پشاور: پی ڈی ایم اے خیبر پختونخوا نے صوبے کے بیشتر اضلاع میں آج سے 5 جون کے دوران وقفے وقفے سے تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارشوں کی پیشگوئی کرتے ہوئے تمام ضلعی انتظامیہ کو الرٹ جاری کر دیا ہے۔
محکمہ موسمیات اور پی ڈی ایم اے کے مطابق اس دوران چترال، دیر، سوات، شانگلہ، کوہستان، بونیر، مالاکنڈ، بٹگرام، مانسہرہ اور ایبٹ آباد میں بارش اور ژالہ باری کا امکان ہے۔
اسی طرح پشاور، مردان، نوشہرہ، چارسدہ، صوابی، کوہاٹ، کرم، اورکزئی، خیبر، باجوڑ، مہمند، بنوں، لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک میں بھی آندھی اور بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق بالائی اضلاع میں لینڈ سلائیڈنگ جبکہ مختلف علاقوں میں ندی نالوں میں طغیانی اور فلیش فلڈنگ کا خطرہ موجود ہے۔ میدانی علاقوں خصوصاً پشاور، مردان اور نوشہرہ میں اربن فلڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
محکمے نے خبردار کیا ہے کہ تیز ہواؤں اور ژالہ باری کے باعث کمزور عمارتوں، بجلی کے کھمبوں اور سولر پینلز کو نقصان پہنچ سکتا ہے، جبکہ کھڑی فصلیں بھی متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔
کسانوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور ضلعی انتظامیہ کو پیشگی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ متعلقہ اداروں کو ریسکیو ٹیموں کی تیاری، شاہراہوں کی بحالی، متبادل راستوں کی فراہمی اور نکاسی آب کے نظام کی صفائی کے لیے بھی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
پی ڈی ایم اے نے سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور شہریوں کو ندی نالوں اور خطرناک مقامات سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔
ترجمان کے مطابق پی ڈی ایم اے کا ایمرجنسی آپریشن سنٹر مکمل طور پر فعال ہے، اور شہری کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع ہیلپ لائن 1700 پر دے سکتے ہیں۔
چترال کرکٹ ٹورنامنٹ: ایس ایس جی موڑکھو نے ٹائٹل اپنے نام کر لیا

خیبرپختونخوا میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے اور اچانک سیلاب کا خدشہ
پشاور: پی ڈی ایم اے خیبرپختونخوا نے گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (گلوف) اور اچانک سیلابی صورتحال کے خدشے کے پیش نظر صوبے کے بالائی اضلاع میں الرٹ جاری کر دیا ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق اپر چترال، لوئر چترال، اپر دیر، لوئر دیر، سوات، اپر کوہستان، لوئر کوہستان اور مانسہرہ کے ڈپٹی کمشنرز کو ممکنہ خطرات کے حوالے سے پیشگی اقدامات کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق صوبے میں جاری شدید گرمی کی لہر آئندہ چند روز تک برقرار رہنے کا امکان ہے، جبکہ 4 جون کی شام اور رات سے بالائی علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ شدید گرمی کے باعث شمالی اضلاع میں گلیشیئرز اور برف تیزی سے پگھل رہی ہے، جس سے بارشوں کے دوران پانی کے بہاؤ میں اضافے اور گلوف و فلیش فلڈز کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔
پی ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ سوات، چترال، کوہستان، دیر اور مانسہرہ کی برفانی وادیوں میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے، لینڈ سلائیڈنگ، مٹی اور پتھروں کے تودے گرنے اور رابطہ سڑکوں کی بندش کا خدشہ موجود ہے۔ ندی نالوں اور دریاؤں میں اچانک طغیانی سے نشیبی علاقوں میں سیلابی صورتحال بھی پیدا ہو سکتی ہے۔
ادارے نے ضلعی انتظامیہ کو حساس مقامات کی مسلسل نگرانی، بروقت وارننگ جاری کرنے، انخلائی مشقیں منعقد کرنے اور محفوظ مقامات پر ضروری سامان کی دستیابی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ ساتھ ہی مقامی آبادی کو پیشگی آگاہ کرنے، کمیونٹی الرٹ سسٹمز فعال رکھنے اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کمیٹیوں سے قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
پی ڈی ایم اے نے عوام، خصوصاً سیاحوں اور مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ گرمی کی لہر اور متوقع بارشوں کے دوران دریا کناروں، برساتی نالوں اور تیز بہاؤ والے مقامات کے قریب جانے سے گریز کریں اور غیر ضروری سفر سے اجتناب برتیں۔
ترجمان کے مطابق ریسکیو 1122، سی اینڈ ڈبلیو، این ایچ اے اور دیگر متعلقہ اداروں کو بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ رہنے اور ضروری مشینری و عملہ پیشگی تعینات رکھنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ پی ڈی ایم اے کا ایمرجنسی آپریشن سنٹر مکمل طور پر فعال ہے، جبکہ عوام کو کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع ہیلپ لائن 1700 پر دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
