Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Friday, May 8, 2026

معرکہ حق کا پس منظر اور پاکستان میں جاری جشن

عقیل یوسفزئی

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے پاک فضائیہ اور بحریہ کے اعلیٰ حکام کے ساتھ معرکہ حق کا ایک سال مکمل ہونے پر ایک تفصیلی پریس کانفرنس کے دوران پریزنٹیشن دی اور پاکستان کی دفاعی حکمت عملی ، مستقبل کے امکانات ، پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات اور ملک کے اندرونی معاملات پر تفصیلات بتائیں ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنی دفاعی صلاحیت ، جنگی حکمت عملی اور قومی اتحاد کے ذریعے اپنے سے 5 گنا بڑی طاقت بھارت کو سیاسی ، جنگی اور سفارتی شکست سے دوچار کیا اور اگر اس قسم کی جارحیت پھر سے کی گئی تو پہلے سے بھی زیادہ شدت کے ساتھ جواب دیا جائے گا ۔

ڈی جی کے مطابق بھارت نے عبرتناک شکست کے بعد افغانستان کی سرزمین کو پراکسی کے طور پر استعمال کرنے کے لیے اس کے نام نہاد وزیر خارجہ کو دہلی مدعو کیا اور ایک غیر فطری اتحاد کے ذریعے پاکستان دشمنی میں ان دونوں ممالک نے پاکستان میں دہشتگردی تیز کردی جس کے ردعمل میں نہ صرف یہ پاکستان کے اندر فورسز نے مزید کارروائیوں میں اضافہ کیا بلکہ دہشتگردوں کی سرحد پر ٹھکانوں اور ان کے ” سرپرستوں” کے خلاف آپریشن غضب للحق کا آغاز بھی کیا جو کہ جاری ہے اور جس کے نتیجے میں پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں کافی کمی واقع ہوئی ۔ انہوں نے واضح کیا کہ آپریشن غضب للحق نیشنل ایکشن پلان کا حصہ اور تسلسل ہے ۔

دوسری جانب خیبرپختونخوا سمیت پورے ملک میں معرکہ حق کا ایک سال مکمل ہونے پر ریاستی اور سماجی تقریبات کا سلسلہ جاری ہے تاہم حیرت انگیز طور پر اس تاریخی موقع پر ہمیں خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت اور پی ٹی آئی کہیں پر کچھ کرتی نظر نہیں آتیں ۔ صوبائی حکومت کو اگر وفاقی حکومت اور ملٹری اسٹبلشمنٹ سے گلے شکوے ہیں تو وہ اپنی جگہ تاہم ریاست کی ایک مراعات یافتہ پولیٹیکل اسٹیک ہولڈر کے طور پر صوبائی حکومت اپنے طور پر ایک تقریب کا اہتمام اور میزبانی کرسکتی تھی جس کی پی ٹی آئی نے شاید ضرورت محسوس نہیں کی اور اس طرزِ عمل کا نہ صرف نوٹس لیا گیا ہے بلکہ عوامی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے صوبائی حکومت ، پی ٹی آئی کو سخت تنقید کا سامنا بھی ہے ۔

اندرونی خلفشار سے دوچار اور عوامی مقبولیت سے تیزی کے ساتھ محروم ہونے والی پی ٹی آئی نہ صرف ریاست مخالف سرگرمیوں میں مصروف عمل ہے بلکہ اس کی صوبائی حکومت نے عملی طور پر صوبے کی سیکیورٹی صورتحال سے بھی لاتعلقی کی اپنی پالیسی کو برقرار رکھا ہوا ہے ۔

اس تمام تر صورتحال کے تناظر میں بجا طور پر کہا جاسکتا ہے کہ پی ٹی آئی اور اس کی صوبائی حکومت اپنی پالیسیوں اور رویوں کے باعث خود کو مزید دیوار سے لگانے کی راہ پر گامزن ہیں ۔

معرکہ حق کا پس منظر اور پاکستان میں جاری جشن

Shopping Basket