانے اورعوام کوریلیف فراہمی کیلئے متعلقہ اداروں کیساتھ مل کرانتھک کوششیں ہورہی ہیں اوراس ضمن میں تمام دستیاب وسائل بروئے کارلائے جارہے ہیں،حکومت اورمیڈیاکے درمیان مؤثر رابطے ناگزیر ہیں،صحافی عوامی مسا ئل اجاگرکر نے اورنشاندہی میں اہم کرداراداکرتے ہیں،ہمارے دروازے صحافیوں اورعوام کیلئے کھلے ہیں“۔جبکہ گورنرفیصل کریم کنڈی بھی پولیس،امن وامان،ناجائز تجازات اوردیگرحکومتی امورپرتوجہ مرکوزکئے ہوئے ہیں۔گزشتہ ہفتے پولیس افسران کے اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ”ہماری اولین ترجیح قیام امن ہے،پولیس پرعوام کااعتمادبحال ہوتو پائیدارقیام امن کاخواب شرمندۂ تعبیرہوگا،قیام امن کیلئے جوان اورافسران کی قربانیاں قابل قدرہیں، امن پرکوئی سمجھوتہ نہیں کیاجائیگا، دہشتگردی کیخلاف فیصلہ کن جنگ میں کسی غلطی کی گنجائش نہیں،ہم نے پہلی فرصت میں پولیس شہداپیکیج میں اضافہ کیا،شہداء کے بچوں کیلئے کیڈٹ کالج کاقیام عمل میں لایاجائیگا،پولیس افسران اپنے اضلاع میں شہداکے لواحقین سے رابطے میں رہیں،اورانکی دیکھ بھال کوذمہ داری سمجھیں شہداہمارافخرہیں،انکے خاندانوں کوباورکرواناضروری ہے کہ وہ مشکل گھڑی میں تنہانہیں بلکہ ریاست انکے ساتھ کھڑی ہے انکے کیلئے کارڈزجاری کئے جائینگے جس سے سرکاری دفاترمیں مسائل ترجیحی بنیادوں پرباعزت اندازمیں حل ہونگے،پولیس لائنز، تھانوں اور چیک پوسٹوں کوشمسی توانائی پرمنتقل کیاجائے انہوں نے پولیس افسران کوہدایت کی کہ خالی اسامیوں پرفوری بھرتی کیلئے اقدامات کئے جا ئیں تاکہ نفری کی کمی کامسئلہ حل ہو پولیس افسران اوپن ڈورپالیسی اپنائیں،عوامی مسائل ترجیحی بنیادوں پرحل کرنیکی کوشش کریں اورعلاقہ عمائدین کواعتمادمیں لیکرعوام اور پولیس کے درمیان رابطے استوارکئے جائیں،ان کامزیدکہناتھاکہ خیبرپختونخواپولیس دہشتگردی کیخلاف فرنٹ لائن پرلڑرہی ہے اسلئے اسکی تمام ضروریات پوری کی جائیں گی۔گورنرکی زیرصدارت پشاورماسٹرڈویلپمنٹ پلان کے حوالے سے ہونیوالے اجلاس میں انہوں نے 100اور180روزہ اہداف کوبروقت مکمل کرنے،پشاورمیں الیکٹرک کیبلززیرزمین منتقل کرنے، تجاوزات سے واگزارکرائی گئی زمینوں کوشہرکی خوبصورتی میں اضافہ کیلئے استعمال کرنے، سڑکوں کی حالت اورٹریفک نظام بہتربنانے کی ہدایت بھی کی ہے۔اسکے علاوہ پورے صوبے میں ناجائزتجاوزات کے خلاف بھی ایک بھرپورآپریشن جاری ہے جس کے تحت چھوٹے شہروں اورقصبوں میں تجاوزات ہٹائی جارہی ہیں جس کی زدمیں برسوں پرانی دوکانیں،مارکیٹیں اورپلازے بھی آرہے ہیں۔گورنرکی سیاسی قیادت کیساتھ ملاقاتوں اورمشاورت کاسلسلہ بھی جاری ہے۔اس سلسلے میں انہوں نے ایمل ولی خان، آفتاب شیرپاؤ،پرویزخٹک، جماعت اسلامی کی قیادت اوردیگرقائدین سے ملاقاتیں کی ہیں۔
ایمرجنسی والے12اضلاع میں قیام امن کیلئے قبائلی روایات کے تحت مذاکرات کاعندیہ
