Abbottabad: Speech competition held among students under Jawan Udan program

ایبٹ آباد: جوان اڑان پروگرام کے تحت طلباء کے مابین تقریری مقابلے کا انعقاد

ایبٹ آباد سرکل بکوٹ کے سرکاری سکولز کے طلباء میں جوان اڑان پروگرام کے تحت 2050 کے پاکستان میں نوجوانوں کا کردارکے موضوع پر تقریری مقابلہ کا انعقاد کیا گیا۔جس کے مہمان خصوصی سابق رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر اظہر خان جدون اورمقابلے کے آرگنائزر راجہ محمد خان عباسی تھے ۔تقریب میں امیر جماعت اسلامی ہزارہ عبدالرزاق عباسی ، سابق ضلع ناظم سردار شیر بہادر ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر محمد الیاس خٹک ،اسسٹنٹ کمشنر صدام خان ،جان محمد قریشی ،حنا ایڈووکیٹ اور دیگر نے بھی خطاب کیا ۔جب کہ اس موقع پر اساتذہ کرام ،طلباء اور والدین بھی شریک تھے ۔تقریری مقابلہ میں سرکل کے 13 سکولز کے مقابلہ میں ثناء اللہ نے اول ،نعمت اللہ نے دوسری احسان علی نے تیسری پوزیشن حاصل کی ۔جن کو نقد انعام کے ساتھ شیلڈ بھی دی گئی ۔قرعہ اندازی کے ذریعہ ایک طالب علم کو موبائل بھی دیا گیا ۔اس مقابلہ میں ججز کے فرائض اسپیکر کلب کے چیئرمین معروف ماہر تعلیم غفران مجید ،معروف ادبی شخصیت محمد امین صادق،اسسٹنٹ سیکرٹری ایبٹ آباد پریس کلب دلدار احمد ستی نے سر انجام دیئے ۔مہمان خصوصی سابق ایم این اے ڈاکٹر اظہر خان جدون نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دور افتادہ علاقہ سرکل بکوٹ کے لوگوں کے ساتھ ایک روحانی تعلق رہا ہے۔آج کے نوجوانوں کے پاس بڑے مواقع ہیں اپنی تعلیم میں جدید علوم کے ساتھ تربیت کو ساتھ لے کر چلیں۔اسی طرح قوم کو بنانے میں بچوں کے ساتھ ساتھ بچیوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دیں۔سابق ضلعی ناظم سردار شیر بہادر نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمارے نوجوانوں میں ایسے شامل ہیں جو آنے والی نسل کے بہتر مستقبل کا سوچ رہے ہیں۔ٹاٹ پر بیٹھ کے پڑھنے والی نسل نے بھی ملک کی تعمیرو ترقی میں بھرپور حصہ لیاتھا۔لیکن اپنی زمہ داریوں سے عہدہ براہ نہیں ہو سکے۔آج دنیا گلوبل ویلج بن چکی ہےذمانہ جین زی کا ہے، بین الاقوامی سطح پر دنیا کا مقابلہ کرنے کے کے لئے نوجوانوں کا بڑا کردار ہوگا۔ضلعی ایجوکیشن آفیسر محمد الیاس خٹک کا کہناتھا حکومت کی ہدایت پر ضلع میں نئے داخلوں کے ہدف میں پورے صوبہ میں پہلی پوزیشن ہے۔تمام سکولز میں ہر بچے کو سہولیات میسر ہیں۔اساتذہ اور والدین کے مابین روابط فعال کرنے سے طلباء کی استعداد میں اضافہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ سرکاری سکولز کے اساتذہ اور طلباء تعلیمی لحاظ میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تعلیم کے فروغ کے لئے اپنی استعداد اور دستیاب وسائل کو بروئے کار لائیں گے ۔مقررین کا کہنا تھا نوجوان ملک اثاثہ ہیں ۔ان کی صلاحیتیوں کو نکھارنے کے لئے جوان اڑان پروگرام کے راجہ محمد خان عباسی کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ جن کی فلاحی کوششوں سے ایک مثبت پیغام آگے جائے گا ۔تقریب کے اختتام پر اڑان جوان تقریری مقابلہ کے آرگنائزر راجہ محمد خان عباسی نے شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ جوانوں کی صلاحیتیوں کو نکھارنے کے لئے سرکل کی 8 یونین کونسلز کے سکولز کے طلباء کو موقع دیا ہے۔آئندہ بھی اس طرح کے سلسلہ کو جاری رکھیں گے ۔سرکل کے جوان صلاحیتیوں سے مالا مال ہیں۔صوبہ اور ملک کی سطح پر کسی سے کم نہیں ہے۔انہوں نے مقابلے میں شریک ہونے والے طلباء کو بھی مبارکباد پیش کی ہے۔منتظمین کی جانب سے اہم۔شخصیات کو یادگاری شیلڈز بھی دی گئیں۔

