عقیل یوسفزئی
میڈیا کو مسلسل تنقید کا نشانہ بنانے والے خیبرپختونخوا کے ناتجربہ کار وزیر اطلاعات شفیع جان نے گزشتہ روز صوبے میں جاری دہشتگردی کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی حکومت امن کے قیام کے لیے کسی آپریشن کے حق میں نہیں ہے اور یہ کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے ۔
مذاکرات کا یہ عظیم الشان نسخہ انہوں نے ایک ایسے وقت میں پیش کیا جب اس سے چند گھنٹے قبل ہنگو میں پولیس کے 10 اہلکاروں کو ان کے ڈی ایس پی سمیت شہید کیا گیا تھا اور دو درجن سے زائد زخمی کیے گئے تھے ۔ اور پورے صوبے میں ہنگو سمیت بعض دیگر علاقوں میں ہونے والے حملوں کے باعث سخت تشویش پائی جاتی تھی ۔
شفیع جان کو معلوم ہی ہوگا کہ ان کے بانی کی ہدایت پر چند برس قبل وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے نہ صرف پاکستانی طالبان بلکہ افغان حکومت کے ساتھ بھی کئی مہینوں پر مشتمل مذاکرات کیے تھے اور اس مذاکراتی عمل ہی کے نتیجے میں ہزاروں ان دہشت گردوں کو پاکستان خصوصاً خیبرپختونخوا میں لاکر بسایا گیا جو کہ پاکستانی فوج کے مختلف کارروائیوں کے باعث افغانستان منتقل ہوگئے تھے ۔ یہاں تک کہ سزائے موت کی سزائیں پانے والے متعدد اہم کمانڈرز کو پی ٹی آئی کے صدر کے ذریعے عام معافیوں کا ایک پورا پیکج بھی دیا گیا ۔
ایک رپورٹ کے مطابق رواں برس خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں سینکڑوں دہشت گرد حملے کیے گئے جن میں 29 خود کش حملے بھی شامل ہیں ۔ ان حملوں کے نتیجے میں ایک اندازے کے مطابق صرف خیبرپختونخوا میں 400 سے زائد لوگ شہید ہوئے جن میں سیکورٹی فورسز کے علاؤہ عام معصوم شہری بھی شہید ہوئے مگر پی ٹی آئی نہ صرف صوبے کے سیکیورٹی حالات سے بے خبر اور لاتعلق رہی بلکہ اسی نوعیت کے بیانات کے ذریعے دہشتگردی کی وکالت بھی کرتی رہی اور اس کی صوبائی حکومت بھی اسی پالیسی پر عمل پیرا رہی اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے ۔


