انسٹی ٹیوٹ آف کڈنی ڈیزیزز پشاور میں گردوں کے امراض کے علاج کی سہولیات میں نمایاں توسیع کرتے ہوئے متعدد جدید طبی خدمات کا آغاز کر دیا گیا ہے، جس سے مریضوں کو علاج کی بہتر اور بروقت سہولتیں میسر آئیں گی۔
ہسپتال انتظامیہ کے مطابق ادارے میں 30 نئی ڈائلیسس مشینیں شامل کی گئی ہیں، جس سے ڈائلیسس کے منتظر مریضوں کو فوری طبی سہولت فراہم کرنے کی استعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔
ادارے میں خیبر پختونخوا کی پہلی جدید بچوں کی لیتھوٹرپسی (گردے کی پتھری توڑنے) کی سروس بھی شروع کر دی گئی ہے، جس کے ذریعے کم عمر مریضوں کو جدید اور مؤثر علاج فراہم کیا جا سکے گا۔
انسٹی ٹیوٹ نے گردوں کی پیوند کاری کے شعبے میں بھی اہم پیش رفت کرتے ہوئے روزانہ ٹرانسپلانٹ سرجریز کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ بعض دنوں میں دو گردوں کی پیوند کاری کے کامیاب آپریشن بھی کیے جا رہے ہیں، جو صوبے کی طبی تاریخ میں ایک نیا سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
ہسپتال انتظامیہ کے مطابق ادارے کی ایمرجنسی سروسز 24 گھنٹے فعال ہیں، جہاں یورالوجی اور نیفرالوجی کی خصوصی طبی سہولیات مسلسل فراہم کی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ جدید مائیکرو بائیولوجی لیبارٹری بھی فعال کر دی گئی ہے۔
انسٹی ٹیوٹ میں 54 ڈاکٹرز سمیت بڑی تعداد میں طبی عملہ خدمات انجام دے رہا ہے، جبکہ یورالوجی اور نیفرالوجی آئی سی یوز کے ساتھ تین نئے آپریشن تھیٹرز بھی قائم کیے گئے ہیں۔
میڈیا سیل حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے مطابق ان اقدامات کے بعد انسٹی ٹیوٹ آف کڈنی ڈیزیزز پشاور خیبر پختونخوا میں گردوں کے امراض کے علاج کا جدید ترین اور جامع طبی مرکز بننے کی جانب تیزی سے گامزن ہے۔


