عقیل یوسفزئی
چین کے شہر ارومچی میں پاکستان اور افغانستان کے تیسرے درجے کے مذاکرات کاروں کے درمیان ایک مذاکراتی عمل جاری ہے مگر دو تین دن گزرنے کے باوجود فریقین کی جانب سے کسی قسم کی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں تاہم بعض معتبر تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مذاکرات غیر اعلانیہ طور پر حسب توقع ناکامی سے دوچار ہی ہوگئے ہیں اور پاکستان نے اس میں محض چینی حکام خواہش کو سامنے رکھ کر شرکت کی ہے ۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان ” آپریشن غضب للحق” کے فیصلے کے تناظر میں اپنے اس موقف پر ڈٹ کر کھڑا ہے کہ جب تک افغانستان کی عبوری حکومت اپنی سرزمین دہشت گرد گروپوں کی سرپرستی کے لیے استعمال کرتا رہے گا تب تک مذاکرات وغیرہ کا کوئی امکان اور فایدہ نہیں ہے ۔ دوسری جانب افغان عبوری حکومت کی اس پیشکش کا بھی پاکستان نے کوئی سنجیدہ نوٹس نہیں لیا ہے جس میں وزیر خارجہ امیر خان متقی اور سہیل شاہین کے ذریعے پاکستان کو بعض تحریری یقین دھانی کی بات کی گئی تھی کیونکہ پاکستان سمجھتا ہے کہ ان لوگوں کی باتوں پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا ۔ اس لئے کہا جاسکتا ہے کہ یہ کوشش محض ایک ” اٹھک بیٹھک” سے بڑھ کر اور کچھ نہیں ہے ۔
گزشتہ روز پاکستان کی سیکورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان کے راستے افغانستان سے دہشت گردوں کے ایک گروپ کی دراندازی کو ناکام بناتے ہوئے 8 خوارج کو ہلاک کردیا ۔ بعد میں پتہ چلا کہ ان میں سے دو تین افغان دہشت گرد تھے جس سے ثابت یہ ہوتا ہے کہ دہشت گرد گروپوں کی سرپرستی کی افغان پالیسی تاحال جاری ہے ۔
بنوں کے علاقے ڈومیل میں ایک پولیس اسٹیشن کو نشانہ بنانے کے دوران ایک خودکش حملے میں 5 سویلین کے شہید ہونے پر عوامی حلقوں میں سخت اشتعال پایا جاتا ہے تاہم حیرت کی بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت ان تمام معاملات سے لاتعلق دکھائی دیتی ہے اور غالباً اسی تناظر میں اے این پی کے رہنما سردار حسین بابک کو ایک انٹرویو میں کہنا پڑا کہ پی ٹی آئی کالعدم ٹی ٹی پی کی پولیٹیکل ونگ ہے ۔ ان کے بقول افغانستان کی سرزمین کو دہشت گردوں کا گڑھ نہیں بننا چاہیے ۔
دوسری جانب خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ نے ایک بیان میں حقائق کو توڑ موڑ کر کہا پھر سے کہا ہے کہ وفاقی حکومت انسداد دہشت گردی اور قبائلی علاقوں کی تعمیر نو کی مد میں صوبائی حکومت کی کوئی مدد نہیں کررہی حالانکہ یہ ڈیٹا ریکارڈ کا حصہ ہے کہ وفاقی حکومتوں نے پی ٹی آئی کی تین صوبائی حکومتوں کو 600 ارب روپے سے زائد فنڈز دیئے ہیں مگر وزیر اعلیٰ اس تمام پراسیس کو مسترد کرتے ہوئے مسلسل غلط بیانی سے کام لینے کی پالیسی پر گامزن ہیں ۔
طورخم بارڈر کے ذریعے افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل کسی رکاوٹ یا تلخی کے بغیر پرامن طریقے سے جاری ہے اور میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ دو تین دنوں کے دوران 400 سے زائد خاندان افغانستان جاچکے ہیں ۔
( 3 اپریل 2026 )