ایمرجنسی والے 12 اضلاع میں 48رکنی ایریاریپریزنٹیٹواینڈڈویلپمنٹ کونسل(ARDC) قائم کی گئی ہے جس کے چیئرمین سابق گورنر انجینئر شوکت اللہ کاکہناہے کہ کونسل کے ارکان اپنے متعلقہ اضلاع میں قبائلی روایات کے مطابق بات چیت کاآغازکرینگے،جس میں جرگوں،مقامی عمائدین اورعلاقہ مکینوں کاتعاون حاصل کیاجائیگاتاکہ مسلح گروہوں کوغیرمشروط طورپرمتعلقہ علاقے چھوڑنے پرآمادہ کیاجاسکے۔ 12 اضلاع کیلئے مشیراطلاعات پشاورکے معروف صحافی محمودجان بابرکے مطابق ہرضلع میں کونسل کے متعلقہ رکن کواس مقصدکیلئے ذمہ داری دی جائیگی اورمقامی رابطوں اورمشاورت کے ذریعے اس عمل کوآگے بڑھایاجائیگا۔شوکت اللہ کی سربراہی میں قائمARDCکے ذریعے مقامی نمائندوں کو امن وامان،ترقیاتی ضروریات اورعوامی مسائل کے حوالے سے کرداردینے کی کوشش کی جارہی ہے۔چیئرمین ARDC کے مطابق پہلے مرحلے میں ان علاقوں میں ترقیاتی کاموں پرتوجہ دی جائیگی اورقیام امن کیلئے قبائلی روایات کومدنظررکھتے ہوئے اقدامات لئے جائینگے۔ ARDC کی مذاکرات کے ذریعے دہشتگردوں کوعلاقہ چھوڑنے پرمجبورکرنیوالی پالیسی مبہم ہے اوراسکے خدوخال واضح نہیں کہ علاقہ چھوڑکرجانیوالے کہاں جائینگے؟
پی ٹی آئی حکومت سے مذاکرات پرآمادہ،سہیل آفریدی تاحال لاپتہ،نئے وزیراعلیٰ کیلئے کوششیں
دوسری جانب معذول وزیراعلیٰ سہیل آفریدی،سپیکربابرسلیم سواتی اورصوبائی صدرجنیداکبر تاحال منظرعام پرنہیں آئے۔ انکے بارے میں حکومت کی جانب سے بھی کوئی واضح مؤقف سامنے نہیں آرہا۔پشاورہائیکورٹ میں انکی حراست کے حوالے سے جورٹ پٹیشن دائرکی گئی ہے اسکی سماعت3نومبرکوہونی ہے۔پارٹی چیئرمین گوہرخان سہیل آفریدی کوہی وزیراعلیٰ قراردے رہے ہیں۔انسداددہشتگردی عدالت نے ریڈیوپاکستان کیس میں انکی وارنٹ گرفتاری بھی جاری کردیاہے۔درپردہ نئے وزیراعلیٰ سامنے لانے کی کوشش بھی جاری ہے۔اس سلسلے میں علی امین گنڈاپورخاصے سرگرم ہیں گزشتہ ہفتے صوبائی پارلیمانی پارٹی کے68ارکان کی جانب سے گنڈاپورپراعتمادکااظہارکرنے اورانہیں سٹیبلشمنٹ سمیت وفاقی حکومت سے مذاکرات کیلئے نامزدکرنے کی خبرسامنے آئی تھی جس پرسلمان اکرم راجہ اورگوہرخان نے ان ارکان کوتنقیدکانشانہ بنایاتھا مگراب خبرآرہی ہے کہ خیبرپختونخواکے پارلیما نی پارٹی کوبھی آئندہ کے لائحہء عمل پراعتمادمیں لینے کافیصلہ کیاگیا ہے۔غیرمصدقہ خبریں یہ بھی چل رہی ہیں کہ پارلیمانی پارٹی کی اکثریت سہیل آفریدی سے نالاں ہے اسی لئے بیشترارکان نے نہ صرف احتجاج میں حصہ نہیں لیابلکہ یہ مقررہ دن سے قبل ہی روپوش ہوگئے جوتا حال منظرعام پرنہیں آئے پارٹی کی کوراورسیاسی کمیٹی کے اجلاس منعقدہوئے ہیں جن میں حکومت کیساتھ مذاکرات پرزوردیاگیاہے۔ مگر مصدقہ ذرائع کادعویٰ ہے کہ صوبے کودوبارہ پی ٹی آئی کے حوالے نہیں کیاجائیگا۔اگرچہ آئین کے مطابق گورنرراج چھ ماہ تک قائم رکھا جا سکتاہے مگروفاقی حکومت کوایوان بالااورایوان زیریں میں دوتہائی اکثریت حاصل ہے جس کے بل بوتے موجودہ سیٹ اَپ کوطول دینا زیادہ مشکل نہیں۔ جن اضلاع کی حلقہ بندیاں مکمل ہوئی ہیں الیکشن کمیشن نے وہاں بلدیاتی انتخابات کے انعقادکافیصلہ سنایاہے۔ باخبررذرائع کے مطابق ایمرجنسی والے اضلاع کے سواباقی صوبے میں جلد بلدیاتی انتخابات کااعلان متوقع ہے۔

