Quetta mine blast

کوئٹہ کوئلہ کان دھماکہ: شانگلہ کے 34 مزدور جاں بحق، ریسکیو آپریشن جاری

کوئٹہ: بلوچستان کے علاقے سورینج اور اسپین کاریز کی کوئلہ کانوں میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں خیبر پختونخوا کے ضلع شانگلہ سے تعلق رکھنے والے 34 کان کن جاں بحق ہوگئے، جبکہ ریسکیو ٹیمیں مزید مزدوروں کی تلاش کے لیے امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں ضلع شانگلہ کے متعدد علاقوں کے مزدور شامل ہیں، جبکہ الپوری کے ایک ہی گاؤں سے تعلق رکھنے والے 22 افراد بھی اس افسوسناک حادثے کا شکار ہوئے ہیں، جس کے باعث علاقے میں کہرام مچ گیا ہے۔

ریسکیو حکام کے مطابق متعدد لاشیں کان سے نکال لی گئی ہیں، جبکہ باقی مزدوروں کی تلاش کا عمل جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جاں بحق کان کنوں کی میتیں آج شام تک ان کے آبائی علاقوں کو منتقل کیے جانے کا امکان ہے۔

یہ مزدور روزگار کی تلاش میں کوئٹہ کی کوئلہ کانوں میں کام کرنے گئے تھے، تاہم یہ سانحہ ان کے اہل خانہ کے لیے ناقابلِ تلافی صدمے کا باعث بن گیا۔ شانگلہ بھر میں سوگ کی فضا ہے اور مختلف علاقوں میں تعزیت کا سلسلہ جاری ہے۔

اس المناک حادثے کے بعد کوئلہ کانوں میں حفاظتی انتظامات اور مزدوروں کی جانوں کے تحفظ سے متعلق اقدامات پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

مقامی عمائدین اور عوام نے جاں بحق کان کنوں کے لیے اجتماعی دعاؤں کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ پوری قوم غمزدہ خاندانوں کے دکھ میں برابر کی شریک ہے۔ دعا کی گئی کہ اللہ تعالیٰ تمام مرحومین کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا کرے۔

Electricity-635x380

بارش کے باعث پیسکو ریجن کے 84 فیڈرز عارضی طور پر بند

پشاور: گزشتہ رات ہونے والی بارش کے باعث پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) ریجن میں 84 بجلی فیڈرز عارضی طور پر بند ہو گئے، جس سے پشاور، خیبر، مردان، صوابی اور سوات سرکلز کے بعض علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی۔

پیسکو کے ترجمان کے مطابق متاثرہ فیڈرز میں پشاور سرکل کے 41، خیبر کے 22، مردان کے 12، صوابی کے 5 اور سوات سرکل کے 4 فیڈرز شامل ہیں۔

ترجمان نے بتایا کہ بجلی کی بحالی کے لیے مرمتی کام تیزی سے جاری ہیں اور متاثرہ علاقوں میں جلد بجلی کی فراہمی بحال کر دی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ پیسکو چیف کی ہدایت پر جنرل منیجر آپریشنز خود مرمتی سرگرمیوں کی نگرانی کر رہے ہیں تاکہ بجلی کی ترسیل کو جلد از جلد معمول پر لایا جا سکے۔