Polio

چارسدہ: 4روزہ پولیو مہم جاری، داخلی و خارجی راستوں پر سخت ناکہ بندیاں

چارسدہ میں چار روزہ انسدادِ پولیو مہم جاری ہے، جس کے دوران پولیو ٹیموں کی حفاظت اور مہم کو مؤثر بنانے کے لیے ضلع کے داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندیاں قائم کر دی گئی ہیں۔ ڈی پی او چارسدہ رفعت اللہ خان، پی ایس پی، پولیو ٹیموں اور سیکیورٹی انتظامات کی نگرانی کر رہے ہیں، جبکہ سرکل ڈی ایس پیز اور ایس ایچ اوز بھی اپنے اپنے علاقوں میں سیکیورٹی ڈیوٹی کی نگرانی اور پولیو مہم کو محفوظ بنانے کے لیے متحرک ہیں۔ پولیو ٹیموں کی حفاظت اور مہم کی کامیابی کے لیے پولیس کی جانب سے سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کے عمل کو بلا تعطل جاری رکھا جا سکے۔

Anti-polio campaign begins in 27 specific districts of Khyber Pakhtunkhwa today

خیبر پختونخوا کے 27 مخصوص اضلاع میں انسداد پولیو مہم آج سے شروع

پشاور: خیبر پختونخوا کے 27 مخصوص اضلاع میں انسداد پولیو مہم آج سے شروع ہو گی۔ صوبے میں انسداد پولیو مہم کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔ مہم کے دوران پانچ سال تک کی عمر کے 48 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔ انسداد پولیو مہم کیلئے 20 ہزار 772 ٹیمیں تشکیل دے دی گئیں۔ مہم کیلئے 18 ہزار 630 موبائل، ایک ہزار 225 فکسڈ اور 917 ٹرانزٹ ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔ پولیو ٹیموں کی نگرانی کیلئے 4 ہزار 734 ایریا انچارجز تعینات کیے گئے ہیں۔ انسداد پولیو مہم کے دوران 30 ہزار سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔ پشاور اور خیبر میں انسداد پولیو مہم سات روز جبکہ دیگر اضلاع میں چار روز جاری رہے گی۔ پشاور، کوہاٹ، بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن سمیت 27 اضلاع میں پولیو مہم بیک وقت شروع ہوگی۔

