Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Sunday, May 10, 2026

علماء کو نشانہ بنانے کا سلسلہ اور داعش کی سرپرستی

عقیل یوسفزئی
سی آئی اے کی سابق آفیسر اور متعدد کتابوں کی مصنفہ سارہ ایڈمز نے انکشاف کیا ہے کہ داعش نے پاکستان کی سرحد سے ملحقہ صوبہ ننگرہار میں نہ صرف یہ کہ اپنی قوت بڑھائی ہے بلکہ آس پاس کے علاقوں سے ریکروٹمنٹ کا سلسلہ بھی شروع کردیا ہے ۔ ان کے بقول اس تمام صورتحال پر اس کے باوجود افغان حکومت نے خاموشی اختیار کی ہوئی ہے کہ پاکستان نے دو ماہ قبل ننگرہار کے علاقے اچینی میں داعش کے متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بھی بنایا تھا ۔
دوسری جانب ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سال 2021 کے بعد داعش نے پاکستان میں تقریباً 44 علماء کو شہید کیا ہے اور شیخ ادریس کی شہادت کے بعد متعدد دیگر علماء کو بھی شدید سیکیورٹی خطرات لاحق ہیں ۔
شیخ ادریس کی شہادت پر گزشتہ شام کالعدم ٹی ٹی پی کے سربراہ نورولی محسود نے 8 منٹس پر مشتمل ایک آڈیو پیغام جاری کیا ہے جس میں بہت سا مواد موجود ہے تاہم انہوں نے اس کے باوجود داعش کی مذمّت نہیں کی کہ داعش نے رسمی طور پر شیخ ادریس پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے ۔ یہی رویہ ہمیں افغان طالبان اور ان کی حکومت کی جانب سے بھی دیکھنے کو ملتا آرہا ہے ۔
نورولی محسود اور افغان حکمرانوں نے اپنے رسمی بیانات میں شیخ ادریس کی شہادت کو حسب معمول پولیٹیکل پوائنٹ اسکورنگ کے لیے حقائق ، شواہد کے برعکس پاکستانی اداروں پر ڈالنے کی کوشش کی ہے جبکہ اس بیانیہ کو بعض قوم پرست حلقوں اور پی ٹی آئی کی ” آشیر باد” بھی حاصل ہے ۔ مطلب یہ سب قوتیں اس معاملے پر ایک ” پیج ” پر ہیں ۔
نورولی محسود نے اپنے بیان میں جہاں اشارے کے ذریعے مولانا فضل الرحمان کے اس بیان کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے جس میں انہوں نے ان عناصر کو قاتل ، مرتد اور بھگوڑے جیسے الفاظ سے مخاطب کیا ہے وہاں انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ اور دیگر جو جنگ ( دہشت گردی) لڑرہے ہیں اس کی ابتداء ان کی بجائے پاکستانی ریاست نے کی تھی ۔
سچی بات یہ ہے کہ اگر ایک جانب افغان حکومت اور اس کے اتحادی کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر کو پاکستان کے خلاف استعمال کرتی آرہی ہے تو دوسری جانب انہوں نے داعش کو ان علماء اور مذہبی قوتوں کے خلاف کارروائیوں کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے جو کہ پاکستان پر ہونے والے حملوں کو مذہبی تعلیمات کے تناظر میں خلاف اسلام سمجھتے ہیں ۔ یہ صورتحال کافی خطرناک اور پیچیدہ ہے تاہم سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ اس قسم کے حملوں کا سب سے زیادہ نشانہ بننے والے صوبہ خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت اور پی ٹی آئی نہ صرف یہ کہ دہشت گردوں کی حمایت کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں بلکہ صوبائی حکومت علماء کو تحفظ فراہم کرنے کے اقدامات سے بھی لاتعلق ہے ۔

علماء کو نشانہ بنانے کا سلسلہ اور داعش کی سرپرستی

Shopping Basket