Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Monday, November 2, 2026

اسٹیٹ ریڈ لائنز

عقیل یو سفزئی

ماہرین کی اکثریت کی رائے ہے کہ پاکستان اپنی جغرافیائی اہمیّت اور درپیش اندرونی ، بیرونی چیلنجز کے باعث ہارڈ اسٹیٹ کے ایک تجربے سے گزرنے لگا ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ جہاں ایک طرف افغانستان اور بعض دیگر پاکستان مخالف ممالک کے ساتھ سخت پالیسیاں اختیار کی گئی ہیں تو دوسری جانب پی ٹی آئی ، جے یو آئی ، ٹی ایل پی اور پی ٹی ایم وغیرہ کے ساتھ ریاستی مفادات کے تناظر میں سختی کے ساتھ نمٹنے کا راستہ اپنایا گیا ہے ۔
پی ٹی آئی کو 13 برسوں تک اس کے باوجود برداشت کیا جاتا رہا کہ خیبرپختونخوا میں اس کی حکومتیں کالعدم ٹی ٹی پی اور افغان رجیم کی حمایت کرتی آرہی تھیں جس کے باعث خیبرپختونخوا کی سیکیورٹی صورتحال ابتر ہوتی گئی تاہم جب پانی سر سے اپر ہونے لگا تو خیبرپختونخوا میں بیک وقت ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ عمل میں لایا گیا اور اس وقت صوبائی حکومت دہشت گردی کے معاملے پر وفاقی حکومت اور ملٹری اسٹبلشمنٹ کے ساتھ ایک پیج پر رہ کر آگے بڑھ رہی ہے اور توقع کی جارہی ہے کہ معاملات میں بتدریج بہتری واقع ہوگی ۔
اسی طرح مولانا فضل الرحمان اور ان کی پارٹی جے یو آئی کے ان پالیسیوں اور بیانات کا بھی سخت نوٹس لیا گیا ہے جو کہ ریاست مخالف پروپیگنڈا اور سرگرمیوں کے زمرے میں آتے ہیں ۔
سیاسی مخالفت اور پالیسیوں سے اختلاف رائے اپنی جگہ مگر جس طریقے سے پی ٹی آئی اور جے یو آئی نے ریاستی اداروں کے خلاف مہم جوئی شروع کی اس تناظر میں شاید ریاست کے لیے مزید خاموش رہنا اور مفاہمت سے کام لینا ممکن نہیں رہا تھا اس لیے سخت گیر پالیسیاں اختیار کی گئیں ۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اگر آج ملک کو بعض سنگین چیلنجز درپیش ہیں تو اس کی ذمہ داری پی ٹی آئی اور جے یو آئی سمیت ان تمام پارٹیوں پر عائد ہوتی ہے جو کہ ماضی میں مختلف حکومتوں کا حصہ رہی ہیں اس لیے ان سب کو ذمہ داری بھی قبول کرنی ہوگی کیونکہ اجتماعی ذمہ داری قبول کرکے ہی مسائل سے نکلا جاسکتا ہے ۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے اور دونوں ممالک میں گزشتہ ایک ہفتے سے تین چار سرحدی علاقوں میں جھڑپیں ہوئیں ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے گزشتہ روز اپنے دورہ پشاور اور اس کے بعد مختلف انٹرویوز میں افغانستان کو دہشت گردی کا مرکز قرار دیتے ہوئے کہا کہ افغان رجیم نے افغان سرزمین کو دہشت گرد گروپوں کے ٹھکانوں میں تبدیل کردیا ہے اور یہ کہ افغان حکومت کے علاؤہ بھارت بھی دہشت گردوں کی سرپرستی کرتا آرہا ہے ۔ ان کے بقول پاکستان کے لیے یہ نیکسس قابل برداشت نہیں ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ پاکستان ان ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا اپنا حق دفاع استعمال کرتا رہا ہے اور اس وقت تک یہ حق استعمال کرتا رہے گا جب تک افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف کارروائیوں میں ملوث گروپوں کا خاتمہ نہیں کیا جاتا اور افغان رجیم ایسے دہشت گردوں کی سرپرستی سے باز نہیں آتی ۔
تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ دہشت گردی اور سیاسی شرپسندی پاکستان کو درپیش وہ چیلنجز ہیں جن کے خاتمے کے لیے نہ صرف یہ کہ سخت ترین اقدامات کی ضرورت ہے بلکہ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے وسیع البنیاد پالیسیاں اپنانے کی بھی اشد ضرورت ہے ۔

اسٹیٹ ریڈ لائنز

Shopping Basket