KP Roundup 31 July

خیبرپختونخواراؤنڈاَپ

وصال محمدخان
صوبائی حکومت کوایک بارپھربانی کی رہائی کیلئے تحریک کادورہ،علیمہ خان بھی صوبے میں سرگرم
خیبرپختونخواکی حکمران جماعت کوایک بارپھربانی پی ٹی آئی کی رہائی کیلئے تحریک چلانے کادورہ پڑچکاہے۔ گزشتہ ہفتے وزیر اعلیٰ ہاؤس میں پارٹی قائدین کاایک اجلاس منعقدہواجس میں فیصلہ کیاگیاکہ 5اگست کوپشاورکے واحد بین الاقوامی کرکٹ سٹیڈیم میں جلسہ منعقدکیاجائیگا۔ گزشتہ ہفتے انہی صفحات پرعرض کیاگیاتھاکہ ”سٹیڈیم میں جلسہ ایک توگراؤنڈکیلئے نقصان دہ ہوگادوسرے 20ہزار افراد والی گنجائش کے سٹیڈیم کوبھرنابھی خاصامشکل ہوگااسلئے قوی امکان ہے کہ سٹیڈیم میں جلسے والے فیصلے سے یوٹرن لیاجائے“۔بالکل ایسا ہی ہواایک اور اجلا س میں یہ جلسہ پشاور موٹروے ٹول پلازا کے مقام پرمنعقدکرنے کااعلان سامنے آیا۔پارٹی اجلاس میں ممبران صوبائی اسمبلی نے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے اقدامات پرتحفظا ت کااظہارکیااور انہیں کڑی تنقیدکانشانہ بناتے ہوئے کہاکہ ممبران کو ان کا جائز مقام نہیں دیاجارہا، مسلسل نظراندازکیاجارہاہے،بندکمروں کے فیصلے مسلط کئے جارہے ہیں اور وزیراعلیٰ اپنے کچن کیبنٹ کے علاوہ کسی کومشورے کے قابل نہیں سمجھتے۔اپوزیشن کی جانب سے عمران خان رہائی کیلئے پشاورمیں جلسے کوتنقیدکانشانہ بناتے ہوئے کہاجارہاہے کہ عمران خان راولپنڈ ی میں قیدہیں جبکہ صوبائی حکومت انکی رہائی کیلئے پشاورمیں جلسہ کررہی ہے۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پشاورجلسے کی کامیابی کیلئے خاصے پرامید ہیں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کاکہناتھا نوجوانوں کیلئے اس لیڈرکی پہچان ضروری ہے جو ملک کو موجودہ بحران سے نکال سکتا ہے روزگار،معاشی استحکام اورترقی کی راہ پرگامزن کرسکتاہے،بانی اڈیالہ جیل میں ہیں مگرعوام کی حقوق کیلئے جدوجہدجاری رکھے ہوئے ہیں،قوم انہیں تنہانہیں چھوڑے گی،پانچ اگست کاجلسہ سیمی فائنل ہے اس میں اگلے لائحہء عمل کا اعلان کیاجائیگا،ملک کامستقبل عوام کے ہاتھ میں ہے،،قوم کواپنے مستقبل کیلئے آج فیصلہ کرناہوگا،میں کارکنو ں،نوجوانوں اورعوام سے جلسے میں بھرپورشرکت کی اپیل کرتاہوں۔انہوں نے ملکی معیشت پراظہارخیال کرتے ہوئے کہاکہ گزشتہ75برسوں میں پاکستان کاقرضہ 43ہزارارب روپے تھاجو موجودہ دور میں بڑھ کر 97ہزارارب روپے ہوچکاہے،جبکہ بیرونی قرضہ 36ہزارارب ہے،ڈالر کی قدرمصنوعی طورپرمستحکم رکھی گئی ہے،اگردوست ممالک قرض واپسی کاتقاضا کریں توڈالر400روپے سے تجاوزکرسکتاہے جس کے نتیجے میں قرضوں کابوجھ مزید بڑھ جائیگا۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اپنے فرائض منصبی پرتوجہ دینے کی بجائے وفاق کے اپوزیشن لیڈرکاکرداراداکررہے ہیں انکے پیش کردہ اعدادوشماراگر اپوزیشن لیڈرقومی اسمبلی کے فلورپرپیش کرتے تویقیناًاسے سراہاجاتا۔خیبرپختونخواکے وزیراعلیٰ کو پشاورمیں صوبے کے قرضوں کی فکرہونی چاہئے کہ یہ 1ہزار ارب روپے تک کیونکرپہنچ رہے ہیں۔انہوں نے عمران خان دورکومعاشی کامیابی اورروزگارکی فراوانی کا دوربھی قراردیامگرعمران دورمیں لئے گئے قرضے بھول گئے۔پاکستان کی معیشت قرضوں اوردوست ممالک کے تعاون سے چل رہی ہے جوپی ٹی آئی دورمیں بھی چل رہی تھی اوراب بھی وہی حال ہے۔

بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان نے گزشتہ ہفتے سے صوبے کے دورے شروع کئے ہیں۔سٹریٹ موومنٹ کے سلسلے میں وہ اب تک تیمرگرہ،ہری پوراورمردان وغیرہ کے دورے کرچکی ہیں۔گزشتہ ہفتے مردان کے دورے میں باب مردان پرمقامی قائدین ایم پی ایزاورپارٹی کارکنوں نے ان کااستقبال کرتے ہوئے پھول نچھاورکئے۔بعدازاں شرکا ریلی کی شکل میں کالج چوک پہنچے جہاں ریلی نے جلسے کی صورت اختیارکرلی۔جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہاکہ ہم بانی کی رہائی کیلئے مزیدانتظارنہیں کر سکتے، کارکن حکمرانوں کوواضح پیغام دیں کہ جیل میں بند شخص اکیلانہیں بلکہ پوری قوم انکے ساتھ ہے،ہماری تحریک کی اگلی منزل ڈی چوک نہیں اڈیالہ جیل ہوگی،مرے بھائی کی ایک آنکھ متاثرہوچکی ہے،انہیں فوری ہسپتال منتقل کیاجائے،ہمارامطالبہ محض ایک قیدی کوانسانی حقوق کی فراہمی ہے۔جلسے سے سینیٹر ذیشان خانزادہ،وزیرمال طارق آریانی،اراکین صوبائی اسمبلی ظاہرشاہ طورو،عبدالسلام اوردیگرنے بھی خطاب کیاجبکہ مردان سے تعلق رکھنے والے ایم این ایزعاطف خان اورعلی محمدخان اس سرگرمی سے غائب رہے۔علیمہ خان نے کم تعداد میں شرکااورارکان اسمبلی کی غیر موجودگی پرناراضگی کااظہاربھی کیا۔

