بلدیاتی ایکٹ 2013 کو اصل صورت میں بحال کیا جائے، سابق ناظمین کا صوبائی حکومت سے مطالبہ
پشاور: ال ناظمین نیبر ہڈ کونسل اور ویلج کونسل آرگنائزنگ کمیٹی ضلع پشاور نے صوبائی حکومت سے بلدیاتی ایکٹ 2013 کو اس کی اصل صورت میں بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ تبدیلیوں کے باعث بلدیاتی نظام مؤثر انداز میں کام نہیں کر پا رہا۔
پشاور پریس کلب میں پیر کے روز منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آرگنائزنگ کمیٹی کے سرپرست اعلیٰ امان اللہ خان نے سابق ناظم قیصر خان فاروقی اور دیگر سابق بلدیاتی نمائندوں کے ہمراہ کہا کہ 2015 سے 2019 تک کا دور بلدیاتی نظام کے حوالے سے سنہری اور ترقیاتی دور تھا، تاہم بعد ازاں اس نظام میں تبدیلیوں کے باعث نچلی سطح تک ترقیاتی عمل متاثر ہوا۔
امان اللہ خان کا کہنا تھا کہ 2019 کے بلدیاتی انتخابات میں شکست کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے بلدیاتی ایکٹ میں ترامیم کر کے منتخب نمائندوں کے اختیارات محدود کر دیے، جس کے نتیجے میں ترقیاتی فنڈز کی فراہمی رک گئی اور بلدیاتی نظام عملی طور پر مفلوج ہو کر رہ گیا۔
سابق ناظم قیصر خان فاروقی نے کہا کہ دو درجاتی نظام متعارف کرانے کے بعد ضلع کی سطح کو ختم کر کے تحصیل کی سطح پر نظام منتقل کر دیا گیا، جس سے بلدیاتی ڈھانچے کی افادیت متاثر ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کے باعث مقامی حکومتوں کا نظام اپنی اصل روح کے مطابق کام نہیں کر سکا۔
پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ گزشتہ چار برسوں کے دوران بندوبستی اور قبائلی اضلاع کے لیے مجموعی طور پر 156 ارب 40 کروڑ روپے مختص کیے گئے، تاہم ان میں سے صرف 3 ارب 60 کروڑ روپے جاری کیے گئے۔ ان کے مطابق مالی سال 2023-24، 2024-25 اور 2025-26 میں مختص ترقیاتی فنڈز کا بڑا حصہ بھی جاری نہیں کیا گیا جس کے باعث بلدیاتی نمائندے چھوٹے ترقیاتی منصوبے مکمل کرنے سے بھی محروم رہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ دو برسوں سے بلدیاتی نمائندوں کو اعزازیہ بھی جاری نہیں کیا گیا، جو منتخب نمائندوں کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے۔
ال ناظمین آرگنائزنگ کمیٹی کے رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ صوبائی حکومت فوری طور پر بلدیاتی ایکٹ 2013 کو اس کی اصل صورت میں بحال کرے اور بلدیاتی اداروں کو ان کے اختیارات اور فنڈز فراہم کیے جائیں، بصورت دیگر وہ احتجاج کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے۔


