Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Friday, August 7, 2026

خیبرپختونخواراؤنڈاَپ

وصال محمدخان
صوبے میں دہشتگردی کی کارروائیاں دوام پذیر،ضم قبائلی اورجنوبی اضلاع کے بعدشمالی علاقے نشانہ
گزشتہ ہفتے خیبرپختونخواکے سیاسی منظرنامے پر حکمران جماعت اوروزیراعلیٰ سہیل آفریدی چھائے رہے جبکہ دوسری جانب دہشتگردی کے واقعات میں بھی روزافزوں اضافہ ہورہاہے۔ دہشتگردوں نے ضم قبائلی اورجنوبی اضلاع کے بعدشمالی اضلاع کارخ کیاہے۔گزشتہ ہفتے سوات کے تحصیل کبل پولیس سٹیشن کے مرکزی دروازے پر خودکش حملے میں پولیس اہلکاروں سمیت 17افردشہید جبکہ 20سے زائدزخمی ہوئے۔اسی دن صوبائی دارالحکومت میں پیرزکوڑی پل کے قریب تھانہ گل بہارکے پولیس موبائل کوآئی ای ڈی سے نشانہ بنایاگیاجس سے دواہلکارزخمی ہوئے جبکہ گاڑی تباہ ہوگئی۔اسی روزمردان کی تحصیل تخت بھائی میں چھٹی پرآیاہواہری پورجیل کااہلکارنامعلوم افرادکی فائرنگ سے جاں بحق ہو گیا، شمالی وزیرستان میں ڈپٹی کمشنراورڈی پی اوکے قافلے پرفائرنگ کی گئی،خوش قسمتی سے دونوں اعلیٰ افسران محفوظ رہے۔ ڈپٹی کمشنرتیمورخان آفریدی اورڈسٹرکٹ پولیس آفیسرسجادحسین نے تحصیل بویہ میں پولیس سٹیشن کیلئے مجوزہ مقام کادورہ کیا۔اسکے بعدوہ سرکار ی کرومائڈفیکٹری جارہے تھے کہ راستے میں تاک لگائے شرپسندوں نے فائرنگ کردی۔پولیس کی فوری جوابی کارروائی پرمسلح افراد فرارہو گئے خوش قسمتی سے واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ہنگوکے خزینہ بانڈہ چیک پوسٹ پربڑے حملے کے ردعمل میں ڈی پی اوکی زیر قیادت جنگلات اورملحقہ علاقوں میں سرچ آپریشن کے دوران اہم کمانڈرسمیت 2دہشتگردہلاک کردئے گئے۔مندرجہ بالاواقعات ایک ہی دن کے ہیں اسکے علاوہ پشاورمیں 4 اگست یوم شہدائے پولیس کے موقع پر پولیس اہلکارمہران کونامعلوم مسلح افرادنے نشانہ بنایا۔ مقتول سی پیک پروجیکٹ میں سیکیورٹی ڈیوٹی پرمامورتھے۔یہ واقعات تسلسل سے جاری ہیں مگرگزشتہ کچھ عرصے سے ان میں ہوشربااضاافہ ہواہے۔ پولیس اہلکارخصوصی طورپردہشتگردوں کانشانہ بن رہے ہیں۔