پاکستان فل کنٹیکٹ کراٹے فیڈریشن کو ورلڈ فل کنٹیکٹ کراٹے آرگنائزیشن (WFKO) جاپان کی جانب سے باضابطہ الحاق (Affiliation) مل گیا ہے، جسے ملکی سطح پر کراٹے کے فروغ کے لیے ایک اہم اور تاریخی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
ورلڈ فل کنٹیکٹ کراٹے آرگنائزیشن دنیا کی ایک مضبوط اور متحدہ تنظیم سمجھی جاتی ہے، جس سے متعدد ممالک وابستہ ہیں۔ ذرائع کے مطابق چند سال قبل انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کی ہدایات پر اس تنظیم نے دنیا بھر کی فل کنٹیکٹ کراٹے تنظیموں کو اپنے ساتھ الحاق کی دعوت دی تھی۔
اسی تناظر میں پاکستان فل کنٹیکٹ کراٹے فیڈریشن (شن کیوکوشن کائی) کے صدر شیہان محمد ارشد جان، جو ایشیا میں (WKO) کے بورڈ ممبر بھی ہیں، نے الحاق کے لیے باضابطہ درخواست جمع کروائی۔ افیلیشن کمیٹی نے درخواست کا جائزہ لینے کے بعد اسے منظور کرتے ہوئے الحاق کا لیٹر جاری کر دیا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری و برانچ چیف (WKO) جاپان (سینسی) صاحبزادہ الہادی نے برانچ چیفس فرہاد شینواری، محمد عدیل، اشتیاق مغل اور قمبر عباس کے ہمراہ کہا کہ یہ کامیابی نہ صرف فیڈریشن بلکہ پاکستان میں موجود تمام کیوکوشن تنظیموں کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے۔ انہوں نے اس کامیابی کا کریڈٹ شیہان محمد ارشد جان کی قیادت اور کاوشوں کو دیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ملک بھر کی دیگر کیوکوشن تنظیموں کو بھی اس پلیٹ فارم سے منسلک کرنے اور کھلاڑیوں کو بین الاقوامی مواقع فراہم کرنے کے لیے فیڈریشن کا اہم اجلاس مئی میں ہیڈکوارٹر لاہور میں منعقد کیا جائے گا، جس میں مستقبل کی حکمت عملی اور اہم فیصلوں کی منظوری دی جائے گی۔
ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت پاکستان میں فل کنٹیکٹ کراٹے کے فروغ، عالمی سطح پر نمائندگی اور کھلاڑیوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
وادی کالاش رومبور میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس مشکلات
وادی کالاش کے علاقے رومبور میں ٹیلی نار سروس کی بندش اور فور جی انٹرنیٹ کی خراب صورتحال کے باعث معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہو گئے ہیں، جس سے مقامی آبادی اور سیاحوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ مقامی صحافی فتح اللہ کے مطابق ماضی میں علاقے میں انٹرنیٹ سروس تیز اور وسیع پیمانے پر دستیاب تھی، تاہم اب بیشتر مقامات پر فور جی سروس یا تو مکمل طور پر بند ہے یا انتہائی سست روی کا شکار ہے، جس سے رابطوں کا نظام متاثر ہو چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کالاش گرام میں قائم ٹیلی نار ٹاور پر بجلی کا کوئی مستقل بندوبست موجود نہیں، جبکہ نصب سولر سسٹم بھی ناکارہ ہو چکا ہے۔ مزید برآں فیول کی فراہمی میں تعطل کے باعث مواصلاتی نظام تقریباً مفلوج ہو گیا ہے۔
فتح اللہ کے مطابق فیول سپلائی سے متعلق انتظامی مسائل بھی درپیش ہیں، جبکہ متعلقہ عملہ کم تنخواہوں کے باعث مکمل وقت ڈیوٹی انجام دینے سے قاصر ہے، جس سے ترسیل میں تاخیر اور سروس کی بندش کے مسائل بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کے باعث کاروباری سرگرمیاں متاثر، آن لائن تعلیم معطل اور صحت کے شعبے میں ایمرجنسی سہولیات تک رسائی مشکل ہو گئی ہے۔ ٹیلی فون اور انٹرنیٹ کی عدم دستیابی کے باعث ہنگامی حالات میں مدد کا حصول بھی دشوار ہو چکا ہے۔ مقامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر سولر سسٹم کی بحالی، فیول سپلائی میں بہتری، عملے کی مؤثر تعیناتی اور فور جی انٹرنیٹ کی مکمل بحالی کو یقینی بنایا جائے تاکہ علاقے میں معمولاتِ زندگی بحال ہو سکیں۔
