پشاور: خیبر پختونخوا پولیس کے ویلفیئر اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کے لیے سنٹرل پولیس آفس میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے کی۔
اجلاس میں پولیس ویلفیئر سے متعلق جاری اور مجوزہ منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر میڈیکل فنڈ، تعلیمی وظائف (اسکالرشپس) اور دیگر ویلفیئر فنڈز کے دائرہ کار، شفافیت اور بروقت فراہمی کے امور پر غور کیا گیا۔ ساتھ ہی رہائشی اسکیموں، مالی معاونت اور اہلکاروں کو فراہم کی جانے والی سہولیات میں بہتری کے اقدامات بھی زیر بحث آئے۔
اجلاس میں پولیس پبلک اسکولز کے معیارِ تعلیم کو بہتر بنانے، انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن اور نئی سہولیات کی فراہمی کے لیے جامع حکمت عملی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر ایڈیشنل آئی جی پیز، کمانڈنٹ ایف آر پی، سی سی پی او پشاور اور مختلف ریجنز کے ڈی آئی جیز نے شرکت کی اور اپنی تجاویز پیش کیں۔
آئی جی پی ذوالفقار حمید نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کا ہر افسر اور جوان ادارے کا قیمتی اثاثہ ہے اور ان کی فلاح و بہبود اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام ویلفیئر فنڈز کو میرٹ، شفافیت اور تیز رفتار طریقہ کار کے تحت مستحق اہلکاروں تک پہنچایا جائے۔
انہوں نے مزید ہدایت کی کہ میڈیکل فنڈ کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ اہلکاروں کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات میسر آ سکیں، جبکہ اسکالرشپ پروگرام کو وسعت دے کر زیادہ سے زیادہ پولیس اہلکاروں کے بچوں کو اس سے مستفید کیا جائے۔ آئی جی پی نے پولیس پبلک اسکولز کے معیار میں بہتری اور اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت پر بھی زور دیا۔
اجلاس کے اختتام پر افسران کو ہدایت کی گئی کہ ویلفیئر منصوبوں کی باقاعدہ مانیٹرنگ یقینی بنائی جائے اور ان پر عملدرآمد کی رفتار تیز کی جائے تاکہ پولیس فورس کے اہلکاروں کو بروقت زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جا سکیں۔