جے یوآئی ف اورپی ٹی آئی کے درمیان تعاون کی راہیں کھل رہی ہیں،مل کرچلنے پراتفاق
مولانافضل الرحمان کی جانب سے فوج اورشہداکے خلاف بیان بازی اوردوہفتے تک سیاسی ماحول پرگرماگرمی چھائی رہی مگراس ہفتے یہ خبر گردش میں ہے کہ پی ٹی آئی اورجے یوآئی کے درمیان تعاون اوراتحادکے حوالے سے معاملات طے ہورہے ہیں۔پہلے مرحلے میں دونو ں جماعتیں قومی اسمبلی میں مل کرچلنے پراتفاق کرچکی ہیں جس کے تحت وفاقی حکومت کوٹف ٹائم دیاجائیگاجبکہ اتحادوتعاون میں توسیع خارج ازامکان نہیں۔ابھی کسی جماعت نے تصدیق یاتردیدنہیں کی مگربعض ذرائع کادعویٰ ہے کہ مولانافضل الرحمان کوقومی اسمبلی میں قائدحزب اختلاف کاعہدہ دیاجاسکتاہے۔جے یوآئی اوراے این پی کے درمیان بھی ضلع پشاورکی سطح پرایک رابطہ ہواہے جس میں دونوں جماعتوں نے حکومت سے بلدیاتی انتخابات منعقدکرنے کامطالبہ کیاہے۔

بلدیاتی انتخابات نئی قانون سازی اورحلقہ بندی کے سبب تاخیرکاشکار،اگلے سال متوقع

ضلعی تنظیموں کے مابین ملاقات میں دونوں جماعتوں کی جانب سے بلدیاتی انتخابات کے عدم انعقادپرتشویش کااظہارکرتے ہوئے کہاگیاہے کہ عوام کے روزمرہ مسائل،ترقیاتی منصوبوں کی سست روی اورنچلی سطح پر اختیارات کی عدم منتقلی کی بنیادی وجہ بلدیاتی اداروں کی غیرفعالیت ہے۔مشترکہ اعلامیہ میں کہاگیاہے کہ عوام کودہلیزپرسہولیات کی فرا ہمی کیلئے بلدیاتی انتخابات کافوری انعقادناگزیرہے۔بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے جونئی قانون سازی ہوئی ہے اس کے مطابق پہلے جو ویلیج اورنائبرہوڈکونسلزکیلئے دس بارہ ہزارکی آبادی رکھی گئی تھی اب یہ آبادی 30سے40ہزارکردی گئی ہے جس کیلئے نئی حلقہ بندیاں ناگزیر ہوچکی ہیں۔الیکشن کمیشن نے نئی حلقہ بندیوں کیلئے جوشیڈول جاری کیاہے اسکے مطابق ویلیج اورنائبرہوڈکونسلزکی ابتدائی فہرست29اگست تک شائع کی جائیگی جن پراعتراضات31اگست سے18ستمبرتک جمع کروائی جاسکیں گی، اعتراضات پرفیصلے5اکتوبرتک کئے جائینگے، جبکہ حلقہ بندیوں کی حتمی فہرست 17اکتوبرکوجاری ہو گی۔اس طرح بلدیاتی انتخابات روں برس کے آخریااگلے سال کے اوائل میں منعقد ہوسکیں گے۔بلدیاتی اداروں کے سابق نمائندوں نے حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ مقامی حکومتوں کادورانیہ ختم ہوئے120دن سے زائد گزرچکے ہیں اسلئے حکومت نئے انتخابات کااعلان کرے تاکہ عوام کے مسائل حل ہوں۔لوکل کونسلزایسوسی ایشن نے حکومت کو مل بیٹھ کر ایک ایسامضبوط،مستحکم اورفعال مقامی حکومتوں کانظام ترتیب دینے کی دعوت دی ہے جس سے عوام کوگھرکی دہلیزپرسماجی ومیونسپل خدمات کی فراہمی سمیت روزمرہ کے مسائل حل ہوسکیں۔