یوتھ پالیسی 2026 منظور: نوجوانوں کے لیے 7 ارب سرمایہ کاری کا فیصلہ
پشاور: وزیر اعلٰی سہیل آفریدی نے صوبائی یوتھ پالیسی 2026 کی اصولی منظوری دے دی ہے، جبکہ پالیسی کی حتمی منظوری صوبائی کابینہ سے لی جائے گی۔
وزیراعلیٰ کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں نوجوانوں کی فلاح و بہبود، تعلیم، روزگار اور سماجی ترقی سے متعلق مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے نوجوانوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے باقاعدہ قانون سازی کی ہدایت بھی جاری کی۔
اجلاس میں وزیراعلیٰ نے صوبے کے ہر ضلع میں “جوان مرکز” کے قیام کو یقینی بنانے اور ان مراکز کے انتظام و انصرام کے لیے مقامی سطح پر بااختیار گورننگ باڈیز تشکیل دینے کی ہدایت کی۔
محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبے کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، اس لیے ان پر خاطر خواہ سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آئندہ مالی سال کا بجٹ “نوجوانوں کا بجٹ” ہوگا اور نوجوانوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ڈیجیٹل اسکلز کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ یوتھ پالیسی کے تحت آئندہ دو سال کے دوران نوجوانوں کی ترقی اور فلاح کے لیے 7 ارب روپے سے زائد رقم خرچ کی جائے گی۔ پالیسی کے چار بنیادی ستون تعلیم، روزگار، ماحولیات اور نوجوانوں کی سماجی سرگرمیوں میں شمولیت ہیں۔
بریفنگ کے مطابق نوجوانوں خصوصاً لڑکیوں کے لیے سیکنڈری تعلیم کی عالمگیر فراہمی، اعلیٰ تعلیم تک رسائی، اسکالرشپس اور پیشہ ورانہ تربیت کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ دیہی اور ضم شدہ اضلاع میں موبائل آؤٹ ریچ پروگرامز اور جوان مراکز کے قیام کی تجاویز بھی پالیسی کا حصہ ہیں۔
پالیسی میں معذور نوجوانوں کے لیے معاون سہولیات، خواجہ سرا نوجوانوں کے لیے روزگار معاونت اور اقلیتی نوجوانوں کے لیے کوٹہ سسٹم بھی شامل کیا گیا ہے۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ٹیکنیکل تعلیم کے نصاب کو مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے، ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے، سرکاری و نجی شعبوں میں انٹرن شپ پروگرامز متعارف کرانے اور کاروباری معاونت فراہم کرنے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔
پالیسی کے تحت صوبائی اور ضلعی سطح پر یوتھ کونسلز قائم کی جائیں گی، جبکہ کمیونٹی سروس کے فروغ کے لیے نوجوان رضاکار گروپس بھی تشکیل دیے جائیں گے۔ ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن، یوتھ فرینڈلی گورننس اور نوجوانوں کی صحت و فلاح بھی پالیسی کے اہم اجزا قرار دیے گئے ہیں۔
نیشنل جونیئر چیمپئن شپ 7 جون سے پشاور میں شروع ہوگی
پشاور: خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں نیشنل جونیئر چیمپئن شپ 2026 کے انعقاد کی تیاریاں حتمی مراحل میں داخل ہو گئی ہیں۔ چیمپئن شپ کا باضابطہ افتتاح 7 جون کو قیوم اسپورٹس کمپلیکس میں منعقد ہونے والی ایک پروقار تقریب میں کیا جائے گا۔
یہ بات مشیر کھیل و امور نوجوانان خیبر پختونخوا تاج محمد خان ترند نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتائی۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل سپورٹس تاشفین حیدر اور ڈائریکٹر آپریشنز جمشید بلوچ بھی موجود تھے۔
انہوں نے بتایا کہ چیمپئن شپ کا افتتاح وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کریں گے، جبکہ ملک کے چاروں صوبوں اور مختلف سرکاری محکموں سے تعلق رکھنے والے 952 مرد و خواتین کھلاڑی ایونٹ میں حصہ لیں گے۔
ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سپورٹس خیبر پختونخوا کے زیر اہتمام ہونے والی چیمپئن شپ میں سکواش، ٹیبل ٹینس، ایتھلیٹکس، بیڈمنٹن، کراٹے اور والی بال کے مقابلے منعقد کیے جائیں گے۔ تمام کھیلوں میں مرد اور خواتین کے الگ الگ مقابلے ہوں گے، البتہ والی بال میں صرف مردوں کے مقابلے شامل ہیں۔
تاج محمد خان ترند نے نوجوان کھلاڑیوں پر زور دیا کہ وہ اس قومی ایونٹ کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا بہترین موقع سمجھیں اور بھرپور محنت کے ذریعے اپنے صوبے اور ملک کا نام روشن کریں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نوجوانوں کو کھیلوں کے مساوی اور معیاری مواقع فراہم کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ چیمپئن شپ نہ صرف کھیلوں کے فروغ کا ذریعہ بنے گی بلکہ ملک بھر کے نوجوانوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے قومی یکجہتی اور باہمی روابط کو بھی مضبوط کرے گی۔
افتتاحی تقریب 7 جون کو منعقد ہوگی، جبکہ مختلف کھیلوں کے مقابلے 8 سے 10 جون تک جاری رہیں گے۔ سکواش کے مقابلے 3 سے 5 جون کے درمیان منعقد کیے جائیں گے۔