چیک پوسٹوں پرحملے ہوتے ہیں،تھانوں اورچوکیوں کونشانہ بنایاجاتا ہے اور چھٹی پرآئے اہلکاربھی نشانہ بنتے ہیں مگرصوبائی حکومت اوروزراکے خیال میں ”دہشتگردی وفاقی حکومت کامسئلہ ہے اوریہ کارروائیاں وفاق اور سٹیبلشمنٹ کی ناقص پالیسیوں کے نتیجے میں ہورہی ہیں“۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے سوات کبل دھماکے کے بعدوہاں کادورہ کیا جہاں اپنے خطاب میں ان کاکہناتھا کہ”عمران خان دورمیں صوبہ امن کاگہواراتھا مگرہماری شدیدمخالفت کے باوجوددہشتگردوں کویہاں لا کر آباد کیاگیا“۔ سہیل آفریدی جس سنہرے دورکاذکرکرہے ہیں اس میں بھی خونریزی کایہ ناروا سلسلہ جاری رہااورانکے بانی دہشتگردو ں کولا کر آباد کرنے کی وکالت کرتے تھے۔ وزیراعلیٰ جوش خطابت میں اظہرمن الشمس حقائق مسخ کررہے ہیں۔صوبے کی تمام سیاسی قوتیں دہشتگردوں کوواپس لانے کی شدیدمخالفت کرتی رہیں مگرعمران خان اورپی ٹی آئی اس پالیسی کی افادیت پرلمبی لمبی تقریریں جھاڑ تے تھے۔ وزیراعلیٰ سہیل اافریدی کواپنے فرائض منصبی پرتوجہ دیکر طرزحکمرانی میں بہتری لانے کی ضرورت ہے تاکہ صوبے کی محرومیوں کاازالہ ہو۔ گزشتہ ہفتے خیبرپختونخواکے حوالے سے تین معاملات قابل ذکر رہے حکمران جماعت نے صوبے میں بانی کی رہائی کیلئے سٹریٹ موومنٹ شروع کررکھی ہے جس کے تحت علیمہ خان گزشتہ دوہفتوں سے مختلف اضلاع کے دور ے کر رہی ہیں جہاں وہ کارکنوں کومتحرک کرنے کا فریضہ انجام دے رہی ہیں مگرانہوں نے حیرت انگیزطورپروزیراعلیٰ کی جانب سے سیمی فائنل قراردئے جانیوالے جلسے میں شرکت نہیں کی جبکہ سہیل آفریدی نے 27ستمبر کو اسلام آبادکی جانب مارچ کااعلان کردیاہے۔ پشاورجلسہ سے خطاب میں ان کاکہناتھاکہ ہمارے مطالبا ت واضح اورقانونی ہیں،بانی سے ملاقاتوں پرپابندی ہٹائی جائے اورعدالتیں انکے مقدمات نمٹائیں ورنہ ہم 27ستمبرکواسلام آباد جائینگے“ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے شہدائے پولیس کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب میں کہاکہ ”شہداکی عظیم قربانیوں کی بدولت ہم آج محفوظ فضامیں سانس لے رہے ہیں ہم نے گزشتہ مالی سال سی ٹی ڈی اورسپیشل برانچ کی استعدادکاربڑھانے کیلئے 35ارب روپے فراہم کئے جبکہ رواں برس پولیس کا بجٹ بڑھاکر180ارب روپے کردیاہے“ انہوں نے شہدا کے ورثاکو50ہزارروپے اعزازیہ دینے کابھی اعلان کیا۔

