Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Sunday, May 3, 2026

عالمی یومِ آزادیٔ صحافت: ڈی آئی خان میں صحافیوں کا جلوس

ڈیرہ اسماعیل خان: ڈیرہ پریس کلب کے زیرِ اہتمام عالمی یومِ آزادیٔ صحافت کے موقع پر ایک احتجاجی جلوس نکالا گیا جس کی قیادت صدر احمد خان کامرانی نے کی۔ جلوس میں پریس کلب کے عہدیداران و اراکین سمیت شہر بھر سے صحافیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر آزادیٔ صحافت اور حقِ اظہارِ رائے کے حق میں نعرے درج تھے۔ مقررین نے اس دن کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ آزاد صحافت کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔

جلوس سے خطاب کرتے ہوئے احمد خان کامرانی نے کہا کہ آزادیٔ صحافت سچ کو منظرِ عام پر لانے کا مؤثر ذریعہ ہے۔ انہوں نے شہدائے صحافت، خصوصاً فلسطینی صحافیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ صحافت ایک مقدس ذمہ داری ہے جسے دیانتداری، جرات اور غیر جانبداری کے ساتھ نبھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے عالمی سطح پر صحافیوں کو درپیش خطرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جنوری 2024 سے دسمبر 2025 کے دوران دنیا بھر میں 129 صحافی فرائض کی انجام دہی کے دوران قتل ہوئے، جن میں سے 63 صحافی غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کا نشانہ بنے۔ انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس اور دیگر اداروں کی رپورٹس کے مطابق یوکرین، سوڈان، انڈیا اور میکسیکو سمیت کئی ممالک میں بھی صحافیوں کو نشانہ بنایا گیا۔

پاکستان کے تناظر میں کونسل آف پاکستان نیوزپیپر ایڈیٹرز (CPNE) اور پاکستان پریس فاؤنڈیشن (PPF) کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اس عرصے میں 5 سے 8 صحافی قتل ہوئے جبکہ ملک بھر میں صحافیوں پر حملوں اور تشدد کے 129 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں 58 کیسز براہِ راست تشدد کے تھے۔

سابق صدر یاسین قریشی نے کہا کہ خیبرپختونخوا خصوصاً ڈیرہ اسماعیل خان کے صحافی شدید مسائل اور چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں، اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔

ایڈیشنل جنرل سیکرٹری ماجد برکی نے کہا کہ آزاد صحافت معاشرے کا آئینہ دار ہے اور اس کی مضبوطی دراصل عوام کی آواز کو تقویت دیتی ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ صحافیوں کے لیے ماہانہ اعزازیہ مقرر کیا جائے تاکہ وہ مالی دباؤ سے آزاد ہو کر اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں بہتر انداز میں ادا کر سکیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جعفر زکوڑی نے کہا کہ موجودہ حالات میں صحافت کو مختلف دباؤ اور رکاوٹوں کا سامنا ہے، تاہم صحافی حقائق کی فراہمی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔

خاتون صحافی صبیحہ شیخ نے کہا کہ خواتین صحافیوں کو پیشہ ورانہ اور سماجی سطح پر کئی چیلنجز درپیش ہیں، تاہم وہ ہر میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں۔ انہوں نے خواتین صحافیوں کے لیے محفوظ اور سازگار ماحول کی فراہمی پر زور دیا۔

تقریب کے اختتام پر شرکاء نے شہدائے صحافت کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی، جبکہ صحافیوں کو درپیش مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال بھی کیا گیا۔

عالمی یومِ آزادیٔ صحافت: ڈی آئی خان میں صحافیوں کا جلوس

Shopping Basket