چیف آف ڈیفنس فورسز سید عاصم منیر نے راولپنڈی میں معرکہ حق کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جہاں پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں ، سیکیورٹی صورتحال اور مستقبل کے ممکنہ اقدامات پر ریاست کی اجتماعی پالیسیوں اور ترجیحات پر جامع انداز میں گفتگو کی وہاں انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ امن کے قیام کے لیے خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے عوام کو خراج تحسین اور سلام پیش کرتے ہیں اور یہ کہ ہر پاکستانی کے خون کا بدلہ لیا جائے گا ۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے معرکہ حق کے دوران تاریخی شکست کھانے کے بعد افغانستان کی سرزمین کو پراکسی کے طور پر پاکستان کے خلاف استعمال کرنا شروع کیا تاہم ان تمام سازشوں ، کوششوں کو ناکام بنایا جائے گا اور پاکستان بھرپور صلاحیتوں کا حامل ملک ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا افغانستان سے ایک ہی مطالبہ رہا ہے کہ وہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کا سلسلہ روک دیں اور خوارج کے خلاف عملی اقدامات کریں ۔
اس سے قبل صدر مملکت آصف علی زرداری نے بھی ایک بیان میں کہا ہے کہ افغانستان اس بات کو یقینی بنائیں کہ اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ عین معرکہ حق کی تقریبات کے دوران دہشت گرد گروپوں نے افغان سرپرستی میں خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں کو بڑے پیمانے پر حملوں کا نشانہ بنایا جبکہ گلگت بلتستان میں بھی جھڑپیں ہوئیں ۔ اگر ایک جانب کالعدم ٹی ٹی پی کے سربراہ نورولی محسود نے ایک پیغام میں اپنی کارروائیوں کا دفاع کیا اور عملی طور پر یہ بتانے کی کوشش کی کہ وہ اور افغان طالبان جاری جنگ کے دوران ” ایک پیج” پر ہیں تو دوسری جانب ہنگو ، شمالی وزیرستان ، بنوں اور جنوبی وزیرستان میں حملے کرایے گئے ۔
ہنگو میں 6 آفراد شہید ہوئے تو دوسری طرف بنوں پر سینکڑوں حملہ آوروں نے بیک وقت حملے کیے جن میں فتح خیل پولیس اسٹیشن پر ہونے والا وہ بڑا حملہ بھی شامل ہے جس کے نتیجے میں ایک درجن سے پولیس اہلکاروں کی شہادت اور درجن بھر کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں جن میں سویلین بھی شامل ہیں۔ متعدد عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا تاہم ان تمام واقعات سے حسب معمول صوبائی حکومت اور پی ٹی آئی لاتعلقی کی پالیسی پر عمل پیرا رہیں اور بنوں کے شہداء کی نماز جنازہ میں بھی کوئی حکومتی عہدے دار نظر نہیں آیا ۔
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ بنوں ، وزیرستان اور ہنگو پر سرحد پار سے ہونے والی کارروائیوں کے بعد یہ خدشہ یقینی امکان میں تبدیل ہوگیا ہے کہ پاکستان آئندہ چند گھنٹوں یا ایک دو دنوں میں ایک بار پھر افغانستان کے اندر کارروائی کرے گا کیونکہ ڈی جی آئی ایس پی آر گزشتہ روز اپنی پریس کانفرنس میں واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ آپریشن غضب للحق جاری ہے اور یہ کہ فیلڈ مارشل نے بھی اپنی تقریر میں دہشت گردی ، افغان حکومت اور بھارت سے متعلق دو ٹوک الفاظ میں پاکستانی پالیسی آن دی ریکارڈ واضح کردی ہے ۔