قاقلشٹ کرکٹ ٹورنامنٹ: بونی ٹیم کا شاندار کھیل
اپر چترال کے خوبصورت مقام قاقلشٹ میں منعقدہ سیزن ٹو کرکٹ ٹورنامنٹ میں بونی کی ٹیم نے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے موڑکھو کرکٹ کلب کو تین میچوں کی سیریز میں وائٹ واش کر دیا۔ ٹورنامنٹ کے تینوں میچز میں بونی ٹیم نے متوازن اور منظم کھیل پیش کیا، جس کے باعث حریف ٹیم کو کسی بھی مرحلے پر برتری حاصل کرنے کا موقع نہ مل سکا۔ بیٹنگ اور باؤلنگ دونوں شعبوں میں بونی کے کھلاڑیوں کی نمایاں کارکردگی نے سیریز کو یکطرفہ بنا دیا۔ یہ ٹورنامنٹ رواں سال سیزن ٹو کے طور پر منعقد کیا گیا، جبکہ گزشتہ برس اس کا پہلا ایڈیشن کھیلا گیا تھا۔ قاقلشٹ جیسے قدرتی حسن سے بھرپور مقام پر اس نوعیت کے مقابلے نہ صرف نوجوان کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتیں اجاگر کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں بلکہ علاقے میں کرکٹ کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
خیبرپختونخوا میں تعلیمی اصلاحات بارے اجلاس
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے زیرِ صدارت شعبہ تعلیم میں جاری اصلاحات سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں پیش رفت کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ مجوزہ اصلاحاتی اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کو صوبے میں انٹر ڈسپلنری ریسرچ سینٹر کے قیام کے لیے 50 کروڑ روپے جاری کرنے کی ہدایت کی، جبکہ شرح خواندگی میں تیز رفتار اضافے کے لیے دور افتادہ علاقوں میں کمیونٹی اسکولوں کے قیام کی تجویز سے بھی اتفاق کیا گیا۔ اجلاس میں ڈبل شفٹ اسکول پروگرام میں توسیع، آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی کورسز کے اجرا کی بھی منظوری دی گئی۔ وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ پیش کردہ تجاویز پر مزید تفصیلی اجلاس طلب کر کے آئندہ کے لائحہ عمل کو جلد حتمی شکل دی جائے۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ گزشتہ پانچ سے چھ ماہ کے دوران تعلیم اور صحت کے شعبوں پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی ہے جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحت اور تعلیم ایسے شعبے ہیں جو براہ راست عوام سے منسلک ہیں، اور صوبائی حکومت عمران خان کے وژن کے مطابق انسانی ترقی پر سرمایہ کاری کر رہی ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ شعبہ تعلیم کو ہمہ گیر تبدیلی سے ہمکنار کرنا حکومت کا حتمی ہدف ہے اور کوشش ہے کہ کوئی بھی بچہ تعلیم کے بنیادی حق سے محروم نہ رہے۔ اجلاس میں ای ٹرانسفر پالیسی، یکساں نصاب تعلیم، سیمسٹر سسٹم، مانیٹرنگ، اساتذہ کی تربیت، اسکول بیسڈ اسسمنٹ، ورچوئل اسکولنگ اور اے آئی کورسز پر اطمینان کا اظہار کیا گیا، جبکہ شرح خواندگی میں اضافے اور جدید تعلیمی رجحانات کے فروغ کے لیے مجوزہ فریم ورک پر بھی غور کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ ان تجاویز کو عملی جامہ پہنانے کے لیے فالو اپ اجلاس جلد منعقد کیا جائے اور متعلقہ حکام پر مشتمل ایک رابطہ کمیٹی تشکیل دی جائے۔