Aqeel Yousafzai

اسٹیٹ ریڈ لائنز

عقیل یو سفزئی

ماہرین کی اکثریت کی رائے ہے کہ پاکستان اپنی جغرافیائی اہمیّت اور درپیش اندرونی ، بیرونی چیلنجز کے باعث ہارڈ اسٹیٹ کے ایک تجربے سے گزرنے لگا ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ جہاں ایک طرف افغانستان اور بعض دیگر پاکستان مخالف ممالک کے ساتھ سخت پالیسیاں اختیار کی گئی ہیں تو دوسری جانب پی ٹی آئی ، جے یو آئی ، ٹی ایل پی اور پی ٹی ایم وغیرہ کے ساتھ ریاستی مفادات کے تناظر میں سختی کے ساتھ نمٹنے کا راستہ اپنایا گیا ہے ۔
پی ٹی آئی کو 13 برسوں تک اس کے باوجود برداشت کیا جاتا رہا کہ خیبرپختونخوا میں اس کی حکومتیں کالعدم ٹی ٹی پی اور افغان رجیم کی حمایت کرتی آرہی تھیں جس کے باعث خیبرپختونخوا کی سیکیورٹی صورتحال ابتر ہوتی گئی تاہم جب پانی سر سے اپر ہونے لگا تو خیبرپختونخوا میں بیک وقت ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ عمل میں لایا گیا اور اس وقت صوبائی حکومت دہشت گردی کے معاملے پر وفاقی حکومت اور ملٹری اسٹبلشمنٹ کے ساتھ ایک پیج پر رہ کر آگے بڑھ رہی ہے اور توقع کی جارہی ہے کہ معاملات میں بتدریج بہتری واقع ہوگی ۔
اسی طرح مولانا فضل الرحمان اور ان کی پارٹی جے یو آئی کے ان پالیسیوں اور بیانات کا بھی سخت نوٹس لیا گیا ہے جو کہ ریاست مخالف پروپیگنڈا اور سرگرمیوں کے زمرے میں آتے ہیں ۔
سیاسی مخالفت اور پالیسیوں سے اختلاف رائے اپنی جگہ مگر جس طریقے سے پی ٹی آئی اور جے یو آئی نے ریاستی اداروں کے خلاف مہم جوئی شروع کی اس تناظر میں شاید ریاست کے لیے مزید خاموش رہنا اور مفاہمت سے کام لینا ممکن نہیں رہا تھا اس لیے سخت گیر پالیسیاں اختیار کی گئیں ۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اگر آج ملک کو بعض سنگین چیلنجز درپیش ہیں تو اس کی ذمہ داری پی ٹی آئی اور جے یو آئی سمیت ان تمام پارٹیوں پر عائد ہوتی ہے جو کہ ماضی میں مختلف حکومتوں کا حصہ رہی ہیں اس لیے ان سب کو ذمہ داری بھی قبول کرنی ہوگی کیونکہ اجتماعی ذمہ داری قبول کرکے ہی مسائل سے نکلا جاسکتا ہے ۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے اور دونوں ممالک میں گزشتہ ایک ہفتے سے تین چار سرحدی علاقوں میں جھڑپیں ہوئیں ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے گزشتہ روز اپنے دورہ پشاور اور اس کے بعد مختلف انٹرویوز میں افغانستان کو دہشت گردی کا مرکز قرار دیتے ہوئے کہا کہ افغان رجیم نے افغان سرزمین کو دہشت گرد گروپوں کے ٹھکانوں میں تبدیل کردیا ہے اور یہ کہ افغان حکومت کے علاؤہ بھارت بھی دہشت گردوں کی سرپرستی کرتا آرہا ہے ۔ ان کے بقول پاکستان کے لیے یہ نیکسس قابل برداشت نہیں ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ پاکستان ان ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا اپنا حق دفاع استعمال کرتا رہا ہے اور اس وقت تک یہ حق استعمال کرتا رہے گا جب تک افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف کارروائیوں میں ملوث گروپوں کا خاتمہ نہیں کیا جاتا اور افغان رجیم ایسے دہشت گردوں کی سرپرستی سے باز نہیں آتی ۔
تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ دہشت گردی اور سیاسی شرپسندی پاکستان کو درپیش وہ چیلنجز ہیں جن کے خاتمے کے لیے نہ صرف یہ کہ سخت ترین اقدامات کی ضرورت ہے بلکہ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے وسیع البنیاد پالیسیاں اپنانے کی بھی اشد ضرورت ہے ۔