وکلاتحریک کابھی خیبرپختونخواسے آغاز،وکلاراہنماعلی احمدکرد

وکلاتحریک کے راہنماعلی احمدکرد نے بھی خیبرپختونخواسے عدلیہ کی تحریک آزادی کااعلان کردیاہے جبکہ کالعدم ٹی ٹی پی کے نورولی محسود کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو میں وہ اورکزئی ایجنسی میں دکھائی دے رہے ہیں اور خیبرپختونخواکوہدف قراردینے کامکروہ عزم ظاہر کررہے ہیں۔ویڈیوحقیقی ہونے پرشکوک وشبہات کے سائے موجودہیں مگر یہ معاملہ قابل توجہ ہے۔صوبے کی اہمیت کااندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہ دہشتگردوں کاہدف ہے،پی ٹی آئی اوروکلابھی اپنی تحریکوں کاآغازیہیں سے کررہے ہیں جس کاواضح مطلب یہی ہے کہ آئندہ ایام میں صوبہ افراتفری کاشکارہوگا۔ایک جانب حکمران جماعت کی تحریک اسکی تیاریا ں اورتیاریوں کیلئے مزیدجلسے جلوس اورریلیاں ہونگیں دوسری جانب وکلاکی تحریک ہوگی جس کے تحت یقیناًوکلاعدالتی کارروائی کابائیکاٹ، ہڑتال کریں گے یاسڑکوں اورشاہراہوں کوبند کرکے اپنی طاقت کامظاہرہ کرینگے جبکہ تیسری جانب دہشتگردوں کی کارروائیوں میں بھی مزید اضافہ متوقع ہے۔قابل غورامریہ ہے کہ سکیورٹی فورسز دہشتگردوں کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہیں مگر انہیں صوبائی حکومت کابھرپور تعاون اورپشت بانی موجودنہیں۔ صوبائی حکومت دہشتگردی کے واقعات کووفاق کے کھاتے میں ڈال کرمطمئن ہوجاتی ہے جبکہ وفاق اسے صوبائی معاملہ قرار دیکر دامن جھاڑ دیتی ہے۔ دہشتگردبھی شائداسی نفاق کافائدہ ٹھاکرخونریزی میں شدت لارہے ہیں۔یہ سنگین معاملہ وفاقی اورصوبائی حکومتوں کی سنجیدہ توجہ کامتقاضی ہے۔قومی سلامتی سے متعلق اس اہم معاملے پرسیاست بازی کی بجائے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔
پشاورہائیکورٹ کااہم فیصلہ،ڈسکوزملازمین کومفت یونٹس کی فراہمی کاحکومتی فیصلہ برقرار
پشاورہائیکورٹ نے پیسکو،ٹیسکوسمیت بجلی ڈسٹری بیوشن کمینیوں (ڈسکوز)کے ملازمین کومفت بجلی یونٹس ختم کرنے کاحکومتی فیصلہ برقرا ر رکھتے ہوئے اسکے خلاف دائرتمام رٹ پٹیشنزخارج کردیں۔دوججوں پرمشتمل ڈویژن بنچ نے 45صفحات پرمشتمل فیصلہ جاری کیا۔ فیصلے میں کہا گیاہے کہ اگرچہ واپڈاسروس رولزقانونی حیثیت کے حامل تھے تاہم ڈسکوزمیں انکے اطلاق سے یہ انتظامی نوعیت اختیارکرگئے،اس لئے حکومت اسے تبدیل یاختم کرنیکی مجازہے،عدالت نے ملازمین کے ”جائزتوقع“والے مؤقف کومستردکرتے ہوئے کہاکہ پاورسیکٹر اصلاحا ت حکومتی پالیسی کاحصہ ہیں اورایسے معاملات میں عدالتی مداخلت مناسب نہیں۔”الیکشن ایکٹ 2017ء سیکشن 230کے تحت نگران حکومت کویہ فیصلہ کرنے کااختیارنہیں“اس مؤقف کوتین وجوہات کی بناپر مستردکرتے ہوئے عدالت نے قراردیاکہ نگران حکومت نے کوئی نئی پالیسی نہیں بنائی بلکہ یہ پچھلی منتخب حکومت کی پالیسی کاتسلسل تھا،نگران حکومت تنخواہوں،پنشنزاورمالیاتی امور کے حوالے سے فیصلے کرنیکی مجازہے،بعدمیں آنیوالی منتخب حکومت نے بھی اس فیصلے کوتبدیل نہیں کیاجس سے ثابت ہواکہ اس فیصلے کومنتخب جمہوری حکومت کی توثیق حاصل ہوچکی ہے،پایسی سازی اورحکومتی اصلاحات کادائرہ کارایگزیکٹیوکاکام ہے اس میں عدالتی مداخلت طاقت کی تقسیم کے اصول کی منافی ہے۔حالیہ فیصلے کے بعددسمبر2023ء سے جاری حکم امتناع کاخاتمہ ہواجس سے ڈسکوزملازمین کی مفت بجلی یونٹس کاخاتمہ نافذالعمل ہوگیا۔معاشی ماہرین کے مطابق فیصلے سے قومی خزانے کواربوں روپے سالانہ کی بچت متوقع ہے۔

وائس آف کے پی اور اسکی پالیسی کا لکھاری کی رائے سے متفق ہوناضروری نہیں ہے۔

خیبرپختونخواراؤنڈاَپ

Shopping Basket