حکومت کی جانب سے فلورملزکو2ہزارٹن یومیہ گندم فراہمی کافیصلہ،20کلوآٹے کی قیمت2520مقرر
خیبرپختونخواحکومت نے فعال فلوملزکویومیہ2ہزارمیٹرک ٹن گندم فراہم کرنے کافیصلہ کیاہے۔محکمہ خوراک اعلامیہ کے مطابق تمام فلورملز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سی سی ٹی وی کیمرے فعال کرکے ایک ماہ کاریکارڈمحفوظ رکھاکریں۔سرکاری آٹے کی فراہمی کے بعدحکومت نے آٹے کی قیمت 2520روپے فی 20کلومقررکی ہے۔حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ سرکاری گندم سے تیارکردہ آٹے کی معیار پر نظر رکھیں اورکسی بھی شکایت کی صورت میں متعلقہ حکام کوآگاہ کیاجائے۔

پشاورکرکٹ سٹیڈیم پی سی بی کوسونپنے کافیصلہ،معاملات طے ہورہے ہیں
صوبائی حکومت نے پشاورکے واحد بین الاقوامی کرکٹ سٹیڈیم (سابقہ ارباب نیازحالیہ عمران خان سٹیڈیم)کوپی سی بی کے حوالے کرنے پر آمادگی ظاہرکردی ہے۔اس سلسلے میں پی سی بی اور حکومت کے درمیان معاملات طے ہورہے ہیں۔

سوات اورہنگومیں دہشتگردوں کیخلاف آپریشن،18دہشتگردہلاک، 11شہری اورپولیس اہلکارشہید
سوات اورہنگومیں دہشتگردوں کیخلاف آپریشن کے دوران ڈی ایس پی دیارخان،پولیس اہلکاروں اورویلیج ڈیفنس کمیٹی کے4 اہلکاروں سمیت 11افرادشہیدجبکہ8زخمی ہوگئے۔آپریشن کے دوران18دہشتگردوں کوہلاک کیاگیا۔

Aqil Editorial

شفیع جان کا امن فارمولا

عقیل یوسفزئی
میڈیا کو مسلسل تنقید کا نشانہ بنانے والے خیبرپختونخوا کے ناتجربہ کار وزیر اطلاعات شفیع جان نے گزشتہ روز صوبے میں جاری دہشتگردی کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی حکومت امن کے قیام کے لیے کسی آپریشن کے حق میں نہیں ہے اور یہ کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے ۔
مذاکرات کا یہ عظیم الشان نسخہ انہوں نے ایک ایسے وقت میں پیش کیا جب اس سے چند گھنٹے قبل ہنگو میں پولیس کے 10 اہلکاروں کو ان کے ڈی ایس پی سمیت شہید کیا گیا تھا اور دو درجن سے زائد زخمی کیے گئے تھے ۔ اور پورے صوبے میں ہنگو سمیت بعض دیگر علاقوں میں ہونے والے حملوں کے باعث سخت تشویش پائی جاتی تھی ۔
شفیع جان کو معلوم ہی ہوگا کہ ان کے بانی کی ہدایت پر چند برس قبل وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے نہ صرف پاکستانی طالبان بلکہ افغان حکومت کے ساتھ بھی کئی مہینوں پر مشتمل مذاکرات کیے تھے اور اس مذاکراتی عمل ہی کے نتیجے میں ہزاروں ان دہشت گردوں کو پاکستان خصوصاً خیبرپختونخوا میں لاکر بسایا گیا جو کہ پاکستانی فوج کے مختلف کارروائیوں کے باعث افغانستان منتقل ہوگئے تھے ۔ یہاں تک کہ سزائے موت کی سزائیں پانے والے متعدد اہم کمانڈرز کو پی ٹی آئی کے صدر کے ذریعے عام معافیوں کا ایک پورا پیکج بھی دیا گیا ۔
ایک رپورٹ کے مطابق رواں برس خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں سینکڑوں دہشت گرد حملے کیے گئے جن میں 29 خود کش حملے بھی شامل ہیں ۔ ان حملوں کے نتیجے میں ایک اندازے کے مطابق صرف خیبرپختونخوا میں 400 سے زائد لوگ شہید ہوئے جن میں سیکورٹی فورسز کے علاؤہ عام معصوم شہری بھی شہید ہوئے مگر پی ٹی آئی نہ صرف صوبے کے سیکیورٹی حالات سے بے خبر اور لاتعلق رہی بلکہ اسی نوعیت کے بیانات کے ذریعے دہشتگردی کی وکالت بھی کرتی رہی اور اس کی صوبائی حکومت بھی اسی پالیسی پر عمل پیرا رہی اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے ۔