اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب میں عوامی ریلیف کے لیے بڑے پیکج کا اعلان کرتے ہوئے پٹرولیم لیوی میں فی الفور 80 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیراعظم کے مطابق آج رات 12 بجے کے بعد پٹرول کی قیمت 458 روپے فی لیٹر سے کم ہو کر 378 روپے فی لیٹر ہو جائے گی اور اس کمی کا اطلاق ایک ماہ کے لیے پورے ملک میں ہوگا۔
وزیراعظم نے کہا کہ موٹر سائیکل سواروں کو ایک لیٹر پٹرول پر 100 روپے کی سبسڈی دی جائے گی، جبکہ گڈز ٹرانسپورٹ، پبلک ٹرانسپورٹ اور مال بردار گاڑیوں کو بھی ایک ماہ کے لیے فی لیٹر 100 روپے کے حساب سے سبسڈی فراہم کی جائے گی۔ اسی طرح چھوٹے ٹرکوں کو ماہانہ 70 ہزار روپے، بڑے ٹرکوں کو 80 ہزار روپے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ بسوں کو ایک لاکھ روپے ماہانہ سبسڈی دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے اور کرایوں کا بوجھ عوام پر پڑنے سے روکنا ہے۔ وزیراعظم نے چھوٹے کسانوں کے لیے بھی امدادی اقدام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ انہیں فی ایکڑ 1500 روپے فراہم کیے جائیں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے مزید کہا کہ پاکستان ریلویز کی اکانومی کلاس کے مسافروں کے لیے کرایوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا اور اس حوالے سے وزارت ریلوے کو واضح ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وفاقی کابینہ کے ارکان اپنی چھ ماہ کی تنخواہیں سرکاری خزانے میں جمع کرائیں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ خلیج میں جاری جنگ کے باعث پورے خطے میں تیل کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے جس کے اثرات پاکستان پر بھی پڑ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے نے دنیا کی بڑی معیشتوں کو بھی متاثر کیا ہے اور پاکستان بھی اس صورتحال سے متاثر ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین ہفتوں کے دوران حکومت نے قومی وسائل سے 129 ارب روپے خرچ کر کے عوام کو تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات سے بچانے کی کوشش کی ہے۔ وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ جنگ جلد ختم ہو گی اور خطے میں امن قائم ہو گا۔
وزیراعظم نے بتایا کہ اس پیکج کے اعلان سے قبل وسیع مشاورت کی گئی، جس میں صدر پاکستان کی دعوت پر ایوان صدر میں قومی قیادت کا اجلاس بھی شامل تھا۔ اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، آزاد کشمیر کے وزیراعظم، گلگت بلتستان کے نگران وزیراعلیٰ، وفاقی وزراء اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔
انہوں نے چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ — مریم نواز شریف، مراد علی شاہ، سہیل آفریدی اور میر سرفراز بگٹی — کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے قومی مقصد کے لیے اپنے وسائل فراہم کرنے کی بھرپور یقین دہانی کرائی۔ وزیراعظم کے مطابق اس ریلیف پیکج کا اطلاق گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی ہوگا اور اس کے لیے وسائل وفاقی حکومت فراہم کرے گی۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھے گی جب تک عوام دوبارہ سکون کے ساتھ اپنی زندگی کے معمولات پر واپس نہیں آ جاتے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت عوام کی مشکلات کم کرنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھاتی رہے گی۔


