Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Monday, August 10, 2026

پاکستان، سعودی اورترکیہ دفاعی معاہدہ

وصال محمدخان
پاکستان سعودی عرب اورترکیہ کے درمیان مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ خطے اوردنیاکی بدلتی ہوئی صورتحال میں اہم اورتاریخی پیشرفت ہے۔7اگست2026کومکہ مکرمہ میں طے پانیوالے اس معاہدے کی بنیادی روح یہ ہے کہ تینوں ممالک کی سلامتی کوباہمی طورپرمربوط کیا جائے اورکسی ایک ملک پرمسلح حملے کوتینوں کیخلاف حملہ تصورکرتے ہوئے مشترکہ دفاعی تعاون کومضبوط بنایاجائے۔پاکستان کے نقطہ نظر سے یہ معاہدہ اسلئے اہم ہے کہ پاکستان پہلے ہی سعودی عرب اورترکیہ دونوں کیساتھ دیرینہ برادرانہ دفاعی اورسفارتی تعلقات رکھتاہے۔ ترکیہ کیساتھ دفاعی صنعت،فوجی تربیت اورٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون مسلسل بڑھ رہاہے۔ جبکہ سعودی عرب کیساتھ پاکستان کے دفاعی تعلقات کئی دہائیوں پرمحیط ہیں۔اس دفاعی معاہدے کے ذریعے پاکستان کودواہم شراکت داروں کیساتھ اپنے دفاعی تعلقات کوایک وسیع ترفریم ورک میں آگے بڑھانے کاموقع ملے گا۔اس سے مشترکہ فوجی مشقوں،دفاعی ٹیکنالوجی،انٹیلی جنس تعاون،انسداددہشتگردی اور دفا عی صنعت میں اشتراک کے امکانات مزیدبڑھ جائینگے۔پاکستان کی دفاعی صلاحیت اورعالمی اہمیت کے حوالے سے اگرجائزہ لیاجائے تو پاکستان ایک ایٹمی طاقت اورخطے کی اہم عسکری قوت ہے اسکے پاس 7لاکھ زمینی فوج،جدیداورآزمودہ فضائیہ جبکہ بحریہ بھی کسی سے کم نہیں جبکہ یہ سفارتی میدان کابھی شہسوارہے اس نے اپنی دفاعی صلاحیتوں کالوہاگزشتہ برس مئی میں بھارت کیخلاف منوایاہے جبکہ سفارتکار ی کا لوہاحالیہ ایران امریکہ جنگ میں پوری دنیاسے منواچکاہے۔ ترکیہ جدیددفاعی ٹیکنالوجی اورمضبوط دفاعی صنعت رکھتاہے اور یہ سلطنت عثمایہ کاوارث ہے۔ جبکہ سعودی عرب کے پاس خطے میں غیرمعمولی اقتصادی اورمالی وسائل موجودہیں اوریہ عالم اسلام کامذہبی مرکزہے۔ اس طرح تینوں ممالک کی صلاحیتیں ایکدوسرے کی تکمیل کرتی ہیں۔پاکستان کیلئے خاس طورپرترکیہ کے ساتھ دفاعی صنعتی تعاون انتہائی اہم ہے۔طیاروں،ڈرونز،بحری جہازوں،دفاعی الیکٹرانکس اوردیگرشعبوں میں مشترکہ منصوبے پاکستان کی اپنی دفاعی پیداوار کو مزید مضبوط بناسکتے ہیں۔یہ معاہدہ محض فوجی تعاون تک محدودنہیں ہوناچاہئے بلکہ یہ پاکستان کے سفارتی اثرورسوخ میں اضافے کاذریعہ بھی بن سکتاہے۔ پاکستان تاریخی طورپرسعودی عرب اورترکیہ دونوں کیساتھ قریبی تعلقات رکھتاہے۔اب اگراسلام آباد دونوں ممالک کے درمیان ایک مؤثر رابطہ اورتعاون کاپل بننے میں کامیاب ہوتاہے توخطے میں پاکستان کاسفارتی کردارمزیدمضبوط ہوسکتا ہے۔مزیداہم بات یہ ہے کہ پاکستانی حکام نے واضح کیاہے کہ یہ دفاعی معاہدہ کسی مخصوص ملک کیخلاف جارحیت نہیں بلکہ دفاعی نوعیت کاہے اور اس کا مقصد علاقائی سلامتی اور مشترکہ دفاع کومضبوط بناناہے۔معاہدے سے اگرخطے میں امن واستحکام پرپڑنے والے اثرات کاجائزہ لیا جائے تواس کاسب سے مثبت پہلویہ ہے کہ مضبوط دفاعی تعاون جنگ کاسبب بننے کی بجائے جنگ کوروکنے کاذریعہ بن سکتا ہے۔ جب ریاستیں ایکدوسرے کیساتھ کھڑی ہونے کاعزم ظاہرکرتی ہیں توممکنہ جارحیت کیخلاف ایک مضبوط پیغام جاتاہے۔ پاکستان کیلئے یہ خاص اہمیت کا حامل ہے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی میں دفاعی طاقت کیساتھ ساتھ امن،مذاکرات اورعلاقائی استحکام کوبھی ترجیح دیتاہے۔ اس معاہدے سے معاشی فوائدبھی ممکن ہیں، دفاعی تعاون کادائرہ اگرمناسب منصوبہ بندی کیساتھ آگے بڑھایاجائے تواسکے معاشی فوائدبھی سامنے آسکتے ہیں۔ پاکستان کے دفاعی صنعت کوسعودی عرب کی سرمایہ کاری اورترکیہ کی ٹیکنالوجی سے فائدہ مل سکتاہے۔ اس سے دفاعی پیداوار،روزگار، برآمدا ت اورجدید ٹیکنا لوجی کی حصول کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔پاکستان یقیناً اس دفاعی معاہدے کوصرف فوجی اتحادتک محدودرکھنے کاحامی نہیں بلکہ اسکی خواہش ہوگی کہ اسے دفاع،سفارتکاری،معیشت اورٹیکنالوجی کے اشتراک تک توسیع دی جائے۔ساتھ ہی پاکستان کیلئے ضروری ہے کہ اس معاہدے کوکسی دوسرے ملک کیخلاف محاذآرائی کاذریعہ نہ بننے دے۔پاکستان کے اپنے ہمسایہ ممالک خصوصاًایران کیساتھ برادارنہ تعلقات ہیں جبکہ چین کیساتھ ہمالیہ سے بلنددوستی کا مستحکم باب موجودہے۔ اسلئے اسلام آبادکیلئے متوازن اوردانشمندانہ سفارتکاری انتہائی ضروری ہے۔ ایران کے کچھ غیراہم راہنماؤں نے معاہدے کیخلاف بیانات جاری کئے ہیں مگرملکی قیادت کی جانب سے اس پرلب کشائی سے گریزکیاگیاہے۔تینوں ممالک کواگردرپیش خطرات کاجائزہ لیاجائے توترکیہ کردوں کیساتھ دیرینہ تنازعہ میں الجھاہواہے، سعودی عرب کویمنی حوثیوں اوراسرائیل سے خطرہ ہے جبکہ پاکستان کومشرق میں بھارت کے جارحانہ عزائم اورمغرب سے افغانستان میں موجوددہہشتگرد و ں سے خطرہ لاحق ہے تینوں ممالک کے دفاعی تعاون سے ان خطرات کی بیخ کنی کی جاسکتی ہے اور تدارک بھی ممکن بنائی جاسکتی ہے۔ بھارت جو گزشتہ برس کی جنگ میں شکست اورپاک ترکیہ تعاون سے شاکی ہے اسکے وزیرخارجہ نے ”ہم اس معاملے کودیکھ رہے ہیں ”کا بیان جاری کیا ہے مگراسکے دفاعی تجزیہ کاراسے بھارت کیلئے بڑاخطرہ قراردے رہے ہیں۔افغانستان میں موجوددہشتگردبھی معاہدے سے پریشانی کاشکارہوچکے ہیں جبکہ اسرائیل بھی منہ بسورنے اورجلنے کڑھنے کے روایتی مرض میں مبتلاہے۔تینوں ممالک کے درمیان یہ معاہدہ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیاکے امن واستحکام کاضمانت بن سکتاہے اگراس پرخلوص نیت سے عمل ہو۔تینوں ممالک کے دشمن اوربدخواہ معاہد ے کو اپنے نقطہ نظرکارنگ دینے کی کوششیں کرینگے مگرتینوں کوچاہئے کہ جیسے انہوں نے معاہدہ کرتے وقت کسی تیسرے کوبھنک نہ پڑنے دی اسی طرح معاندانہ روئیوں اوراعتراضات کوخاطرمیں نہ لاتے ہوئے آگے بڑھیں۔امت مسلمہ کواس قسم کے اتحادکی اشدضرورت تھی۔ گزشتہ نصف صدی سے مسلمان ممالک کوایک ایک کرکے تاخت وتاراج کیاجارہاہے۔اورہرملک کوبربادکرتے وقت دوسرے کودھمکی دی جاتی ہے کہ اگلی باری اسکی ہے جبکہ یہ آپس میں نفاق کے باعث کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔بعض تجزئے اسے اسلامی نیٹوسے تعبیرکر رہے ہیں۔فی الحال تویہ قیاس آرائی لگتی ہے مگریہ خارج ازامکان بھی نہیں منتشرامت مسلمہ کواپنی سلامتی کے معاملے پراکھٹاہوناپڑے گا۔ پاکستان، سعودی عرب اورترکیہ دفاعی معاہدے سے امت مسلمہ کی اتحاد،یکجہتی اورسلامتی پردوررس اثرات مرتب ہونگے۔

وائس آف کے پی اور اسکی پالیسی کا لکھاری کی رائے سے متفق ہوناضروری نہیں ہے۔

پاکستان، سعودی اورترکیہ دفاعی معاہدہ

Shopping Basket